3796 - نا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ بْنِ الْمُهْتَدِي بِاللَّهِ , نا الْوَلِيدُ بْنُ حَمَّادِ بْنِ جَابِرٍ الرَّمْلِيُّ , نا حُسَيْنُ بْنُ أَبِي السَّرِيِّ , نا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَعْيَنَ , نا حَفْصُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَسَدِيُّ , عَنِ الْكُمَيْتِ بْنِ زَيْدٍ , حَدَّثَنِي مَذْكُورٌ مَوْلَى زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ , عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ , قَالَتْ: خَطَبَنِي عِدَّةٌ مِنْ قُرَيْشٍ فَأَرْسَلَتْ أُخْتِي حَمْنَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْتَشِيرُهُ , فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَيْنَ هِيَ مِمَّنْ يُعَلِّمُهَا كِتَابَ رَبِّهَا وَسُنَّةَ نَبِيِّهَا؟» , قَالَتْ: وَمَنْ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ , قَالَ: «زَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ» , فَغَضِبَتْ حَمْنَةُ غَضَبًا [ص:462] شَدِيدًا , وَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتُزَوِّجُ ابْنَةَ عَمِّكَ مَوْلَاكَ؟ , قَالَتْ: وَجَاءَتْنِي فَأَخْبَرَتْنِي فَغَضِبْتُ أَشَدَّ مِنْ غَضَبِهَا وَقُلْتُ أَشَدَّ مِنْ قَوْلِهَا , فَأَنْزَلَ اللَّهُ {وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَلَا مُؤْمِنَةٍ إِذَا قَضَى اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَمْرًا أَنْ يَكُونَ لَهُمُ الْخِيَرَةُ مِنْ أَمْرِهِمْ} [الأحزاب: 36] فَأَرْسَلْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَوِّجْنِي مِمَّنْ شِئْتَ , فَزَوَّجَنِي زَيْدَ بْنَ حَارِثَةَ فَأَخَذْتُهُ بِلِسَانِي , فَشَكَانِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ: «أَمْسِكْ عَلَيْكَ زَوْجَكَ وَاتَّقِ اللَّهَ» وَذَكَرَ بَاقِيَ الْحَدِيثِ
سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں کہ مجھے بہت سے قریشیوں نے نکاح کا پیغام بھیجا، میں نے اپنی بہن حمنہ کو رسول اللہ صلى الله علیہ وسلم کی خدمت میں مشورہ طلب کرنے بھیجا، تو رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا: وہ اس شخص سے نکاح کیوں نہیں کر لیتی جو اسے اللہ رب العزت کی کتاب اور سنت نبویہ کی تعلیم دے؟ حمنہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! وہ کون ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: زید بن حارثہ۔ حمنہ رضی اللہ عنہ شدید ناراض ہوئیں اور کہنے لگیں: اے اللہ کے رسول! آپ اپنی چچازاد کا نکاح اپنے غلام سے کر رہے ہیں؟ زینب رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں کہ حمنہ میرے پاس آئی اور مجھے بتا یا تو میں اس سے بھی زیادہ ناراض ہوئی اور اس سے بھی سخت باتیں کیں ، تو الله تعالی نے یہ آیت نازل فرمادی:) وما لمومن ولا مؤمنۃ اذاقضی اللہ و رسولہ امرا ان یکون لھم الخیرۃ من امرھم ) ’اورکسی مومن مردو عورت کو اللہ اور اس کے رسول کے فیصلے کے بعد اپنے کسی معاملے کا کوئی اختیار باقی نہیں رہتا۔‘ تو میں نے رسول اللہ ﷺ کو پیغام بھیجا کہ آپ جس کے ساتھ چاہیں میری شادی کر دیں تو آپ ﷺ نے زید بن حارثہ ﷺ کے ساتھ میری شادی کر دی۔ میں ان کے ساتھ زبان درازی کرتی تو وہ رسول اللہ ﷺ سے میری شکایت کرتے ، آپ ﷺ فرماتے اپنی بیوی اپنے پاس روکے رکھو اور اللہ سے ڈرو۔ پھر باقی حدیث بیان کیا۔
وَمَنْ ← لَهَا رَسُولُ اللَّهِ «أَيْنَ هِيَ مِمَّنْ يُعَلِّمُهَا كِتَابَ رَبِّهَا وَسُنَّةَ نَبِيِّهَا؟» ← خَطَبَنِي عِدَّةٌ مِنْ قُرَيْشٍ فَأَرْسَلَتْ أُخْتِي حَمْنَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ أَسْتَشِيرُهُ ← زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ ← مَذْكُورٌ مَوْلَى زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ ← الْكُمَيْتِ بْنِ زَيْدٍ ← حَفْصُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَسَدِيُّ ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَعْيَنَ، ← حسين بن أبي السري ← الْوَلِيدُ بْنُ حَمَّادِ بْنِ جَابِرٍ الرَّمْلِيُّ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ بْنِ الْمُهْتَدِي بِاللَّهِ