3712 - نا أَبُو عِيسَى يَعْقُوبُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْوَهَّابِ الدُّورِيُّ , نا حَفْصُ بْنُ عَمْرٍو , نا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ , عَنْ هِشَامٍ , عَنْ عِكْرِمَةَ , عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ , أَنَّ هِلَالَ بْنَ أُمَيَّةَ قَذَفَ امْرَأَتَهُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَرِيكِ بْنِ السَّحْمَاءِ , فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْبَيِّنَةُ أَوْ حَدٌّ فِي ظَهْرِكَ» , فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِذَا رَأَى أَحَدُنَا الرَّجُلَ عَلَى امْرَأَتِهِ يَنْطَلِقُ يَلْتَمِسُ الْبَيِّنَةَ , قَالَ: فَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ: «الْبَيِّنَةُ وَإِلَّا فَحَدٌّ فِي ظَهْرِكَ» , قَالَ: فَقَالَ هِلَالُ بْنُ أُمَيَّةَ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ إِنِّي لَصَادِقٌ وَلَيُنْزِلَنَّ اللَّهُ فِي أَمْرِي مَا يُبَرِّئُ بِهِ ظَهْرِي مِنَ الْحَدِّ , قَالَ: فَنَزَلَ جِبْرِيلُ فَأُنْزِلَتْ عَلَيْهِ {وَالَّذِينَ يَرْمُونَ أَزْوَاجَهُمْ} [النور: 6] حَتَّى بَلَغَ {وَالْخَامِسَةَ أَنَّ غَضَبَ اللَّهِ عَلَيْهَا إِنْ كَانَ مِنَ الصَّادِقِينَ} [النور: 9] , قَالَ: فَانْصَرَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَرْسَلَ إِلَيْهِمَا , قَالَ: فَجَاءَ فَقَامَ هِلَالُ بْنُ أُمَيَّةَ فَشَهِدَ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ: «إِنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ أَنَّ أَحَدَكُمَا كَاذِبٌ فَهَلْ مِنْكُمَا مِنْ تَائِبٍ؟» , فَقَامَتْ فَشَهِدَتْ فَلَمَّا كَانَ عِنْدَ الْخَامِسَةِ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَقِّفُوهَا فَإِنَّهَا مُوجِبَةٌ» - قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: - فَتَلَكَّأَتْ وَنَكَصَتْ حَتَّى ظَنَنَّا [ص:420] أَنَّهَا سَتَرْجِعُ , ثُمَّ قَالَتْ: لَا أَفْضَحُ قَوْمِي سَائِرَ الْيَوْمِ , قَالَ: فَمَضَتْ فَفُرِّقَ بَيْنَهُمَا , قَالَ: وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَبْصِرُوهَا فَإِنْ هِيَ جَاءَتْ بِهِ» - قَالَ هِشَامٌ: أَحْسَبُهُ قَالَ مِثْلَ قَوْلِ مُحَمَّدٍ: - «فَإِنْ جَاءَتْ بِهِ أَكْحَلَ الْعَيْنَيْنِ سَابِغَ الْأَلْيَتَيْنِ مُدَمَلْجَ السَّاقَيْنِ فَهُوَ لِشَرِيكِ بْنِ سَحْمَاءَ» , قَالَ: فَجَاءَتْ بِهِ كَذَلِكَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوْلَا مَا مَضَى مِنْ كِتَابِ اللَّهِ لَكَانَ لِي وَلَهَا شَأْنٌ»
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ نے اپنی اہلیہ پر شریک بن سحماء کے ساتھ زنا کی تہمت لگائی تو نبی ﷺ نے فرمایا: گواه لا ؤ ورنہ تمہاری کمر پر حد لگے گی۔ ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! جب کوئی اپنی بیوی پر کسی مرد کو دیکھے تو کیا وہ گواہ ڈھونڈنے چلا جائے ؟ رسول الله ﷺ مسلسل فرماتے رہے کہ گواہ لاؤ ورنہ تمہاری کمر پر حد لگے گی۔ اس پر ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق دے کر بھیجا ہے۔ یقیناً میں سچا ہوں اور اللہ تعالی ضرور میری کمر کو بری قرار دیتے ہوئے میرے بارے میں قرآن نازل فرمائے گا۔ اسی اثناء میں جبرائیل علیہ السلام تشریف لائے اور آپ ﷺ پر یہ آیات نازل ہو گئیں :(والذین یرمون ازواجھم ولم یکن لھم شھداء الا انفسھم فشھادۃ احدھم اربع شھدات باللہ انہ لمن الصدقین ۔ والخامسۃ ان لعنت اللہ علیہ ان کان من الکذبین ۔ وید رواعنھا العذاب ان تشھد اربع شھدات باللہ انہ لمن الکذبین ۔ والخامسۃ ان عضب اللہ علیھا ان کان من الصدقین ) ’’اور جو لوگ اپنی بیویوں پر تہمت لگائیں اور ان کے پاس خود ان کے علاوہ اور کوئی گواہ نہ ہوں تو ان میں سے ہر ایک کی گواہی اللہ کی قسم کے ساتھ چار گواہیاں ہیں کہ بلاشبہ یقیناً وہ سچ بولنے والوں میں سے ہے۔ اور پانچویں ( بار یوں کہے گا ) کہ بلاشبہ اس پر اللہ کی لعنت ہو ، اگر وہ جھوٹوں میں سے ہو۔ اور اس (عورت) سے سزا کو یہ بات ہٹائے گی کہ وہ اللہ کی قسم کے ساتھ چار گواہیاں دے کہ یقینا ً وہ (مرد)جھوٹوں میں سے ہے۔ اور پانچویں ( مرتبہ یوں کہے (کہ بلا شبہ اس پر اللہ کا غضب ہو، اگر وہ (مرد) سچے لوگوں میں سے ہو۔" چنانچہ نبی ﷺ نے ان دونوں کو بلایا تو وہ حاضر ہو گئے۔ پھر ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ اٹھے اور گواہی دی، اور نبی ﷺ فرما رہے تھے، بلا شبہ اللہ تعالی جانتا ہے کہ تم میں سے ایک جھوٹا ہے، تو کیا تم توبہ کرتے ہو؟ لیکن عورت اٹھی اور اس نے بھی گواہی د ے دی ۔ جب پانچویں پر پہنچی تو نبی ﷺ نے فرمایا: اسے روکو ، یہ ( پانچویں گواہی ) واجب کردینے والی ہے (یعنی اس کے بعد تمہارا رشتہ قائم نہیں رہے گا اور جھوٹے پر اللہ کی لعنت ہو جائے گی)۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ عورت ذرا جھکی اور الٹے پاؤں لوٹی، یہاں تک کہ ہم سمجھے کہ وہ اپنے بیان سے پھر جائے گی ۔ لیکن وہ بولی: میں زمانے بھر میں اپنی قوم کو رسوا نہیں کروں گی اور یہ کہہ کر اس نے پانچویں گواہی بھی دے ڈالی ۔ چنانچہ رسول اللہ صلى الله علیہ وسلم نے ان کے درمیان تفریق کرا دی اور فرمایا: اس کو دیکھنا کہ اگر اس نے سر مئی آنکھوں والا، بڑے چوتڑوں والا اور موٹی رانوں والا بچہ جنم دیا تو وہ شریک بن سحما ء کا ہو گا۔ تو اس کے ہاں ایسا ہی بچہ پیدا ہوا۔ تب نبی ﷺ نے فرمایا: اگر اس بارے میں اللہ کا حکم نازل نہ ہو چکا ہوتا تو میں اس عورت کے ساتھ ضرور کچھ کرتا (یعنی اس پر زنا کی حد جاری کرتا)۔
عِكْرِمَةَ، ← هِشَامٍ ← ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، ← حَفْصُ بْنُ عَمْرٍو، ← أَبُو عِيسَى يَعْقُوبُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْوَهَّابِ الدُّورِيُّ