3703 - نا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ دِينَارٍ , نا أَبُو الْأَحْوَصِ الْقَاضِي , نا مُحَمَّدُ بْنُ عَائِذٍ , وَنا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْحِنَّائِيُّ , نا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ , نا مُحَمَّدُ بْنُ عَائِذٍ , نا الْهَيْثَمُ بْنُ حُمَيْدٍ , أَخْبَرَنِي ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ , عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ جَدِّهِ , أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ مِنْ بَنِي زُرَيْقٍ قَذَفَ امْرَأَتَهُ فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَدَّدَ ذَلِكَ عَلَيْهِ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ فَأَنْزَلَ اللَّهُ آيَةَ الْمُلَاعَنَةِ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَيْنَ السَّائِلُ قَدْ نَزَلَ مِنَ اللَّهِ أَمْرٌ عَظِيمٌ» , فَأَبَى الرَّجُلُ إِلَّا أَنْ يُلَاعِنَهَا , وَأَبَتْ إِلَّا أَنْ تَدْرَأَ عَنْ نَفْسِهَا الْعَذَابَ , فَتَلَاعَنَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَمَّا هِيَ تَجِيءُ بِهِ أُصَيْفِرَ أُخَيْنِسَ مَنْسُولَ الْعِظَامِ فَهُوَ لِلْمُلَاعِنْ , وَأَمَّا تَجِيءُ بِهِ أَسْوَدَ كَالْجَمَلِ الْأَوْرَقِ فَهُوَ لِغَيْرِهِ» , فَجَاءَتْ بِهِ أَسْوَدَ كَالْجَمَلِ الْأَوْرَقِ , فَدَعَا بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَعَلَهُ لِعَصَبَةِ أُمِّهِ , وَقَالَ: «لَوْلَا الْأَيْمَانُ الَّتِي مَضَتْ لَكَانَ لِي فِيهِ كَذَا وَكَذَا» لَفْظُهُمَا وَاحِدٌ
عمرو بن شعیب اپنے باپ سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ انصار کے قبیلہ بنور زریق کے ایک آدمی نے اپنی بیوی پر تہمت لگائی وہ نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور چار مرتبہ اس کا اظہار کیا۔ اللہ تعالیٰ نے آیت لعان نازل فرما دی ، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : وہ سائل کہاں ہے ؟ اللہ کی طرف سے ایک بڑا امر نازل ہو چکا ہے ۔ اس آدمی نے لعان کے سوا کسی بات کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا اور عورت نے بھ یخود کو سزا سے بچانے کے لیے انکار کر دیا۔ چنانچہ دونوں نے لعان کیا۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اگر یہ عورت زردی مائل رنگت چپٹی ناک والا اور چوڑی ہڈیوں والا بچہ جنم دے تع یہ لعان کرنے والے آدمی کا ہے اور اگر یہ گندمی رنگ کے اونٹ جیسا سیاہ بچہ جنم دے تو وہ کسی اور کا ہو گا۔ چنانچہ اس عورت نے گندمی اونٹ جیسا سیاہ بچہ جنم دیا ، تو رسول اللہ ﷺ نے سے عورت کے خاندان کے سپرد کرتے ہوئے فرمایا: اگر پہلے سے قسم نہ اٹھائی ہوتی تو میں اس بارے میں بڑا سخت معاملہ کرتا۔
جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ← ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ، ← الْهَيْثَمُ بْنُ حُمَيْدٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَائِذٍ، ← جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْحِنَّائِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَائِذٍ، ← أَبُو الْأَحْوَصِ الْقَاضِي، ← عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ دِينَارٍ