سنن دار القطنی · كِتَابُ النِّكَاحِ ‹ باب · حديث 3511
3511 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ النَّيْسَابُورِيُّ , نا أَحْمَدُ [ص:306] بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَهْبٍ , حَدَّثَنِي عَمِّي , حَدَّثَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ , عَنِ ابْنِ شِهَابٍ , عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ , عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَخْبَرَتْهُ " أَنَّ النِّكَاحَ كَانَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ عَلَى أَرْبَعَةِ أَنْحَاءٍ , فَنِكَاحُ النَّاسِ الْيَوْمَ يَخْطُبُ الرَّجُلُ إِلَى الرَّجُلِ ابْنَتَهُ فَيُصْدِقُهَا ثُمَّ يَنْكِحُهَا , قَالَ: وَنِكَاحٌ آخَرُ كَانَ الرَّجُلُ يَقُولُ لِامْرَأَتِهِ إِذَا طَهُرَتْ مِنْ طَلْعَتِهَا: أَرْسِلِي إِلَى فُلَانٍ فَاسْتَبْضِعِي مِنْهُ , وَاعْتَزَلَهَا زَوْجُهَا لَا يَمَسُّهَا أَبَدًا حَتَّى يَسْتَبِينَ حَمْلُهَا مِنْ ذَلِكَ الرَّجُلِ الَّذِي تَسْتَبْضِعُ مِنْهُ , فَإِذَا تَبَيَّنَ حَمْلُهَا أَصَابَهَا زَوْجُهَا إِذَا أَحَبَّ , وَإِنَّمَا يَصْنَعُ ذَلِكَ رَغْبَةً فِي نَجَابَةِ الْوَلَدِ , كَانَ هَذَا النِّكَاحُ يُسَمَّى نِكَاحَ الِاسْتِبْضَاعِ " , [ص:307] قَالَتْ: " وَنِكَاحٌ آخَرُ يَجْتَمِعُ الرَّهْطُ دُونَ الْعَشْرَةِ فَيَدْخُلُونَ عَلَى الْمَرْأَةِ كُلُّهُمْ يُصِيبُهَا , فَإِذَا حَمَلَتْ وَضَعَتْ وَمَرَّتْ لَيَالِي بَعْدَ أَنْ تَضَعَ حَمْلَهَا أَرْسَلَتْ إِلَيْهِمْ فَلَمْ يَسْتَطِعْ رَجُلٌ مِنْهُمْ أَنْ يَمْتَنِعَ حَتَّى يَجْتَمِعُوا عِنْدَهَا , فَتَقُولُ لَهُمْ: قَدْ عَرَفْتُمُ الَّذِي كَانَ مِنْ أَمْرِكُمْ , وَقَدْ وَلَدَتْهُ وَهُوَ ابْنُكَ يَا فُلَانُ , فَتُسَمِّي مَنْ أَحَبَّتْ مِنْهُمْ بِاسْمِهِ فَيُلْحَقُ بِهِ وَلَدُهَا لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَمْتَنِعَ مِنْهُ الرَّجُلُ , وَنِكَاحٌ رَابِعٌ يَجْتَمِعُ النَّاسُ الْكَثِيرُ فَيَدْخُلُونَ عَلَى الْمَرْأَةِ لَا تَمْتَنِعُ مِمَّنْ جَاءَهَا وَهُنَّ الْبَغَايَا , كُنَّ يَنْصِبْنَ عَلَى أَبْوَابِهِنَّ رَايَاتٍ تَكُنْ عَلَمًا , فَمَنْ أَرَادَهُنَّ دَخَلَ عَلَيْهِنَّ , فَإِذَا حَمَلَتْ إِحْدَاهُنَّ فَوَضَعَتْ حَمْلَهَا جَمَعُوا لَهَا وَدَعَوُا الْقَافَةَ لَهُمْ ثُمَّ أَلْحَقُوا وَلَدَهَا بِالَّذِي يَرَوْنَ، فَالْتَاطَهُ وَدَعَاهُ ابْنَهُ لَا يَمْتَنِعُ مِنْ ذَاكَ , فَلَمَّا بَعَثَ اللَّهُ مُحَمَّدًا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَقِّ هَدَمَ نِكَاحَ أَهْلِ الْجَاهِلِيَّةِ كُلِّهِ إِلَّا نِكَاحَ أَهْلِ الْإِسْلَامِ الْيَوْمَ " . [ص:308]
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں کہ زمانہ جاہلیت میں نکاح چار طرح سے ہوتا تھا۔ ان میں سے ایک نکاح کا طریقہ تو یہی تھا جو اب لوگوں میں جاری ہے، یعنی ایک شخص دوسرے شخص کے کا پیغام نکاح بھیجتا ہے اور وہ ( اپنی بیٹی ، بہن یا جو بھی ہو) اس کا مہر مقرر کرتا ہے اور پھر نکاح کر دیتا ہے۔ دوسرے نکاح کا طریقہ یہ تھا کہ عورت جب حیض سے فارغ ہو جاتی تو مرد اس سے کہتا کہ فلاں شخص کو بلا اور اس سے ہمبستری کر۔ اسی کے بعد اس کا خاوند اس سے الگ رہتا اور اس سے ہمبستری نہ کرتا ، یہاں تک کہ اس شخص کا حمل ظاہر ہو جاتا جس سے اس نے ہمبستری کی تھی، پھر جب معلوم ہو جا تا کہ وہ حاملہ ہو گئی ہے تو اس کا خاوند اگر چاہتا تو اس سے ہمبستری کرتا ، اور یہ طریقہ اسی لیے جاری کر رکھا تھا کہ اچھی نسل کے بچے حاصل کئے جائیں ۔ اس نکاح کو نکاح استبضاع کہا جاتا تھا۔ نکاح کا تیسرا طریقہ یہ تھا کہ آ ٹھ وس آدی ایک عورت کے پاس آیا جایا کرتے اور سب اس سے ہمبستری کرتے ، جب وہ حاملہ ہو جایا کرتی اور بچہ پیدا ہو جاتا تو چند روز کے بعد وہ سب کو بلا بھیجتی سب جمع ہو جاتے اور کوئی شخص آنے سے انکار نہیں کر سکتا تھا، جب سب آ جاتے تو وہ ان سے کہتی کہ تم سب اپنا حال جانتے ہو اور اب میرے ہاں بچے پیدا ہو چکا ہے اور یہ بچہ تم میں سے فلاں شخص کا ہے۔ وہ ان میں سے جس کا چاہتی نام دیتی اور وہ بچہ اس شخص کا قرار پاتا۔ اور چوتھی قسم کا نکاح تھا کہ بہت سے آدمی ایک عورت کے پا س جاتے (یعنی اس سے ہمبستری کرتے ) اور وہ کسی کو بھی ہمبستری سے نہ روکتی، ایسی عورتیں بغایا (طواتف ) کہلاتی تھیں، ان کے گھروں کے دروازوں پر جھنڈے لگے رہتے تھے، یہ ایسی بات کی علامت تھی کہ جو چاہے ان کے پاس (بہ غرض) جماع آ سکتا ہے۔ پھر جب وہ حاملہ ہوتی اور بچے کو جنم دیتی تو اس کے تمام آشنا اس کے پاس جمع ہوتے اور قیافہ شناش کو بلاتے ، پھر وہ جس کا بچہ کہہ دیتا وہ اسی کا قرار پاتا اور کوئی اس سے انکار نہیں کر سکتا تھا۔ جب اللہ تعالی نے حضرت محمد ﷺ نظر کو رسول بنا کر بھیجا تو آپ ﷺ کے ذریعے دور جاہلیت کے نکاحوں کے تمام طریقوں کو باطل قرار دے دیا سوائے اس طریقئہ نکاح کے جو آج کل اسلام میں رائج ہے۔
عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ أَخْبَرَتْهُ ← عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ ← عَمِّي، ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَهْبٍ، ← أَبُو بَكْرٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ النَّيْسَابُورِيُّ
Sunan Dar Al Qutni · The Marriage Book › Door · Hadith 3511
