سنن دار القطنی · كِتَابُ الْحُدُودِ وَالدِّيَاتِ وَغَيْرُهُ ‹ باب · حديث 3183
3183 - نا أَبُو حَامِدٍ مُحَمَّدُ بْنُ هَارُونَ الْحَضْرَمِيُّ , نا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ , نا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ , نا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ , عَنْ بَشِيرِ بْنِ يَسَارٍ , عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ , وَمُحَيِّصَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّهُمَا أَتَيَا خَيْبَرَ وَهِيَ يَوْمَئِذٍ صُلْحٌ , فَتَفَرَّقَا لِحَوَائِجِهِمَا , فَأَتَى مُحَيِّصَةُ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَهْلٍ وَهُوَ يَتَشَحَّطُ فِي دَمِهِ قَتِيلًا فَدَفَنَهُ ثُمَّ قَدِمَ الْمَدِينَةَ , وَانْطَلَقَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَهْلٍ وَحُوَيِّصَةُ وَمُحَيِّصَةُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَذَهَبَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَتَكَلَّمُ وَهُوَ أَحْدَثُ الْقَوْمِ سِنًّا , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كَبِّرِ الْكُبْرَ» فَسَكَتَ فَتَكَلَّمَا , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَتَحْلِفُونَ خَمْسِينَ مِنْكُمْ فَتَسْتَحِقُّوا دَمَ صَاحِبِكُمْ؟» , قَالُوا: «يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ نَحْلِفُ وَلَمْ نَشْهَدْ وَلَمْ نَرَ؟» , قَالَ: «أَتُبَرِّئُكُمْ يَهُودُ بِخَمْسِينَ؟» , قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ نَأْخُذُ أَيْمَانَ قَوْمٍ كَفَرُوا , فَعَقَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عِنْدِهِ . [ص:111]
بشیر بن یسار روایت کرتے ہیں کہ سیدنا سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ اور محیصہ بن مسعود رضی اللہ عنہ خیبر گئے، ان دنوں اہل خیبر صلح (کا معاہدہ) تھا۔ دونوں اپنے کام کے سلسلے میں ایک دوسرے سے جدا ہو گئے ( اور جب واپس آئے) تو محیصہ نے عبداللہ بن سہل کو خون میں لت پت مقتول پایا، انہوں نے اسے دفن کیا اور مدینہ چلے آئے۔ عبد الرحمٰن بن سہل ، حویصہ اور محیصہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ عبدالرحمٰن سب سے چھوٹے تھے، انہوں نے بات کرنا شروع کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا: کیا تم میں سے پچاس آدمی قسم کھانے کو تیار ہیں؟ پھر تم اپنے ساتھی کا قصاص لینے کے مستحق ہو گے۔ انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ! ہم قسم کیسے کھائیں جبکہ ہم وہاں موجود نہیں تھےاور نہ ہی ہم نے دیکھا ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا: کیا یہودی پچاس قسم کھا کر تم سے بری ہو سکتے ہیں؟ انہوں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ! ہم کافر لوگوں کی قسموں پر کیسے اعتبار کر سکتے ہیں؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے اپنے پاس سے اس کی دیت ادا فرما دی۔
سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ، ← بَشِيرِ بْنِ يَسَارٍ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ← عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، ← أَبُو حَامِدٍ مُحَمَّدُ بْنُ هَارُونَ الْحَضْرَمِيُّ
Sunan Dar Al Qutni · The Book of Hudud, Diyat and Others › Door · Hadith 3183
