3149 - نا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ إِمْلَاءً , نا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ الْجَوَازُ الْمَكِّيُّ , حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ قَدِمَ عَلَيْنَا فِي الْمَوْسِمِ سَنَةَ أَرْبَعٍ وَتِسْعِينَ وَمِائَةٍ , نا أَبُو عَمْرٍو الْأَوْزَاعِيُّ , نا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ , حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , [ص:88] حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ , قَالَ: لَمَّا فَتَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ قَامَ فِي النَّاسِ خَطِيبًا فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ , ثُمَّ قَالَ: «إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ حَبَسَ عَنْ مَكَّةَ الْفِيلَ , وَسَلَّطَ عَلَيْهَا رَسُولَهُ وَالْمُؤْمِنِينَ , وَإِنَّهَا لَمْ تُحَلَّ لِأَحَدٍ كَانَ قَبْلِي , وَإِنَّمَا أُحِلَّتْ لِيَ سَاعَةً مِنَ النَّهَارِ , وَإِنَّهَا لَا تَحِلُّ لِأَحَدٍ بَعْدِي , فَلَا يُنَفَّرُ صَيْدُهَا , وَلَا يُخْتَلَى شَجَرُهَا , وَلَا تَحِلُّ سَقْطَتُهَا إِلَّا لِمُنْشِدٍ , وَمَنْ قُتِلَ لَهُ قَتِيلٌ فَهُوَ بِخَيْرِ النَّظَرَيْنِ , أَوْ بِأَحَدِ النَّظَرَيْنِ» - الشَّكُّ مِنْ مُحَمَّدِ بْنِ مَنْصُورٍ - «إِمَّا أَنْ يُودِي , وَإِمَّا أَنْ يَقْتُلَ» , فَقَامَ الْعَبَّاسُ , فَقَالَ: إِلَّا الْإِذْخِرَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَإِنَّا نَجْعَلُهُ فِي بُيُوتِنَا وَقُبُورِنَا , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِلَّا الْإِذْخِرَ» , فَقَامَ أَبُو شَاهٍ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ , قَالَ: اكْتُبُوا لِي يَا رَسُولَ اللَّهِ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اكْتُبُوا لِأَبِي شَاهٍ». قَالَ الْوَلِيدُ: قُلْتُ لِلْأَوْزَاعِيِّ: مَا قَوْلُهُ: اكْتُبُوا لِي يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ , قَالَ: هَذِهِ الْخُطْبَةَ الَّتِي سَمِعَهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
. [ص:89]
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے مکہ فتح کیاتو آپ لوگوں میں خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے، اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کرنے کے بعد فرمایا: اللہ تعالیٰ نے ہاتھی والوں کہ مکہ سے روک دیا اور اس نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ و الہ وسلم اور مومنوں کہ غلبہ عطا فرمایا۔ مجھ سے پہلے کسی کے لیے بھی مکہ حلا ل نہیں تھا اور میرے لیے بھی دن کے کچھ وقت کے لیے ہی حلال ہوا تھا اور اب میرے بعد بھی کسی کے لیے حلال نہیں ہو گا، چنانچہ یہاں سے نہ شکار بھگایا جائے، نہ یہاں کے کانٹے ( درخت) کاٹے جائیں اور نہ ہی یہاں کی گری ہوئی چیز ( اٹھانا) کسی کے لیے حلال ہے ، سوائے اعلان کرنے والے کے ( یعنی جو شخص زمین پر گری ہوئی چیز اس ارادے سے اٹھائے کہ وہ اعلان وغیرہ کر کے یہ چیز اس کے مالک کو پہنچانے کی کوشش کرے گا) اور جس کا کوئی شخص قتل کر دیا جائے تو اسے دو باتوں میں سے ایک کا اختیار ہے ( راوی محمد بن منصور کو شک ہے کہ آپ نے بخیر النظرین کہا یا باحد النظرین کہا) یا دیت وصول کرلے یا اسے قصاص میں قتل کر دے۔ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے ( یہ سن کر) عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اذخر( بوٹی) کو مستثنیٰ فرما دیں ( یعنی اسے کاٹنے کی اجازت دے دیں) کیونکہ ہم اسے اپنے گھروں اور قبروں میں استعمال کرتے ہیں۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے ( اسے مستثنیٰ قرار دیتے ہوئے) فرمایا: سوائے اذخر کے۔ ( یعنی حرم کی حدود میں اسے کاٹنے کی اجازت ہے) ایک یمنی شخص ابو شاہ کھڑا ہوا اور اس نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ! مجھے یہ لکھوا دیں۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا ابو شاہ کو لکھ دو۔
أَبُو هُرَيْرَةَ ← أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← أَبُو عَمْرٍو الْأَوْزَاعِيُّ، ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ قَدِمَ عَلَيْنَا فِي الْمَوْسِمِ ← مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ الْجَوَّازُ الْمَكِّيُّ، ← أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ