3442 - نا أَبُو صَالِحٍ الْأَصْبَهَانِيُّ , نا الْحَسَنُ بْنُ أَبِي الرَّبِيعِ , نا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , أنا ابْنُ جُرَيْجٍ , أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ , أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الصَّامِتِ ابْنَ عَمِّ أَبِي هُرَيْرَةَ أَخْبَرَهُ , أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ , يَقُولُ: جَاءَ الْأَسْلَمِيُّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَشَهِدَ عَلَى نَفْسِهِ أَنَّهُ أَصَابَ امْرَأَةً حَرَامًا أَرْبَعَ مَرَّاتٍ , كُلَّ ذَلِكَ يُعْرِضُ عَنْهُ , فَأَقْبَلَ فِي الْخَامِسَةِ فَقَالَ كَلِمَةً: «أَنِكْتَهَا؟» , قَالَ: نَعَمْ , قَالَ: «حَتَّى غَابَ [ص:268] ذَلِكَ مِنْهَا كَمَا يَغِيبُ الْمِرْوَدُ فِي الْمُكْحُلَةِ , وَالرِّشَاءُ فِي الْبِئْرِ؟» , قَالَ: نَعَمْ , قَالَ: «هَلْ تَدْرِي مَا الزِّنَى؟» , قَالَ: نَعَمْ أَتَيْتُ مِنْهَا حَرَامًا مَا يَأْتِي الرَّجُلُ مِنَ امْرَأَتِهِ حَلَالًا , قَالَ: «فَمَا تُرِيدُ بِهَذَا الْقَوْلِ؟» , قَالَ: «أُرِيدُ أَنْ تُطَهِّرَنِي» , فَأَمَرَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرُجِمَ , فَسَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلَيْنِ مِنْ أَصْحَابِهِ يَقُولُ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ: انْظُرْ إِلَى هَذَا الَّذِي سَتَرَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَلَمْ تَدَعْهُ نَفْسُهُ حَتَّى رُجِمَ رَجْمَ الْكِلَابِ , فَسَكَتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ سَارَ سَاعَةً حَتَّى مَرَّ بِجِيفَةِ حِمَارٍ شَائِلٍ بِرِجْلِهِ , فَقَالَ: «أَيْنَ فُلَانٌ وَفُلَانٌ» , قَالَا: نَحْنُ ذَانِ يَا رَسُولَ اللَّهِ , قَالَ: «انْزِلَا فَكُلَا مِنْ جِيفَةِ هَذَا الْحِمَارِ» , قَالَا: يَا نَبِيَّ اللَّهِ غَفَرَ اللَّهُ لَكَ مَنْ يَأْكُلُ مِنْ هَذَا؟ , قَالَ: «مَا نِلْتُمَا مِنْ عِرْضِ أَخِيكُمَا آنِفًا أَشَدُّ مِنْ أَكْلِ الْمَيْتَةِ , وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّهُ الْآنَ لَفِي أَنْهَارِ الْجَنَّةِ يَنْغَمِسُ فِيهَا»
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اسلمی نبی صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اپنے خلاف ایک عورت کے ساتھ فعل حرام کا ارتکاب کی چار مرتبہ گواہی دی۔ نبی صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے ہر بار اس سے اعراض کرتے رہے، یہاں تک کہ جب وہ پانچویں مرتبہ آپ کے سامنے ہوا تو آپ نے پوچھا: کیا تو نے اس کے ساتھ دخول کیا ہے؟ اس نے عرض کیا: جی ہاں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا: کیا سرمچو کے سرمہ دانی میں اور ڈول کے کنویں میں غائب ہو جانے کی طرح؟ (یعنی کیا مکمل دخول ہو گیا تھا؟) اس نے کہا : جی ہاں۔توآپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے پوچھا: تم جانتے ہو کہ زنا کیا ہوتا ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں ، میں نے عورت کے ساتھ وہ حرام کام کیا ہے جو آدمی کا اپنی بیوی سے کرنا حلال ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے استفسار فرمایا: تم یہ بتا کر کیا چاہتے ہو؟ اس نے کہا: میں چاہتا ہوں کہ آپ مجھے پاک کر دیجئے۔ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کے حکم پر اسے رجم کر دیا گیا۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے اپنے دو صحابیوں کو باتیں کرتے سنا، ایک کہہ رہا تھا : اس شخص کو دیکھو ، اللہ نے اس کا عیب چھپا دیا تھا لیکن اس کے نفس نے کتوں کی طرح رجم ہونے تک اس کو نہ چھوڑا۔ نبی صلی اللہ علیہ و الہ وسلم خاموش رہے، پھر تھوڑا سا چلے کہ ایک مردار گدھے پاس سے گزرے جو ٹانگ اٹھائے مرا پڑاتھا۔ آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا: فلاں فلاں کہاں ہیں؟ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم حاضر ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا: یہاں بیٹھو اور اس مردہ گدھے کاگوشت کھاؤ۔انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اللہ آپ نے آپ کو مغفرت سے نوازا ہے ، بھلا اسے کون کھا سکتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا: ابھی تم نے اپنے (مسلمان )بھائی کی جو غیبت کی ہے وہ مردار کھانے سے بھی زیادہ بری ہے، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! وہ تو اس وقت جنت کی نہروں میں غوطے لگا رہا ہے۔
أَبُو الزُّبَيْرِ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← الْحَسَنُ بْنُ أَبِي الرَّبِيعِ ← أَبُو صَالِحٍ الْأَصْبَهَانِيُّ