3117 - نا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْحَسَنِ , نا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدُوسَ بْنِ كَامِلٍ , نا أَبُو بَكْرٍ , وَعُثْمَانُ ابْنَا أَبِي شَيْبَةَ , قَالَا: نا ابْنُ عُلَيَّةَ , عَنْ أَيُّوبَ , عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ , عَنْ جَابِرٍ , أَنَّ رَجُلًا طَعَنَ رَجُلًا بِقَرْنٍ فِي رُكْبَتِهِ , فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَقِيدُ , فَقِيلَ لَهُ: حَتَّى تَبْرَأَ , فَأَبَى وَعَجَّلَ فَاسْتَقَادَ , قَالَ: فَعَنَتَتْ رِجْلُهُ وَبَرِئَتْ رِجْلُ الْمُسْتَقَادِ مِنْهُ , فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ لَهُ: «لَيْسَ لَكَ شَيْءٌ إِنَّكَ أَبِيتَ». قَالَ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عُبْدُوسَ: مَا جَاءَ بِهَذَا إِلَّا أَبُو بَكْرٍ , وَعُثْمَانُ. [ص:73] قَالَ الشَّيْخُ: أَخْطَأَ فِيهِ ابْنَا أَبِي شَيْبَةَ , وَخَالَفَهُمَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ وَغَيْرُهُ , عَنِ ابْنِ عُلَيَّةَ , عَنْ أَيُّوبَ , عَنْ عَمْرٍو مُرْسَلًا , وَكَذَلِكَ قَالَ أَصْحَابُ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْهُ , وَهُوَ الْمَحْفُوظُ مُرْسَلًا.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے دوسرے آدمی کے گھٹنے میں سینگ چبھودیا ،وہ اس کا بدلہ لینے نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا سے کہا گیا جب تندرست ہو جاو تو بدلہ لے لینا ۔ اس نے فوراانکار کر دیا اور فورا بدلہ لینا چاہا،تو آپﷺ نے اسے بدلہ دلا دیا ۔ اس کی ٹانگ خراب ہو گئی اور جس سے بدلہ لیا ےتھا اس کی ٹانگ ٹھیک ہو گئی ۔ وہ نبی ﷺکی خدمت میں پیش ہواتو آپ ﷺنے اس سے فرمایا :تیرے لیے کچھ نہیں ہے تو نے بات ماننے سے انکار کر دیا تھا۔ابو احمد بن عبدوس فرماتے ہیں کہ یہ حدیث اس طرح صرف ابو بکر اور عثمان بیان کرتے ہیں ۔ اابو شیبہ کے دونوں بیٹوں نے اسے روایت کرنے میں غلطی کی ہے ۔ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ اور دیگر احباب نے ان کے خلاف بیان کیا اور انہوں نے ابن علیہ اور ایوب کے واسطے سے ایوب سے مرسل روایت کی ہے ۔ عمرو بن دینار کے شاگردوں نے بھی ان سے ایسے ہی روایت کیا ہے اور اس کا مرسل ہونا ہی صحیح ہے۔
جَابِرٍ ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← أَيُّوبَ، ← ابْنُ عُلَيَّةَ، ← أَبُو بَکْرٍ وَعُثْمَانُ ابْنَا أَبِي شَيْبَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبْدُوسَ بْنِ كَامِلٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْحَسَنِ