3403 - نا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْفَارِسِيُّ , نا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ , نا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , نا مَعْمَرٌ , عَنِ الزُّهْرِيِّ , عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: كَانَ رَجُلٌ أَسْوَدُ يَأْتِي أَبَا بَكْرِ فَيُدْنِيهِ وَيُقْرِئُهُ الْقُرْآنَ , حَتَّى بَعَثَ سَاعِيًا , أَوْ قَالَ سَرِيَّةً , فَقَالَ: أَرْسَلَنِي مَعَهُ , قَالَ: «بَلْ تَمْكُثُ عِنْدَنَا» , فَأَبَى , فَأَرْسَلَهُ مَعَهُ وَاسْتَوْصَاهُ بِهِ خَيْرًا , فَلَمْ يُغَبِّرْ عَنْهُ إِلَّا قَلِيلًا , حَتَّى جَاءَ قَدْ قُطِعَتْ يَدُهُ , فَلَمَّا رَآهُ أَبُو بَكْرٍ فَاضَتْ عَيْنَاهُ , فَقَالَ: «مَا شَأْنُكَ؟» , قَالَ: مَا زِدْتُ عَلَى أَنَّهُ كَانَ يُولِينِي شَيْئًا مِنْ عَمَلِهِ فَخُنْتُهُ فَرِيضَةً وَاحِدَةً فَقَطَعَ يَدَيَّ , فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: «تَجِدُونَ الَّذِي قَطَعَ هَذَا يَخُونُ أَكْثَرَ مِنْ عِشْرِينَ فَرِيضَةً , وَاللَّهِ لَئِنْ كُنْتَ صَادِقًا لَأُقَيِّدَنَّكَ [ص:246] بِهِ» , قَالَ: ثُمَّ أَدْنَاهُ وَلَمْ يُحَوِّلْ مَنْزِلَتَهُ الَّتِي كَانَتْ لَهُ مِنْهُ , قَالَ: فَكَانَ الرَّجُلُ يَقُومُ بِاللَّيْلِ يَقْرَأُ , فَإِذَا سَمِعَ أَبُوَ بَكْرٍ صَوْتَهُ , قَالَ: «بِاللَّهِ لَرَجُلُ قَطْعٍ هَذَا»، قَالَ: فَلَمْ يُغَبِّرْ إِلَّا قَلِيلًا حَتَّى فَقَدَ آلُ أَبِي بَكْرٍ حُلِيًّا لَهُمْ وَمَتَاعًا , فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: «طَرَقَ الْحَيِّ اللَّيْلَةَ» , فَقَامَ الْأَقْطَعُ فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ وَرَفَعَ يَدَهُ الصَّحِيحَةَ وَالْأُخْرَى الَّتِي قُطِعَتْ , فَقَالَ: اللَّهُمَّ أَظْهِرْ عَلَيَّ مَنْ سَرَقَهُمْ أَوْ نَحْوَ هَذَا - وَكَانَ مَعْمَرٌ رُبَّمَا قَالَ: اللَّهُمَّ أَظْهِرْ عَلَيَّ مَنْ سَرَقَ أَهْلَ هَذَا الْبَيْتِ الصَّالِحِينَ - قَالَ: فَمَا انْتَصَفَ النَّهَارُ حَتَّى عَثَرُوا عَلَى الْمَتَاعِ عِنْدَهُ , فَقَالَ لَهُ أَبُو بَكْرٍ: «وَيْلَكَ إِنَّكَ لَقَلِيلُ الْعِلْمِ بِاللَّهِ» , فَأَمَرَ بِهِ فَقُطِعَتْ رِجْلُهُ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں کہ ایک سیاہ رنگت کا آدمی سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا کرتا، آپ اسے اپنے قریب بٹھاتے اور قرآن پڑھاتے۔ آپ نے ایک عامل یا لشکر روانہ کیا تو اس نے عرض کیا: مجھے بھی ساتھ بھیج دیجئے۔ تو آپ نے فرمایا: تم ہمارے پاس ٹھہرو۔ اس نے انکار کیا تو آپ نے اسے بھیج دیا اور اسے نیکی کی وصیت فرمائی۔ تھوڑا عرصہ ہی گزرا تھا کہ وہ واپس آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس کا ہاتھ کٹا ہوا تھا۔ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے اسے دیکھا تو آپ کی آنکھوں سے آنسو بہہ پڑے، آپ نے اس سے پوچھا: کیا ہوا؟ اس نے کہا: میرا صرف اتنا قصور ہے کہ وہ مجھے کچھ کام کرنے کو کہتا تھا، میں نے صرف ایک ضروری کام میں کوتاہی کی تو اس نے میرا ہاتھ کاٹ دیا۔ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم دیکھو گے کہ اس کا ہاتھ کاٹنے والا خود بیس واجبات میں کوتاہی برتتا ہو گا، اللہ کی قسم ! اگر تو سچا ہے تو تجھے اس کا بدلہ ضرور دلاؤں گا۔ راوی کہتے ہیں : پھر آپ نے اسے اپنے قریب ٹھہرایا، اس کے گھر نہیں بھیجا۔ وہ آدمی رات کو قیام کرتا اور قرئت کرتا، سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے اس کی آواز سنی تو فرمایا: اللہ کی قسم اس شخص کو سزا دوں گا جس نے اس کا ہاتھ کاٹا ہے۔ راوی کہتے ہیں : تھوڑی دیر ہی گزری تھی کہ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: رات محلے میں کوئی (چور) آیا ہے۔ وہ ہاتھ کٹا شخص قبلہ رخ کھڑا ہو گیا اور اس نے اپنا سلامت اور کٹا ہوا ہاتھ اٹھا لیے وار دعا کرنے لگا: اے اللہ ! ان کا چور مجھ پر واضح فرما دے۔ معمر نے یہ الفاظ بھی بیان کیے ( کہ اس نے کہا:)اے اللہ ! اس نیک گھرانے کا چور مجھ پر واضح فرما دے۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ ابھی ادھا دن نہیں گزرا تھا کہ انہیں سامان اسی سے مل گیا۔ تو سیدنا ابو بکررضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا: تو ہلاک ہو! یقینا تو اللہ کے متعلق بہت کم علم رکھتا ہے۔ پھر آپ نے حکم دیا تو اس کا پاؤں کاٹ دیا گیا۔
عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْفَارِسِيُّ