3365 - حَدَّثَنَا بِهِ الْقَاضِي الْمَحَامِلِيُّ , نا الْعَبَّاسُ بْنُ يَزِيدَ , نا وَكِيعٌ , عَنْ سُفْيَانَ , عَنْ مَنْصُورٍ ,
عَنْ إِبْرَاهِيمَ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ: «دِيَةُ الْخَطَأِ أَخْمَاسًا». ثُمَّ فَسَّرَهَا كَمَا فَسَّرَهَا أَبُو عُبَيْدَةَ وَعَلْقَمَةُ عَنْهُ سَوَاءً , فَهَذِهِ الرِّوَايَةُ وَإِنْ كَانَ فِيهَا إِرْسَالٌ فَإِبْرَاهِيمُ النَّخَعِيُّ هُوَ أَعْلَمُ النَّاسِ بِعَبْدِ اللَّهِ وَبِرَأْيِهِ وَبِفُتْيَاهُ , قَدْ أَخَذَ ذَلِكَ عَنْ أَخْوَالِهِ عَلْقَمَةَ , وَالْأَسْوَدِ , وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ ابْنَيْ يَزِيدَ , وَغَيْرِهِمْ مِنْ كُبَرَاءِ أَصْحَابِ عَبْدِ اللَّهِ , وَهُوَ الْقَائِلُ: " إِذَا قُلْتُ لَكُمْ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ فَهُوَ عَنْ جَمَاعَةٍ مِنْ أَصْحَابِهِ عَنْهُ , وَإِذَا سَمِعْتُهُ مِنْ رَجُلٍ وَاحِدٍ سَمَّيْتُهُ لَكُمْ. وَوَجْهٌ آخَرُ: وَهُوَ أَنَّ الْخَبَرَ الْمَرْفُوعَ الَّذِي فِيهِ ذِكْرُ بَنِي الْمَخَاضِ لَا نَعْلَمُهُ رَوَاهُ إِلَّا خِشْفُ بْنُ مَالِكٍ , عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ وَهُوَ رَجُلٌ مَجْهُولٌ , وَلَمْ يَرْوِهِ عَنْهُ إِلَّا زَيْدُ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ حَرْمَلٍ الْجُشَمِيُّ , وَأَهْلُ الْعِلْمِ بِالْحَدِيثِ لَا يَحْتَجُّونَ بِخَبَرٍ يَنْفَرِدُ بِرِوَايَتِهِ [ص:227] رَجُلٌ غَيْرُ مَعْرُوفٍ , وَإِنَّمَا يَثْبُتُ الْعِلْمُ عِنْدَهُمْ بِالْخَبَرِ إِذَا كَانَ رُوَاتُهُ عَدْلًا مَشْهُورًا , أَوْ رَجُلٌ قَدِ ارْتَفَعَ اسْمُ الْجَهَالَةِ عَنْهُ , وَارْتِفَاعُ اسْمِ الْجَهَالَةِ عَنْهُ أَنْ يَرْوِيَ عَنْهُ رَجُلَانِ فَصَاعِدًا , فَإِذَا كَانَ هَذِهِ صِفَتُهُ ارْتَفَعَ عَنْهُ اسْمُ الْجَهَالَةِ وَصَارَ حِينَئِذٍ مَعْرُوفًا , فَأَمَّا مَنْ لَمْ يَرْوِ عَنْهُ إِلَّا رَجُلٌ وَاحِدٌ انْفَرَدَ بِخَبَرٍ وَجَبَ التَّوَقُّفُ عَنْ خَبَرِهِ ذَلِكَ حَتَّى يُوَافِقَهُ غَيْرُهُ , وَاللَّهُ أَعْلَمُ. وَوَجْهٌ آخَرُ: أَنَّ خَبَرَ خِشْفِ بْنِ مَالِكٍ لَا نَعْلَمُ أَنَّ أَحَدًا رَوَاهُ عَنْ زَيْدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْهُ إِلَّا حَجَّاجَ بْنَ أَرْطَاةَ , وَالْحَجَّاجُ فَرَجُلٌ مَشْهُورٌ بِالتَّدْلِيسِ وَبِأَنَّهُ يُحَدِّثُ عَنْ مَنْ لَمْ يَلْقَهُ وَمَنْ لَمْ يَسْمَعْ مِنْهُ , قَالَ أَبُو مُعَاوِيَةَ الضَّرِيرُ: قَالَ لِي حَجَّاجٌ: لَا يَسْأَلْنِي أَحَدٌ عَنِ الْخَبَرِ , يَعْنِي: إِذَا حَدَّثْتُكُمْ بِشَيْءٍ فَلَا تَسْأَلُونِي مَنْ أَخْبَرَكَ بِهِ , وَقَالَ يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي زَائِدَةَ: كُنْتُ عِنْدَ الْحَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ يَوْمًا فَأَمَرَ بِغَلْقِ الْبَابِ , ثُمَّ قَالَ: لَمْ أَسْمَعْ مِنَ الزُّهْرِيِّ شَيْئًا , وَلَمْ أَسْمَعْ مِنْ إِبْرَاهِيمَ , وَلَا مِنَ الشَّعْبِيِّ إِلَّا حَدِيثًا وَاحِدًا , وَلَا مِنْ فُلَانٍ , وَلَا مِنْ فُلَانٍ , حَتَّى عَدَّ سَبْعَةَ عَشَرَ أَوْ بَضْعَةَ عَشَرَ كُلُّهُمْ قَدْ رَوَى عَنْهُ الْحَجَّاجُ , ثُمَّ زَعَمَ بَعْدَ رِوَايَتِهِ عَنْهُمْ أَنَّهُ لَمْ يَلْقَهُمْ وَلَمْ يَسْمَعْ مِنْهُمْ , وَتَرَكَ الرِّوَايَةَ عَنْهُ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ , وَيَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ , وَعِيسَى بْنُ يُونُسَ بَعْدَ أَنْ جَالَسُوهُ وَخَبَّرُوهُ , وَكَفَاكَ بِهِمْ عِلْمًا بِالرِّجَالِ وَنُبْلًا , قَالَ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ: دَخَلْتُ عَلَى الْحَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ وَسَمِعْتُ كَلَامَهُ , فَذَكَرَ شَيْئًا أَنْكَرْتُهُ , فَلَمْ أَحْمِلْ عَنْهُ شَيْئًا , وَقَالَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ: رَأَيْتُ الْحَجَّاجَ بْنَ أَرْطَاةَ بِمَكَّةَ فَلَمْ أَحْمِلْ عَنْهُ شَيْئًا وَلَمْ أَحْمِلْ أَيْضًا عَنْ رَجُلٍ عَنْهُ كَانَ عَدَّهُ مُضْطَرِبًا , وَقَالَ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ: الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ لَا يُحْتَجُّ بِحَدِيثِهِ , وَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ: سَمِعْتُ الْحَجَّاجَ يَقُولُ: لَا يَنْبُلُ الرَّجُلُ حَتَّى يَدَعَ الصَّلَاةَ فِي الْجَمَاعَةِ , وَقَالَ عِيسَى بْنُ يُونُسَ: سَمِعْتُ الْحَجَّاجَ يَقُولُ: أَخْرُجُ إِلَى الصَّلَاةِ [ص:228] يُزَاحِمُنِي الْحَمَّالُونَ وَالْبَقَّالُونَ , وَقَالَ جَرِيرٌ: سَمِعْتُ الْحَجَّاجَ يَقُولُ: أَهْلَكَنِي حُبُّ الْمَالِ وَالشَّرَفِ. وَوَجْهٌ آخَرُ: وَهُوَ أَنَّ جَمَاعَةً مِنَ الثِّقَاتِ رَوَوْا هَذَا الْحَدِيثَ عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ فَاخْتَلَفُوا عَلَيْهِ فِيهِ , فَرَوَاهُ عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ , عَنْ حَجَّاجٍ عَلَى هَذَا اللَّفْظِ الَّذِيِ ذَكَرْنَا عَنْهُ , وَوَافَقَهُ عَلَى ذَلِكَ عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ , وَخَالَفَهُمَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ وَهُوَ مِنَ الثِّقَاتِ , فَرَوَاهُ عَنِ الْحَجَّاجِ , عَنْ زَيْدِ بْنِ جُبَيْرٍ , عَنْ خِشْفِ بْنِ مَالِكٍ , قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ يَقُولُ: قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْخَطَأِ أَخْمَاسًا: عِشْرُونَ جِذَاعًا , وَعِشْرُونَ بَنَاتِ لَبُونٍ , وَعِشْرُونَ بَنِي لَبُونٍ , وَعِشْرُونَ بَنَاتِ مَخَاضٍ , وَعِشْرُونَ بَنِي مَخَاضٍ ذُكُورٍ , فَجَعَلَ مَكَانَ الْحِقَاقِ بَنِي لَبُونٍ
ابراہیم رحمہ اللہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ قتل خطا کی دیت پانچ اجزا ء پر مشتمل ہو گی۔ پھر ابراہیم رحمہ اللہ نے اس کی تفسیر نقل کی جیسا کہ ابو عبیدہ اور علقمہ نے آپ سے بیان کی ہے۔ یہ روایت اگرچہ مرسل ہے لیکن ابراہیم رحمہ اللہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کو ، آپ کے مؤقف اور فتویٰ کو سب سے زیادہ جانتے ہیں ، یقیناً یہ بات انہوں نے اپنے معاصرین علقمہ ، زید کے دونوں بیٹوں اسودو عبدالرحمٰن اور سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے دیگر کبار تلامذہ سے لی ہے۔ ان کا کہنا ہے: جب میں تمہیں بتاؤں کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا تو وہ بات ان سے ایک جماعت کی بیان کردہ ہوتی ہے اور جب میں وہ بات کسی ایک آدمی سے سنی ہو تو میں تمہیں اس کا نام بتاؤں گا۔ دوسری بات یہ ہے کہ وہ مرفوع حدیث جس میں ایک سال کے نر اونٹوں کا ذکر ہے ، وہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے صرف خشف بن مالک نے روایت کی ہے اور خشف مجہول راوی ہے ۔ اس سے صرف زید بن جبیر بن حرمل جشمی روایت کرتا ہے حالانکہ محدثین کسی متفرد غیر معروف کی روایت سے حجت نہیں لیتے بلکہ ان کے ہان علم قطعی تو ایسی روایت سے ثابت ہوتا ہے جس کے رواۃ عاد ل اور مشہور ہوں، یا متفرد ہو تو اس پر جہالت کا عنصر ہو۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس سے دو یا دو سے زیادہ روایت کریں ، یوں اس سے جہالت ختم ہو جاتی ہے اور وہ راوی معروف ہو جاتا ہے۔ جس منفردراوی سے ایک ہی روایت کرنے والا ہو تو کسی دوسرے کے موافقت کرنے تک اس کی حدیث پر توقف کیا جاتا ہے، واللہ اعلم۔ ایک بات یہ ہے کہ ہمارے علم کے مطابق خشف بن مالک کی حدیث کو زید بن جبیر سے صرف حجاج بن ارطاۃ بیان کرتا ہے اور حجاج کی شہرت یہ ہے کہ وہ تدلیس کرتا ہے ، ایسے رواۃ سے نقل کرتا ہے جن سے اس کی ملاقات ہے نہ سماع ۔ ابو معاویہ ضریر کہتے ہیں: مجھے حجاج نے کہا کہ کوئی مجھ سے حدیث کے متعلق نہ پوچھے، یعنی جب میں تمہیں کوئی حدیث سناؤں تو مجھے سے یہ مت پوچھو کہ مجھے حدیث کس نے سنائی ۔ یحییٰ بن زکریا بن ابی زائدہ کہتے ہیں کہ ایک دن میں حجاج بن ارطاۃ کے پاس تھا کہ اس نے دروازہ بند کرنے کا کہا اور بتایا: میں نے امام زہری رحمہ اللہ سے کوئی حدیث نہیں سنی اور میں نے شعبی رحمہ اللہ سے صرف ایک حدیث سنی ہے ، فلاں فلاں سے کوئی حدیث نہیں سنی ، یہاں تک کہ سترہ یا انیس اشخاص شمار کیے ، حجاج نے ان سب سے روایت کیا اور روایت کرنے کے بعد کہا کہ اس نے ان احباب سے ملاقات کی ہے نہ سماع ، چنانچہ سفیان بن عیینہ ، یحیی ٰ بن سعید اور عیسیٰ بن یونس نے اس کے ساتھ مجلس کرنے اور اس کی چھان پھٹک کرنے کے بعد اس سے حدیث لینا چھوڑ دیا۔ علم الرجال کے سلسلے میں ان قد آور شخصیات کا تجزیہ آپ کے لیے کافی ہے ۔ سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں : میں حجاج بن ارطاۃ کے پاس گیا، اس کی باتیں سنیں ، اس نے کچھ عجیب باتیں کیں تو میں نے اس سے کوئی حدیث نہ لی۔ یحییٰ بن سعید القطان فرماتے ہیں : میں نے حجاج بن ارطاۃ کو مکہ میں دیکھا، میں نے اس سے کوئی حدیث نہیں لی اور نہ ہی اس شخص سے جس کا ذکر اس نے اضطراب کی کیفیت میں کیا تھا۔ یحییٰ بن معین فرماتے ہیں: حجاج بن ارطاۃ کی حدیث نہیں لی جائے گی۔ عبداللہ بن ادریس فرماتے ہیں : میں نے حجاج کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ آدمی جب تک باجماعت نماز ترک نہیں کرتا تب تک وہ بلند رتبے پر فائز نہیں ہوتا۔ عیسیٰ بن یونس فرماتے ہیں : میں نے حجاج بن ارطاۃ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں نماز پڑھتے نکلتا ہوں لیکن بوجھ اٹھانے والے اور سبزی فروش مجھے روک لیتے ہیں ، اور جریر فرماتے ہیں : میں نے حجاج کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ مال اور شرف کی محبت نے مجھے ہلاک کر دیا۔ ایک بات یہ بھی ہے کہ بہت سے ثقات نے یہ حدیث حجاج سے روایت کی ہے لیکن انہون نے اس سے روایت کرتے ہوئے اختلاف کیا ہے۔ عبدالرحیم بن سلیمان نے حجاج سے انہی مذکورہ الفاظ کے ساتھ نقل کی ہے ، عبدالواحد بن زیاد نے اس کی موافقت کی ہے۔ یحیی بن سعید اموی نے ان دونوں کی مخالفت کی ہے اور وہ ثقہ راوی ہیں ، انہوں نے یہ حدیث حجاج سے زید بن جبیر کے حوالے سی لی ہے کہ خشف بن مالک کا کہنا ہے: میں نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو بیان کرتے سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے قتل خطا میں (ان) پانچ اجزاء پر مشتمل دیت کا فیصلہ فرمایا: چار سال کی بیس مادہ اونٹنیاں، دو سال کی بیس مادہ انٹنیاں ، دو سال کے بیس مادہ اونٹ، ایک سال کی بیس مادہ اونٹنیاں اور ایک سال کے بیس نر اونٹ۔ یعنی انہوں نے تین سال کی مادہ اونٹنیوں کی بہ جائے دو سال کے نر اونٹ بیان کیے۔
عَبْدُ اللَّهِ ← إِبْرَاهِيمَ، ← مَنْصُورٌ، ← سُفْيَانَ، ← وَكِيعٌ، ← الْعَبَّاسَ بْنَ يَزِيدَ ← بِهِ الْقَاضِي الْمَحَامِلِيُّ،