3353 - نا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ , نا صَالِحُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ , نا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ , نا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ , أَخْبَرَنِي الْقَاسِمُ بْنُ فَيَّاضِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَيْدَةَ , حَدَّثَنِي خَلَّادُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ , أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ , يَقُولُ: بَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ النَّاسَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ إِذْ أَتَاهُ رَجُلٌ مِنْ بَنِي لَيْثِ بْنِ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ مَنَاةَ بْنِ كِنَانَةَ , فَتَخَطَّى النَّاسَ حَتَّى اقْتَرَبَ إِلَيْهِ , فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَقِمْ عَلَيَّ الْحَدَّ , قَالَ: فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اجْلِسْ» فَانْتَهَرَهُ , فَجَلَسَ ثُمَّ قَامَ الثَّانِيَةَ , فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَقِمْ عَلَيَّ الْحَدَّ , فَقَالَ: «اجْلِسْ» , فَجَلَسَ ثُمَّ قَامَ الثَّالِثَةَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَقِمْ عَلَيَّ الْحَدَّ , قَالَ: «وَمَا حَدُّكَ؟» , قَالَ: «أَتَيْتُ امْرَأَةً حَرَامًا» , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِرِجَالٍ مِنْ أَصْحَابِهِ , فَمِنْهُمْ عَلِيٌّ , وَعَبَّاسٌ , وَزَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ , وَعُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ , «انْطَلِقُوا بِهِ فَاجْلِدُوهُ» , وَلَمْ يَكُنِ اللَّيْثِيُّ تَزَوَّجَ , فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا تُجْلَدُ الَّتِي خَبَثَ بِهَا , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ائْتُونِي بِهِ مَجْلُودًا» , فَلَمَّا أُتِيَ بِهِ [ص:219] قَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ صَاحِبَتُكَ؟» , قَالَ: فُلَانَةُ , لِامْرَأَةٍ مِنْ بَنِي بَكْرٍ , فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهَا فَدَعَاهَا , فَسَأَلَهَا عَنْ ذَلِكَ , فَقَالَتْ: كَذَبَ وَاللَّهِ مَا أَعْرِفُهُ , وَإِنِّي مِمَّا قَالَ لَبَرِيَّةٌ , اللَّهُ عَلَى مَا أَقُولُ مِنَ الشَّاهِدِينَ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ شُهَدَاؤُكِ عَلَى أَنَّكَ خَبَثْتَ بِهَا , فَإِنَّهَا تُنْكِرُ أَنْ تَكُونَ خَابَثْتَهَا , فَإِنْ كَانَ لَكَ شُهَدَاءُ جَلَدْتُهَا , وَإِلَّا جَلَدْتُكَ حَدَّ الْفِرْيَةِ» , فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا لِي شُهُودٌ , فَأَمَرَ بِهِ فَجُلِدَ حَدَّ الْفِرْيَةِ ثَمَانِينَ جَلْدَةً
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم جمعے کے روز لوگوں سے خطاب فرما رہے تھے کہ بنو لیث بن بکر بن عبد منات کا ایک آدمی لوگوں کی گردنیں پھلانگتا ہوا آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کے قریب پہنچا اور بولا : اے اللہ کے رسول ! مجھ پر حد قائم کیجئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے اسے ڈانٹتے ہوئے فرمایا : بیٹھ جا۔ تو وہ بیٹھ گیا۔ لیکن دوبارہ کھڑا ہو گیا اور کہا: اے اللہ کے رسول ! مجھ پر حد قائم کیجئے۔ آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا : بیٹھ جاؤ۔ وہ بیٹھ گیا، لیکن تیسری مرتبہ پھر کھڑا ہو گیا اور بولا: اے اللہ کے رسول ! مجھ پر حد قائم کیجئے۔ آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے پوچھا : تو نے کیا گناہ کیا ہے ؟ اس نے کہا: میں نے حرام عورت سے تعلقات قائم کیے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے اپنے اصحاب کو حکم دیا کہ اسے لے جاؤ اور کوڑے لگاؤ۔ ان احباب میں سیدنا علی ، سیدنا عباس، سیدنا زید بن حارثہ اور سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ لیث قبیلے کے اس شخص کی شادی نہیں ہوئی تھی ، کہا گیا: اے اللہ کے رسول ! کیا اس عورت کو کوڑے نہیں لگنے چاہیئں جس نے اس کے ساتھ منہ کالا کیا ہے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا: اس شخص کو کوڑے لگا کر میرے پاس لاؤ۔ جب اسے نبی صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا: تیرے ساتھ کون تھی؟ اس نے بنو بکر کی ایک عورت کا بتاتے ہوئے کہا: فلاں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے اس کی طرف کچھ لوگ بھیج کر اسے طلب فرمایا، پھر اس سے اس واقعے کے متعلق پوچھا تو اس نے کہا: یہ جھوٹ بول رہا ہے، اللہ کی قسم! میں اسے جانتی ہی نہیں ہوں اوار اللہ گواہ ہے کہ تو نے اس سے بدکاری کی ہے جبکہ وہ تیرے ساتھ ایسا فعل کرنے کا انکار کر رہی ہے؟ اگر تیرے پاس گواہ ہیں تو میں اسے کوڑے لگاؤں گا، ورنہ تجھے بہتان تراشی کی سزا اسی ملے گی۔ اس شخص نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرےپاس گواہ نہیں ہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کے حکم سے اسے بہتان تراشی کی سزا اسی (80) کوڑے لگائے گئے۔
ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ، أَنَّهُ ← خَلَّادِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← الْقَاسِمُ بْنُ فَيَّاضِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَيْدَةَ ← هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ، ← عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ← صَالِحُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ