3344 - نا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ , نا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْعَلَّافُ , حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ , حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ فُلَيْحِ بْنِ سُلَيْمَانَ , حَدَّثَنِي ثَوْرُ بْنُ زَيْدٍ , عَنْ عِكْرِمَةَ , عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّ الشُّرَّابَ كَانُوا يُضْرَبُونَ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْأَيْدِي وَالنِّعَالِ وَبِالْعُصِيِّ , ثُمَّ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَانَ [ص:212] فِي خِلَافَةِ أَبِي بَكْرٍ أَكْثَرُ مِنْهُمْ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَكَانَ أَبُو بَكْرٍ يَجْلِدُهُمْ أَرْبَعِينَ حَتَّى تُوُفِّيَ , فَكَانَ عُمَرُ مِنْ بَعْدِهِ فَجَلَدَهُمْ أَرْبَعِينَ كَذَلِكَ , حَتَّى أُتِيَ بِرَجُلٍ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ الْأَوَّلِينَ وَقَدْ شَرِبَ , فَأَمَرَ بِهِ أَنْ يُجْلَدَ , فَقَالَ: لِمَ تَجْلِدُنِي؟ بَيْنِي وَبَيْنَكَ كِتَابُ اللَّهِ , فَقَالَ عُمَرُ: وَأَيُّ كِتَابِ اللَّهِ تَجِدُ أَنْ لَا أَجْلِدَكَ , فَقَالَ لَهُ: إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ فِي كِتَابِهِ: {لَيْسَ عَلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جُنَاحٌ فِيمَا طَعِمُوا} [المائدة: 93] الْآيَةَ , فَأَنَا مِنَ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ ثُمَّ اتَّقَوْا وَآمَنُوا ثُمَّ اتَّقَوْا وَأَحْسِنُوا , وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ , شَهِدْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَدْرًا , وَأُحُدًا , وَالْخَنْدَقَ , وَالْمَشَاهِدَ , فَقَالَ عُمَرُ: أَلَا تَرُدُّونَ عَلَيْهِ مَا يَقُولُ؟ , فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: " إِنَّ هَؤُلَاءِ الْآيَاتِ أُنْزِلَتْ عُذْرًا لِلْمَاضِينَ وَحَجَّةً عَلَى الْمُنَافِقِينَ؛ لِأَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ} [المائدة: 90] الْآيَةَ , ثُمَّ قَرَأَ حَتَّى أَنْفَذَ الْآيَةَ الْأُخْرَى , فَإِنْ [ص:213] كَانَ مِنَ: {الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ} [المائدة: 93] الْآيَةَ , فَإِنَّ اللَّهَ قَدْ نَهَاهُ أَنْ يَشْرَبَ الْخَمْرَ , فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: صَدَقْتَ , مَاذَا تَرَوْنَ؟ , قَالَ عَلِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: إِنَّهُ إِذَا شَرِبَ سَكِرَ , وَإِذَا سَكِرَ هَذِيَ , وَإِذَا هَذِيَ افْتَرَى , وَعَلَى الْمُفْتَرِي ثَمَانُونَ جَلْدَةً، فَأَمَرَ بِهِ فَجُلِدَ ثَمَانِينَ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ رووایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کے زمانے میں شراب خور کو ہاتھوں ، جوتوں اور چھڑیوں سے پیٹا جاتا تھا، یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم رحلت فرما گئے۔ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کی خلافت میں شراب خوروں کی تعداد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کے زمانے سے زیادہ ہو گئی، تو سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ شراب خوروں کو چالیس کوڑے لگواتے رہے، یہاں تک کہ ان کا انتقال ہو گیا۔ ان کے بعد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ منصب خلافت پر متمکن ہوئے تو وہ بھی اسی طرح چالیس کوڑے لگواتے رہے، یہاں تک کہ ان کے پاس اولین مہاجرین میں سے ایک آدمی لایا گیا جس نے شراب پی تھی، آپ نے اسے کوڑے لگانے کا حکم دیا تو اس نے کہا: آپ مجھے کوڑے کیوں مار رہے ہیں؟ حالانکہ میرے اور آپ کے مابین فیصلہ کن اللہ کی کتاب موجود ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کتاب اللہ کے کس حصے میں تم یہ بات پاتے ہو کہ میں تجھے کوڑے نہ ماروں؟ اس نے کہا: اللہ تعالیٰ اپنی کتاب میں فرماتا ہے: لیس علی الذین آمنواوعملو الصالحات جناح فیما طعمو ا " جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کیے ، انہوں نے پہلے جو کچھ کھایا پیا تھا اس پر کوئی گرفت نہیں ہے، بشرطیکہ وہ آئندہ ان چیزوں سے بچے رہیں جو حرام کی گئی ہیں ، اور ایمان پر ثابت قدم رہیں اور اچھے کام کریں، پھر جس جس چیز سے روکا جائے اس سے رکیں، اور جو فرمان الہی ہو اسے مانیں ، پھر خدا ترسی کے ساتھ نیک رویہ رکھیں، اللہ تعالیٰ نیک کردار لوگوں کو پسند کرتا ہے۔" لہذا میں ان لوگوں میں سے ہوں جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے، پھر جس جس چیز سے روکا گیا تھا اس سے رکے رہے ، اور جنہوں نے فرمان الہی کو مانا، پھر خدا ترسی کے ساتھ نیک رویہ رکھا، یقیناً اللہ تعالیٰ نیک کردار لوگوں کو پسند کرتا ہے۔ نیز میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کے ہمراہ غزوہ بدر، حدیبیہ ، خندق اور دوسرے غزوات میں شریک ہوا ہوں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا تم اس کی بات کا جواب نہیں دے سکتے؟ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یہ آیات گذشتہ لوگوں کے لیے عذر ہیں اور موجودہ لوگوں پر حجت ہیں، کیونکہ اللہ عزوجل فرماتا ہے: یا ایہا الذین آمنو انما الخمر والمیسر " اے ایمان والو! شراب ، جو ا، بت اور پانسے ناپاک اور شیطانی کام ہیں ، سو تم ان سے بچتے رہنا تاکہ تم فلاح پاؤ۔" یہ آیت پڑھنے کے بعد دوسری آیت پڑھی : الذین آمنو ا وعملوا الصالحات" جو ایمان لائے اور نیک کام کئے۔۔۔۔ الخ " اللہ تعالی نے شراب خوری سے منع فرمادیا ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہم دیکھتے ہیں کہ جب کوئی شراب پیتا ہے تو اس کو نشہ چڑھ جاتا ہے، جب نشہ چڑھتا ہے تو وہ بکواس کرتا ہے، جب بکواس کرتا ہے تو الزام تراشی کرتا ہے اور الزام تراشی کی سزا اسی ( 80) کوڑے ہیں ۔ چنانچہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے حکم پر اس شخص کو اسی (80) کوڑے لگائے گئے۔
ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ، ← يَحْيَى بْنُ فُلَيْحِ بْنِ سُلَيْمَانَ ← سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ ← يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْعَلَّافُ، ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ