3251 - نا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ بْنِ الْمُهْتَدِي , نا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ رِشْدِينَ , نا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى الْحِمْيَرِيُّ , نا الْحَكَمُ بْنُ عَبْدَةَ , عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ , عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ الْعَدَوِيِّ , عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ , قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ النَّهْرَوَانِ كُنَّا مَعَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ دُونَ النَّهَرِ , فَجَاءَتِ الْحَرُورِيَّةُ حَتَّى نَزَلُوا مِنْ وَرَائِهِ , قَالَ عَلِيٌّ: لَا تُحَرِّكُوهُمْ حَتَّى يُحْدِثُوا حَدَثًا , فَانْطَلَقُوا إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَبَّابٍ , فَقَالُوا: حَدِّثْنَا حَدِيثًا حَدَّثَكَ بِهِ أَبُوكَ سَمِعَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي , أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: حَدَّثَنِي: «تَكُونُ فِتْنَةٌ الْقَاعِدُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الْقَائِمِ , وَالْقَائِمُ خَيْرٌ مِنَ السَّاعِي». فَقَدَّمُوهُ إِلَى النَّهَرِ فَذَبَحُوهُ كَمَا تُذْبَحُ الشَّاةُ , فَأُتِيَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَأُخْبِرَ , فَقَالَ: اللَّهُ أَكْبَرُ , نَادُوهُمْ أَنْ أَخْرِجُوا إِلَيْنَا قَاتَلَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَبَّابٍ , فَقَالُوا: كُلُّنَا قَتَلَهُ , ثَلَاثَ مَرَّاتٍ , فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لِأَصْحَابِهِ: دُونَكُمُ الْقَوْمُ , فَمَا لَبِثَ أَنْ قَتَلَهُمُ عَلِيٌّ وَأَصْحَابُهُ , وَذَكَرَ بَاقِيَ الْحَدِيثِ
ابو الا حوص بیان کرتے ہیں کہ نہروان کی جنگ کے روز ہم سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ہمراہ نہر کے قریب تھے کہ خارجی آئے اور انہوں نے آپ کے پیچھے پڑاؤ ڈال لیا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : جب تک وہ کچھ نہیں کرتے تم کوئی حرکت نہ کرنا۔ خارجی سیدنا عبداللہ بن خباب رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور کہنے لگے: ہمیں کوئی ایسی حدیث سناؤ جو تمہارے والد نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم سے سن کر تمہیں بیان کی ہو۔ انہوں نے کہا : مجھے میرے والد نے بیان کیا کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کو یہ فرماتے سنا: ایسا فتنہ برپا ہو گا جس میں بیٹھا آدمی کھڑے سے بہتر ہو گا اور کھڑا آدمی بھاگنے والے سے بہتر ہوگا۔ انہوں نے سیدنا عبداللہ کو نہر کی طرف لے جا کر بکری کی طرح ذبح کر ڈالا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو اس کی خبر ملی تو آپ نے نعرہ تکبیر لگایا اور فرمایا: ان سے کہو کہ عبداللہ بن خباب کے قاتل کو ہمارے حوالے کر دیں۔ خارجیوں نے تین بار کہا: ہم سب نے اس کو قتل کیا ہے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا : ان لوگوں کو ختم کر دو۔ تھوڑی ہی دیر میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور آپ کے اصحاب نے ان کا خاتمہ کر دیا۔ راوی نے بقیہ حدیث بیان کی۔
أَبِي الْأَحْوَصِ، ← حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ الْعَدَوِيِّ، ← اَیُّوْبَ السَّخْتِیَانِیِّ ← الحكمُ بنُ عبدةَ، ← زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى الْحِمْيَرِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ رِشْدِينَ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ بْنِ الْمُهْتَدِي