سنن دار القطنی · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ باب · حديث 3039
3039 - ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ , ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدٍ الْأَحْوَلُ , نا عُبَيْدُ اللَّهِ الْقَوَارِيرِيُّ , نا يُوسُفُ بْنُ يَزِيدَ أَبُو مَعْشَرٍ الْبَرَاءُ , نا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ الْأَخْنَسِ , عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ , عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ , أَنَّ نَفَرًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرُّوا بِحَيٍّ مِنْ أَحْيَاءِ الْعَرَبِ وَفِيهِمْ لَدِيغٌ أَوْ سَلِيمٌ , فَقَالُوا: هَلْ فِيكُمْ مِنْ رَاقٍ؟ , فَانْطَلَقَ رَجُلٌ مِنْهُمْ فَرَقَاهُ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ عَلَى شَاءٍ فَبَرَأَ , فَجَاءَ إِلَى أَصْحَابِهِ بِالشَّاءِ فَقَالُوا: أَخَذْتَ عَلَى كِتَابِ اللَّهِ أَجْرًا , فَلَمَّا قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَخَذَ عَلَى كِتَابِ اللَّهِ أَجْرًا , قَالَ [ص:28] الرَّجُلُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا مَرَرْنَا بِحَيٍّ مِنْ أَحْيَاءِ الْعَرَبِ فِيهِمْ لَدِيغٌ أَوْ سَلِيمٌ فَانْطَلَقْتُ فَرَقَيْتُهُ بِكِتَابِ اللَّهِ عَلَى شَاءٍ فَبَرَأَ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ أَحَقَّ مَا أَخَذْتُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا كِتَابُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ». هَذَا صَحِيحٌ , أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ , عَنْ سَيْدَانَ بْنِ مُضَارِبٍ , عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ الْبَرَاءِ , بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کی ایک جماعت عرب کے ایک قبیلے کے پاس سے گزری (قبیلے کے ) لوگوں میں ایک آدمی کو کسی موذی جانور نے ڈس لیا تھا ، یا (کہا کہ ) اسے زہر چڑھ گئی تھی ۔ تو انہوں نے پوچھا کیا تم میں کوئی دم کرنے والا ہے ؟ تو صحابہ رضی اللہ عنہم میں سے ایک آدمی گیا اور اس نے اس کو بکیروں کے معاوضے پر سورت الفاتحہ پڑھ کر دم کیا تو وہ شفا یاب ہو گیا پھر وہ بکریاں لے کر اپنے ساتھیوں کے پاس آیا تو انہوں نے کہا کیا تم نے کتاب اللہ پر اجرت وصول کی ہے ؟ پھرجب وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے تو انہوں نےکہا اے اللہ کے رسول ! اس نے کتاب اللہ پر اُجرت لی ہے تو اس آدمی نے کہا : اے اللہ کے رسول ! ہم عرب کے ایک قبیلے کے پاس سے گزرے جن میں ایک آدمی کو کسی جانور نے ڈسا ہوا تھا یا کہا کہ اسے زہر چڑھ گیا تھا تو میں نے جا کر اسے بکریوں کے معاوضے پر کتاب اللہ ( کی ایک سورت ) کے ساتھ دم کر دیا و وہ شفا یاب ہو گیا ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یقینا جن امور پر تم اجرت لیتے ہو ان سب سے یادہ حق کتاب اللہ کا ہے ۔ یہ روایت صھیح ہے ۔ا مام بخاری رحمہ اللہ نے اس کو سیدان بن مضارب سے اور انہوں نے ابی معشر البراء سے اسی اسناد کے ساتھ اسی کے مثل ہی بیان کیا ہے ۔
Sunan Dar Al Qutni · The Book of Sales › Door · Hadith 3039
