سنن دار القطنی · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ باب · حديث 3027
3027 - ثنا عَلِيٌّ , نا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ , نا بُنْدَارٌ , نا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ , نا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ , نا يَزِيدُ بْنُ أَسْلَمَ , قَالَ: رَأَيْتُ شَيْخًا بِالْإِسْكَنْدَرِيَّةِ يُقَالُ لَهُ سُرَّقٌ , فَقُلْتُ: «مَا هَذَا الِاسْمُ؟» , فَقَالَ: اسْمٌ سَمَّانِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَنْ أَدَعَهُ , قُلْتُ: لِمَ سَمَّاكَ؟ , قَالَ: قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَأَخْبَرْتُهُمْ أَنَّ مَالِي يَقْدُمُ فَبَاعُونِي فَاسْتَهْلَكْتُ أَمْوَالَهُمْ , فَأَتَوْا بِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ لِي: «أَنْتَ سُرَّقٌ» , [ص:21] وَبَاعَنِي بِأَرْبَعَةِ أَبْعِرَةٍ , فَقَالَ الْغُرَمَاءُ لِلَّذِي اشْتَرَانِي: مَا تَصْنَعُ بِهِ؟ , قَالَ: أُعْتِقُهُ , قَالُوا: فَلَسْنَا بِأَزْهَدَ مِنْكَ فِي الْأَجْرِ , فَأَعْتَقُونِي بَيْنَهُمْ وَبَقِيَ اسْمِي
یزید بن اسلم بیان کرتے ہین کہ میں اسکندر یہ کے ایک بزرگ کو دیکھا جن کا نام " سرق " تھا میں نے پوچھا یہ کیسا نام ہے ؟ تو انہوں نے کہا کہ میرا یہ نام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکھا تھا اور میں اسے ہر گز نہیں چھوڑ سکتا ۔میں نےپوچھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نام آپ کا کیوں رکھا تھا ؟ تو انہوں نے بتلایا کہ میں مدینہ آیااور لوگوں کو بتلایا کہ میرا مال آرہا ہے چنانچہ انہوں نےمجھ سے خریدو فروخت کر لی لیکن بعد میں مجھ سے ان کے اموال ( یعنی جو انہیں قیمیتں ادا کرنا تھیں وہ ) ضائع ہو گئے ۔ وہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا تم سرق ہو ۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے چار اونٹینوں کے عوض فروخت کر دیا پھر قرض خواہوں نے اس شخص سے کہ جس نے مجھے خریدا تھا پوچھا تم اس کا کیا کروگے؟ اس نے کہا میں اسے آزاد کردوں گا۔ تو انہوں نے کہا اجرو ثواب پانے کے معاملے میں ہم تجھ سے پیچھے نہیں رہ سکتے ۔ لہذا انہوں نے مجھے آزاد کر دیا اور میرا نام باقی رہ گیا ۔
يزيد بن أسلم ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ← عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، ← بُنْدَارٌ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ← عَلِيٍّ،
Sunan Dar Al Qutni · The Book of Sales › Door · Hadith 3027
