3024 - ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُبَشِّرٍ , نا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ , نا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ , نا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ , عَنْ ثَابِتٍ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ , قَالَ: وَفَدْنَا إِلَى مُعَاوِيَةَ وَمَعَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ قَالَ: فَكَانَ الرَّجُلُ مِنَّا يَصْنَعُ [ص:18] الطَّعَامَ يَدْعُو أَصْحَابَهُ هَذَا يَوْمًا وَهَذَا يَوْمًا , قَالَ: فَلَمَّا كَانَ يَوْمِي قُلْتُ: يَا أَبَا هُرَيْرَةَ حَدِّثْنَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى يُدْرَكَ طَعَامُنَا , قَالَ: فَقَالَ: " كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْفَتْحِ فَجَعَلَ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ عَلَى إِحْدَى الْمُجَنِّبَتَيْنِ , وَجَعَلَ الزُّبَيْرَ عَلَى الْأُخْرَى , وَجَعَلَ أَبَا عُبَيْدَةَ عَلَى السَّاقَةِ فِي بَطْنِ الْوَادِي , قَالَ: ثُمَّ قَالَ لِي: «يَا أَبَا هُرَيْرَةَ ادْعُ لِيَ الْأَنْصَارَ» , قَالَ: فَدَعَوْتُهُمْ فَجَاءُوا يُهَرْوِلُونَ , قَالَ: فَقَالَ: «يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ هَذِهِ أَوْبَاشُ قُرَيْشٍ , فَإِذَا لَقِيتُمُوهُمْ غَدًا فَاحْصُدُوهُمْ حَصْدًا , ثُمَّ مَوْعِدُكُمُ الصَّفَا» , قَالَ: وَأَشَارَ بِيَدِهِ , فَلَمَّا كَانَ مِنَ الْغَدِ لَمْ يُشْرِفْ لَهُمْ أَحَدٌ إِلَّا أَنَامُوهُ , قَالَ: وَفَتَحَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَتَى الصَّفَا فَقَامَ عَلَيْهِ , فَجَاءَهُ أَبُو سُفْيَانَ , قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُبِيحَتْ خَضْرَاءُ قُرَيْشٍ فَلَا قُرَيْشَ بَعْدَ الْيَوْمِ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ دَخَلَ دَارَ أَبِي سُفْيَانَ فَهُوَ آمِنٌ , وَمَنْ أَغْلَقَ بَابَهُ فَهُوَ آمِنٌ , وَمَنْ أَلْقَى سِلَاحَهُ فَهُوَ آمِنٌ» , قَالَ: فَقَالَتِ الْأَنْصَارُ: أَمَّا الرَّجُلُ فَقَدْ أَخَذَتْهُ رَأْفَةٌ بِعَشِيرَتِهِ وَرَغْبَةٌ فِي قَرْيَتِهِ , وَنَزَلَ الْوَحْي عَلَى نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِكَ , فَقَالَ: " يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ قُلْتُمْ: أَمَّا الرَّجُلُ فَقَدْ أَخَذَتْهُ رَأْفَةٌ بِعَشِيرَتِهِ وَرَغْبَةٌ فِي قَرْيَتِهِ , كَلَّا أَنَا [ص:19] عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ , هَاجَرْتُ إِلَى اللَّهِ وَإِلَيْكُمْ , وَالْمَحْيَا مَحْيَاكُمْ , وَالْمَمَاتُ مَمَاتُكُمْ " , فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا قُلْنَا إِلَّا ضَنًّا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ , فَقَالَ: «إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى وَرَسُولَهُ يُصَدِّقَانِكُمْ وَيَعْذِرَانِكُمْ»
عبداللہ بن ابی رباح بیان کرتے ہیں کہ ہم وفد کی صورت میں معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ہمارے ساتھ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بھی تھے ہم میں سے ایک آدمی کھانا تیار کیا کرتا تھا اور اپنے ساتھیوں کو (کھانے کے لیے ) بلاتا ( کھانا تیار کرنے کی ) اس دن فلاں کی باری تھی اور اس دن فلاں کی ۔ جس دن میری باری تھی تو میں نے کہا: اے ابو ہریرہ ! مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث بیان کیجئے یہاں تک کہ ہمارا کھانا تیار ہو جائے ۔ تو وہ بیان کرنے لگے کہ فتح مکہ کے روز میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو بازوؤں میں سے ایک پر خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو مقرر کیا اور دوسرے پر زبیر رضی اللہ عنہ کو اور ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کو گھاٹی کے درمیان میں پیچھے چلنے والوں پر مقرر کیا ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا اے ابو ہریرہ : انصار کو میرے پاس بلاؤ کہتے ہیں کہ میں نے انہیں بلایا تو وہ دوڑتے ہوئے آگے ۔ پھر آ پ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے انصار کی جماعت ! راستے میں تمہارا سامان قریش کے اوباش لوگوں سے ہو سکتا ہے ۔ لہذا کل جب تمہارا ان سے ٹاکرا ہو جائے تو انہیں کاٹ پھینکنا پھر تمہارے وعدے کی جگہ صفا ہے ( یعنی تم صفا پہاڑی کے پاس آ جانا ہماری وہی ملاقات ہو گی ) ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا ۔ پھر جب اگلا دن آیا ( اورمسلمان روانہ ہوئے ) تو جو کوئی بھی ان کے سامنے سر اٹھاتا تو وہ اسے ( ہمیشہ کی نیند) سلا دیتے ۔ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فتح سے ہمکنار کیا اور آپ صفا کے پاس آئے اور اس پر کھڑے ہو گئے ۔ پھر ابو سفیان آپ کے پاس آئے اور عرض کیا اے اللہ کے رسول ! قریش کے خون جائز قرار دے دیے گئے اور آج کے بعد قریش باقی نہ رہیں گے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : شخص ابو سفیان کے گھر میں داخل ہو جائے گا وہ محفوظ ہو گا جو اپنا دروازہ بند کر لے وہ محفوظ ہے اور جو اپنےہتھیار پھینک دے وہ بھی محفوظ ہے ۔( یعنی ایسے لوگوں کو قتل نہ کیا جائے گا) پھر انصار نے کہا بہرحال آدمی اپنی قو م پر شفقت کرتا ہے اور اپنے علاقے سے دلچسپی رکھتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات کا بتلا دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے انصار کی جماعت ! تم کہتے ہو کہ آدمی بہرحال اپنی قوم پر شفقت کرتا ہے اور اپنے علاقے میں دل چپسی رکھتا ہے ہرگز نہیں اللہ کی قسم ! میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں میں نے اللہ تعالیٰ کی طرف اور تمہاری جانب ہجرت کی میری زندگی تمہاری زندگی کے ساتھ ہے اور میری موت تمہاری موت کے ساتھ ہے انصار نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! ہم نے ایسا صرف اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شدید چاہت ( اور ان سے جدائی کے ڈر سے ) کہا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یقیناً اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول تمہیں سچا ہی مانتے ہیں اور تمہارے عذر کو قبول کرتے ہیں ۔
عَبْدِ اللهِ بْنِ رَبَاحٍ ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← مُوسَى بْنُ دَاوُدَ، ← أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ، ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُبَشِّرٍ