2833 - ثنا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ , نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ أَبُو الرَّدَادِ , نا وَهْبُ اللَّهِ بْنُ رَاشِدٍ , نا يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ , ح وثنا الْحَسَنُ بْنُ رَشِيقٍ بِمِصْرَ , نا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْعَبَّاسِ الْبَصْرِيُّ , ح وثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ مِرْدَاسٍ , نا أَبُو دَاوُدَ , قَالَا: نا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ , نا عَنْبَسَةُ بْنُ خَالِدٍ , حَدَّثَنِي يُونُسُ , قَالَ: سَأَلْتُ أَبَا الزِّنَادِ عَنْ بَيْعِ الثَّمَرِ قَبْلَ أَنْ يَبْدُوَ صَلَاحُهُ وَمَا ذُكِرَ فِي ذَلِكَ فَقَالَ: كَانَ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ يُحَدِّثُ , عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ , عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ: كَانَ النَّاسُ يَتَبَايَعُونَ الثَّمَرَ قَبْلَ أَنْ يَبْدُوَ صَلَاحُهَا , فَإِذَا جَدَّ النَّاسُ وَحَضَرَ تَقَاضِيهِمْ قَالَ الْمُبْتَاعُ: قَدْ أَصَابَ الثِّمَارَ الدُّمَانُ , وَأَصَابَهُ قُشَامٌ , وَأَصَابَهُ مُرَاضٌ عَاهَاتٌ يَحْتَجُّونَ بِهَا , [ص:400] فَلَمَّا كَثُرَتْ خُصُومُهُمْ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَالْمَشُورَةِ يُشِيرُ بِهَا: «أَمَا لَا , فَلَا تَبْتَاعُوا الثَّمَرَ حَتَّى تَبْدُوَ صَلَاحُهَا» لِكَثْرَةِ خُصُومَتِهِمْ وَاخْتِلَافِهِمْ. اللَّفْظُ لِعَنْبَسَةَ , وَقَالَ أَبُو الرَّدَّادِ: أَصَابَ الثَّمَرُ مَرَاقٌّ , وَأَصَابَهُ قُشَامٌ
یونس بیان کرتے ہیں کہ میں نے ابوالزناد سے پھلوں کے پکنے کی صلاحیت ثاہر ہونے سے پہلے انکی خریدو فروخت کے متعلق اور اس بارے میں نقول حکم کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا: عروہ بن زبیر سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں اور انہوں نے سیدنازید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت کیا، انہوں نے کہا لوگ پھلوں کی خریدوفروخت ان کے پکنے کی صلاحیت ظاہر ہونے سے پہلے ہی کر لیا کرتے تھے پھر جب لوگ فصل کاٹتے اور تقاضا کرنے والے آ جاتے تو خریدار کہتا : پھل کو غلاظت لگ گئی ہے اسے چیچڑی لگ گئی تھی اسے کوئی بیماری اور آفت آن پڑی ہے ۔لوگ اس وجہ سے جھگڑ پڑتے جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایسے جھگڑے کثرت سے آنے لگے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشورے کے طور پر فرمایاسنو تم ایسا نہ کیا کرو، تم پھل کو تب تک نہ خریدا کرو جب تک کہ اس کے پکنے کی صلاحیت ظاہر نہ ہو جائے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بہت زیادہ جھگڑے اور اختلافات کی وجہ سے یہ فرمایا تھا ۔ یہ الفاظ عنبسہ کے ہیں ۔ ابو الرداد نے یہ الفاظ بیان کیے کہ پھل کو بیماری لگ گئی ہے اور اسے چیچڑی لگ گئی ہے ۔
زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، ← سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ، ← كانَ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ← فِي ذَلِكَ ← بَيْعِ الثَّمَرِ قَبْلَ أَنْ يَبْدُوَ صَلَاحُهُ وَمَا ← سألت أبا الزناد ← يُونُسَ ← عَنْبَسَةُ بْنُ خَالِدٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ مِرْدَاسٍ ← الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْعَبَّاسِ الْبَصْرِيُّ، ← الحسن بن رشيق ← يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ ← وهبُ اللهِ بنُ راشدٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ أَبُو الرَّدَادِ ← أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ