2809 - ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ , ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي كَثِيرٍ الْقَاضِي , نا مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ , نا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ , عَنْ جَمِيلِ بْنِ مُرَّةَ , [ص:386] عَنْ أَبِي الْوَضِيءِ , قَالَ: كُنَّا فِي سَفَرٍ فِي عَسْكَرٍ فَأَتَى رَجُلٌ مَعَهُ فَرَسٌ فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ مِنَّا: أَتَبِيعُ هَذَا الْفَرَسَ بِهَذَا الْغُلَامِ؟ , قَالَ: نَعَمْ , فَبَاعَهُ ثُمَّ بَاتَ مَعَنَا , فَلَمَّا أَصْبَحَ قَامَ إِلَى فَرَسِهِ؛ فَقَالَ لَهُ صَاحِبُنَا: مَا لَكَ وَلِلْفَرَسِ؟ أَلَيْسَ قَدْ بِعْتَنِيهَا؟ , قَالَ: مَا لِي فِي هَذَا الْبَيْعِ مِنْ حَاجَةٍ , قَالَ: مَا لَكَ ذَلِكَ , لَقَدْ بِعْتَنِي , فَقَالَ لَهُمَا الْقَوْمُ: هَذَا أَبُو بَرْزَةَ صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَيَاهُ , قَالَ لَهُمَا: أَتَرْضَيَانِ بِقَضَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ , فَقَالَا: نَعَمْ , فَقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْبَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا» , وَإِنِّي لَأَرَاكُمَا افْتَرَقْتُمَا.
ابو الوضی بیان کرتے ہیں کہ ہم ایک غزوے کے سفر میں تھے تو ایک آدمی آیا ۔ اس کے ساتھ گھوڑا تھا ہم میں سے ایک آدمی نے اس سے کہا کیا اس غلام کے بدلے تم یہ گھوڑا بیچو گئے ؟ اس نے کہا ہاں چنانچہ اس نے ہ گھوڑا اسے بیچ دیا ۔ پھر اس نے رات ہمارے ساتھ ہی قیام کیا ، جب صبح ہوئی تو اس نے اٹھ کر اپنا گھوڑا پکڑانا چاہا تو ہمارے ساتھی نے اس سے کہا : کیا بات ہے تو اس نے کہا کیا بات ہے تم گھوڑے کو کیوں پکڑ رہے ہو؟ کیا تم نے یہ مجھے بیچ نہیں دیا ؟ تو اس نے کہا مجھے اس سودے کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔ تو اس نے کہا یہ کیسے ہو سکتاہے ؟تم نے تو یہ مجھے بیچ دیا ہے ۔ لوگوں نے کہا آپ صحابی رسول سیدنا ابو برزہ رضی اللہ عنہ کے پاس اپنا معاملہ لے جائیں چنانچہ وہ دونوں ان کے پاس آ گئے تو انہوں نے دونوں سے فرمایا کیا تم اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصے پر راضی ہو جاؤ گے؟ ان دونوں نے کہا : جی ہاں تو انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : خریدو فروخت کرنے والے دونوں آدمیوں کو تب تک (سودا ختم کرنے کا) اختیار حاصل ہو جاتا ہے جب تک وہ جدانہ ہو جائیں اور میں نہیں سمجھتا کہ تم دونوں جدا ہو چکے ہو (لہذا سودا ختم ہو سکتا ہے ۔)
نَعَمْ ← لَهُمَا: أَتَرْضَيَانِ بِقَضَاءِ رَسُولِ اللَّهِ ← لَهُمَا الْقَوْمُ: هَذَا أَبُو بَرْزَةَ صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ فَأَتَيَاهُ ← مَا لَكَ ذَلِكَ لَقَدْ بِعْتَنِي ← مَا لِي فِي هَذَا الْبَيْعِ مِنْ حَاجَةٍ ← لَهُ صَاحِبُنَا: مَا لَكَ وَلِلْفَرَسِ؟ أَلَيْسَ قَدْ بِعْتَنِيهَا؟ ← نَعَمْ فَبَاعَهُ ثُمَّ بَاتَ مَعَنَا فَلَمَّا أَصْبَحَ قَامَ إِلَى فَرَسِهِ؛ ← لَهُ رَجُلٌ مِنَّا: أَتَبِيعُ هَذَا الْفَرَسَ بِهَذَا الْغُلَامِ؟ ← كُنَّا فِي سَفَرٍ فِي عَسْكَرٍ فَأَتَى رَجُلٌ مَعَهُ فَرَسٌ ← أَبِي الْوَضِيءِ ← جَمِيلِ بْنِ مُرَّةَ [ص:386] ← هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ← مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← إسماعيل بن محمد بن أبي كثير القاضي ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ