سنن دار القطنی · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ باب · حديث 2984
2984 - ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْفَارِسِيُّ , نا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَبَّاسِ بْنِ مُعَاوِيَةَ السَّكُونِيُّ , نا الرَّبِيعُ بْنُ رَوْحٍ , نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ , عَنْ عَطَاءِ بْنِ عَجْلَانَ , عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيِّ , عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ , [ص:467] عَنْ عَلِيٍّ , قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أُتِيَ بِالْجِنَازَةِ لَمْ يَسْئَلْ عَنْ شَيْءٍ مِنْ عَمَلِ الرَّجُلِ وَيَسْأَلُ عَنْ دَيْنِهِ , فَإِنْ قِيلَ: عَلَيْهِ دَيْنٌ كَفَّ عَنِ الصَّلَاةِ عَلَيْهِ , وَإِنْ قِيلَ: لَيْسَ عَلَيْهِ دَيْنٌ صَلَّى عَلَيْهِ , فَأُتِيَ بِجِنَازَةٍ فَلَمَّا قَامَ لِيُكَبِّرَ سَأَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصْحَابَهُ: «هَلْ عَلَى صَاحِبِكُمْ دَيْنٌ؟» , قَالُوا: دِينَارَانِ , فَعَدَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْهُ وَقَالَ: «صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ» , فَقَالَ عَلِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: هُمَا عَلَيَّ يَا رَسُولَ اللَّهِ بَرِئَ مِنْهُمَا , فَتَقَدَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ لِعَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ: «جَزَاكَ اللَّهُ خَيْرًا , فَكَّ اللَّهُ رِهَانَكَ كَمَا فَكَكْتُ رِهَانَ أَخِيكَ , إِنَّهُ لَيْسَ مِنْ مَيِّتٍ يَمُوتُ وَعَلَيْهِ دَيْنٌ إِلَّا وَهُوَ مُرْتَهَنٌ بِدَيْنِهِ , وَمَنْ فَكَّ رِهَانَ مَيِّتٍ فَكَّ اللَّهُ رِهَانَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» , فَقَالَ بَعْضُهُمْ: «هَذَا لِعَلِيٍّ عَلَيْهِ السَّلَامُ خَاصَّةً أَمْ لِلْمُسْلِمِينَ عَامَّةً؟» , فَقَالَ: «بَلْ لِلْمُسْلِمِينَ عَامَّةً»
سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب کوئی جنازہ لایا جاتا تو آپ اس آدمی کے کسی کام کے متعلق نہیں پوچھتے تھے بس اس کے قرض کے متعلق پوچھتے تھے لہذا اگر کہا جاتا کہ اس کے ذمے قرض ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کا جنازہ پڑھانے سے رک جاتے اور اگر کہا جاتا کہ اس پر کوئی قرض نہیں ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کا جنازہ پڑھا دیتے ،ایک بار ایک جنازہ لایا گیا اور جب آپ " اللہ اکبر" کہنے کے لیے کھڑے ہوگئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب سے پوچھا کیا تمہارے ساتھ پر قرض ہے؟ لوگوں نے کہا دو دینار قرض ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے ایک طرف ہٹ گئے اور فرمایا تم اپنے ساتھی کا جنازہ پڑھ لو ۔ تو علی رضی اللہ عنہ نے کہا اے اللہ کے رسول ! یہ د و دینار ادا کرنا میرے ذمے ہیں ، یہ ان سے بری ہے تو رسول الہ صلی اللہ علیہ وسلم آگے مصلی امامت پر بڑھے اور اس کی نمازجنازہ پڑھائی پھر علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے فرمایا اے علی ! اللہ تعالیٰ تجھے بہتر بدلہ عطافرمائے اللہ روز قیامت تیری گروی چیز بھی اسی طرح چھوڑ دے جس طرح تو نے اپنے مسلمان بھائی کی گروی رکھی ہوئی چیز چھڑائی ہے ۔ یقینا جب بھی میت فوت ہوتی ہے اور اس کے ذمے قرض ہوتا ہے تو وہ اپنے قرض کی وجہ سے گروی ہی رہتی ہے اور جو شخص کسی گروی چیز چھڑائے گا اللہ تعالیٰ روز قیامت اس کی گروی رکھی ہوئی چیز کو چھوڑ دے گا(یعنی اسے نجات سے ہمکنار کرے گا) لوگوں میں سے کسی نے پوچھا اے اللہ کے رسول ! کیا یہ بات علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ خاص ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں بلکہ تمام مسلمانوں کے لیے عام ہے ۔
عَلِيٍّ، ← عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ ← اَبِیْ اِسْحَاقَ الْھَمْدَانِیِّ ← عَطَاءِ بْنِ عَجْلَانَ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، ← الرَّبِيعُ بْنُ رَوْحٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْعَبَّاسِ بْنِ مُعَاوِيَةَ السَّكُونِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْفَارِسِيُّ
Hadith 2984
