2976 - حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدٍ الْقَاسِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ , نا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ , نا ابْنُ نُمَيْرٍ , عَنْ يَزِيدَ بْنِ زِيَادِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ , نا أَبُو صَخْرَةَ جَامِعُ بْنُ شَدَّادٍ , عَنْ طَارِقِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُحَارِبِيِّ , قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّتَيْنِ [ص:463] مَرَّةً بِسُوقِ ذِي الْمَجَازِ وَأَنَا فِي تِبَاعَةٍ لِي هَكَذَا , قَالَ: أَبِيعُهَا , فَمَرَّ وَعَلَيْهِ حُلَّةٌ حَمْرَاءُ وَهُوَ يُنَادِي بِأَعْلَى صَوْتِهِ: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ قُولُوا لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ تُفْلِحُوا» , وَرَجُلٌ يَتْبَعُهُ بِالْحِجَارَةِ وَقَدْ أَدْمَى كَعْبَيْهِ وَعُرْقُوبَيْهِ وَهُوَ يَقُولُ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ لَا تُطِيعُوهُ فَإِنَّهُ كَذَّابٌ , قُلْتُ: مَنْ هَذَا؟ , فَقَالُوا: هَذَا غُلَامُ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ , قُلْتُ: مَنْ هَذَا الَّذِي يَتْبَعُهُ يَرْمِيهِ؟ , قَالُوا: هَذَا عَمُّهُ عَبْدُ الْعُزَّى وَهُوَ أَبُو لَهَبٍ , فَلَمَّا ظَهَرَ الْإِسْلَامُ وَقَدِمَ الْمَدِينَةَ أَقْبَلْنَا فِي رَكْبٍ مِنَ الرَّبَذَةِ وَجَنُوبِ الرَّبَذَةِ حَتَّى نَزَلْنَا قَرِيبًا مِنَ الْمَدِينَةِ وَمَعَنَا ظَعِينَةٌ لَنَا , قَالَ: فَبَيْنَمَا نَحْنُ قُعُودٌ إِذْ أَتَانَا رَجُلٌ عَلَيْهِ ثَوْبَانِ أَبْيَضَانِ فَسَلَّمَ فَرَدَدْنَا عَلَيْهِ , فَقَالَ: مِنْ أَيْنَ أَقْبَلَ الْقَوْمُ؟ , قُلْنَا: مِنَ الرَّبَذَةِ وَجَنُوبِ الرَّبَذَةِ , قَالَ: وَمَعَنَا جَمَلٌ أَحْمَرُ , قَالَ: تَبِيعُونِي جَمَلَكُمْ هَذَا؟ , قُلْنَا: نَعَمْ , قَالَ: بِكُمْ؟ , قُلْنَا: بِكَذَا وَكَذَا صَاعًا مِنْ تَمْرٍ , قَالَ: فَمَا اسْتَوْضَعْنَا شَيْئًا , وَقَالَ: قَدْ أَخَذْتُهُ , ثُمَّ أَخَذَ بِرَأْسِ الْجَمَلِ حَتَّى دَخَلَ الْمَدِينَةَ فَتَوَارَى عَنَّا , فَتَلَاوَمْنَا بَيْنَنَا , وَقُلْنَا: أَعْطَيْتُمْ جَمَلَكُمْ مَنْ لَا تَعْرِفُونَهُ , فَقَالَتِ الظَّعِينَةُ: لَا تَلَاوَمُوا فَقَدْ رَأَيْتُ وَجْهَ رَجُلٍ مَا كَانَ لِيَحْقَرَكُمْ , مَا رَأَيْتُ وَجْهَ رَجُلٍ أَشْبَهَ بِالْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ مِنْ وَجْهِهِ , فَلَمَّا كَانَ الْعِشَاءُ أَتَانَا رَجُلٌ , فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ , أَنَا رَسُولُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْكُمْ: وَإِنَّهُ أَمَرَكُمْ أَنْ تَأْكُلُوا مِنْ هَذَا حَتَّى تَشْبَعُوا وَتَكْتَالُوا حَتَّى تَسْتَوْفُوا , قَالَ: فَأَكَلْنَا حَتَّى شَبِعْنَا , وَاكْتَلْنَا حَتَّى اسْتَوْفَيْنَا , فَلَمَّا كَانَ مِنَ الْغَدِ دَخَلْنَا الْمَدِينَةَ فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمٌ عَلَى الْمِنْبَرِ يَخْطُبُ النَّاسَ وَهُوَ يَقُولُ: «يَدُ الْمُعْطِي الْعُلْيَا , وَابْدَأْ بِمَنْ [ص:464] تَعُولُ , أُمَّكَ وَأَبَاكَ , وَأُخْتَكَ وَأَخَاكَ , وَأَدْنَاكَ أَدْنَاكَ» , فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , هَؤُلَاءِ بَنُو ثَعْلَبَةَ بْنِ يَرْبُوعَ الَّذِينَ قَتَلُوا فُلَانًا فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَخُذْ لَنَا بِثَأْرِنَا , فَرَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى رَأَيْنَا بَيَاضَ إِبْطَيْهِ , فَقَالَ: «أَلَا لَا يَجْنِي وَالِدٌ عَلَى وَلَدِهِ»
سیدنا طارق بن عبداللہ الماربی رضی اللہ عنہ بیان کرتےہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دو مرتبہ دیکھا ایک مرتبہ ذوالمجاز کے بازار میں جبکہ میں اپنے سامان کے ساتھ وہاں موجود تھا جسے میں نے فروخت کرنا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے گزرے اور آپ نے سرخ چوغہ زیب تن کیا ہوا تھااور آپ بلند آواز سے پکار رہے تھے اے لوگو لاالہ الا اللہ کہہ دو فلاح پاجاؤ گے ۔ ایک آدمی پتھر لے کر آپ کے پیچھے پیچھے تھا اور اس نے آپ کے ٹخنوں اور ایڑھیوں کو لہو لہان کر رکھا تھا اور وہ کہہ رہا تھا اے لوگو! اس کی بات نہ مانا یہ بہت بڑا جھوٹا ہے ۔ میں نے پوچھا یہ کون ہے؟ لوگوں نے کہا یہ بنو عبدالمطلب کا بچہ ہے ۔ میں نے پوچھا یہ کون ہے جو اس کے پیچھے پیچھے اسے پتھر ما ر رہا ہے ؟ انہوں نے بتایا کہ یہ اس کا چچا عبدالعزیٰ ابوالہب ہے پھر جب اسلام غالب آگیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو ہم ایک قافلے کی صورت میں ربذہ سے اور ربذہ کے جنوبی علاقوں سے آئے یہاں تک کہ ہم نے مدینے کے قریب آکر پڑاؤ کیا اور ہمارے ساتھ ہماری عورت بھی تھی ۔ اسی دوران کہ ہم بیٹھے ہوئے تھے اچانک وہاں ایک صاحب آئے جنہوں نے سلام کہا تو ہم نے ان کے سلام کا جواب دیا پھر انہوں نے پوچھا یہ قوم کہاں سے آئی ہے ؟ ہم نے کہاربذہ سے ربذہ کے جنوبی علاقوں سے ۔ راوی کہتے ہیں کہ ہمارے پاس ایک سرخ اونٹ تھا انہوں نے کہا تم مجھے اپنا یہ اونٹ فروخت کروگے؟ ہم نے کہا جی ہاں ۔ انہوں نے پوچھا کتنی قیمت میں ؟ ہم نے بتلایا کہ اتنے اتنے صاع کھجوروں کے عوض انہوں نے ہم سے کچھ بھی کم نہیں کرایا، اور کہا میں نے یہ خرید لیا ۔ پھر ان صاحب نے اونٹ کا سر پکڑا (اور چل دیا) یہاں تک کہ مدینے میں داخل ہو گئے اور ہماری نظروں سے اوجھل ہو گئے ہم نے ایک دوسے کو ملامت کیا اور کہا تم نے اپنا اونٹ ایسے شخص کو دے یا جسے تم جانتے تک نہیں ،تو عورت نے کہا تم ایک دوسرے کو ملامت مت کرو ، یقینا میں سے ایسے آدمی کی ورت دیکھی ہے جو تمہیں حقیر نہیں سمجھ سکتا ۔میں نے کسی آدمی کا ایسا چہرہ نہیں دیکھا جو اس شخص سے زیادہ چودھویں کے چاند کی ساتھ مشابہت رکھتا ہو پھر جب رات کا وقت ہوا تو وہی صاحب ہمارے پاس آئے اور انہوں نے کہا السلام علیکم میں تمہاری جانب اللہ کی طرف سے بھیجا جانے والا پیغمبر ہوں یقینا ً اللہ تعالیٰ تمہیں حکم فرمااتا ہے کہ تم سیر ہو جانے تک کھاؤ اور پورا پورا تول کر لو ، راوی کہتے ہیں ہم نے خوب سیر ہو کر کھایا اور پورا پورا تول کر لیا پھر جب اگلا د ن ہوا اور ہم مدینہ میں داخل ہوئے تو ہم نے دیکھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر کھڑے ہو کر لوگوں کو خطبہ دے رہے تھے اور فرما رہے تھے دینے والے کا ہاتھ بلند ہوتا ہے اور (عطیہ دیتے ہوئے) ان سے ابتداء کرو جو تمہارے زیر کفالت ہوں تمہاری والدہ اور والد تمہاری بہن اور بھائی ، پھر اس کے قریب تر ، اور اسکے قریب تر پھر انصار میں سے ایک آدمی کھڑا ہوا اور اس نے کہا اے اللہ کے رسول ! ان بنو ثعلبہ بن یربوع نے دور جاہلیت میں فلاں شخص کو قتل کیا تھا لہذا آپ ہمیں ان سے بدلہ لیے کر دیجیے۔تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھوں کو بلند کیا یہاں تک کہ ہمیں آپ کی بغلوں کی سفیدی نظر آگئی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آگاہ رہو! والد کے جرم کی ذمہ داری اسے کے بیٹے پر عائد نہیں ہو سکتی ۔
طَارِقِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُحَارِبِيِّ ← أبو صخرة جامع بن شداد ← يَزِيدَ بْنِ زِيَادِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ← ابْنِ نُمَيْرٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ ← أَبُو عُبَيْدٍ الْقَاسِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ