سنن دار القطنی · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ باب · حديث 2940
2940 - ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ , نا أَحْمَدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْمَدَنِيُّ , نا مَالِكٌ , عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ قَيْسٍ الزُّرَقِيِّ , أَنَّهُ سَأَلَ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ , فَقَالَ: «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ» , فَقَالَ لَهُ أَبِالذَّهَبِ وَالْوَرِقِ؟ , فَقَالَ: «أَمَّا الذَّهَبُ وَالْوَرِقُ فَلَا بَأْسَ بِهِ»
حنظلہ بن قیس الزرقی روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے زمین کرائے پر دینے کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے فرمایا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین کو کرائے پر دینے سے منع فرمایا ہے ۔ انہوں نے ان سے پوچھا کیا سونے اور چاندی کے عوض دی جا سکتی ے ؟ تو انہوں نے فرمایا جہاں تک سونے اور چاندی کے عوض دینے کی بات ہے تو اس صورت میں کوئی مضائقہ نہیں ہے ۔
«أَمَّا الذَّهَبُ وَالْوَرِقُ فَلَا بَأْسَ بِهِ» ← لَهُ أَبِالذَّهَبِ وَالْوَرِقِ؟ ← كِرَاءِ الْأَرْضِ»، ← «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ← كِرَاءِ الْأَرْضِ»، ← حنظلة بن قيس الزرقي: أنه سأل رافع بن خديج ← رَبِیْعَۃَ بْنِ اَبِیْ عَبْدِ الرَّحْمِنِ ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْمَدَنِيُّ ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ
Sunan Dar Al Qutni · The Book of Sales › Door · Hadith 2940
