2703 - ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ , نا أَبُو مُوسَى , ح وَثنا يَزْدَادُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْكَاتِبُ , نا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ , ح وَثنا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ , نا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ , قَالُوا: نا مَنْصُورُ بْنُ وَرْدَانَ , نا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الثَّعْلَبِيُّ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ , عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ {وَلِلَّهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا} [آل عمران: 97] , قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفِي كُلِّ عَامٍ فَسَكَتَ , فَقَالُوا: أَفِي كُلِّ عَامٍ , قَالَ: " لَا وَلَوْ قُلْتُ: نَعَمْ لَوَجَبَتْ , فَأَنْزَلَ اللَّهُ {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَسْأَلُوا عَنْ أَشْيَاءَ إِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ} [المائدة: 101] إِلَى آخِرِ الْآيَةِ وَقَالَ الْأَشَجُّ: نا مَنْصُورُ بْنُ وَرْدَانَ أَبُو مُحَمَّدٍ إِمَامُ مَسْجِدِ الْكُوفَةِ , وَقَالَ الزَّعْفَرَانِيُّ: فَسَكَتَ ثُمَّ قَالُوا: أَفِي كُلِّ عَامٍ , فَسَكَتَ ثُمَّ قَالُوا: أَفِي كُلِّ عَامٍ , فَقَالَ: «لَا» , وَالْبَاقِي مِثْلُهُ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی : ( وللہ علی الناس حج البیت من اتطاع الیہ سبیلا) " لوگوں پر اللہ کا یہ حق ہے کہ جو اس کے گھر تک پہنچنے کی استطاعت رکھتا ہو وہ اس کا حج کرے۔ " تو لوگوں نے پوچھا : کیا ہر سال ( حج کرنا واجب ہے ) ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: نہیں اور اگر میں "ہاں "کہہ دیتا تو واجب ہو جاتا ۔ پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما دی ( یاایھا الذین امنو لا تسالو اعن اشیاء ان تبدلکم تسوکم ۔۔ الخ ) " اے ایمان والو! تم ایسی چیزوں کے متعلق سوال مت کر کہ اگر وہ تمہارے لیے ظاہر کر دی جائیں تو تمہیں بری لگیں ، اور اگر تم ان کے متعلق نزول قرآن کے زمانے میں پوچھو گے تو وہ تمہارے لیے ظاہر کر دی جائیں گی، (جو بے مقصد سوالات تم کر چکے ہو) ان سے اللہ تعالیٰ نے در گزر کر دیا ہے ، اور اللہ تعالیٰ بہت مغفرت والا بڑا بردبار ہے ۔ " اشج کہتے ہیں کہ ہم سے مسجد کوفہ کے امام منصور بن دردان ابو محمد نے بیان کیا۔ اور زعفرانی نے یوں بیان کیا ہے کہ آپ ﷺ خاموش ہو گئے ۔ لوگوں نے پھر کہا: کیا ہر سال ؟ آپ ﷺ پھر خاموش رہے ۔ لوگوں نے پھر کہا: کیا ہر سال ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا : نہیں ۔ باقی حدیث اسی کے مثل ہے ۔
عَلِيٍّ، ← أَبِي الْبَخْتَرِيِّ ← أَبِيهِ ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الثَّعْلَبِيُّ ← مَنْصُورُ بْنُ وَرْدَانَ ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ← أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، ← يَزْدَادُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْكَاتِبُ ← أَبُو مُوسَى، ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ