2235 - حَدَّثَنَا أَبُو طَالِبٍ الْكَاتِبُ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْجَهْمِ , ثنا عَلِيُّ بْنُ مُسْلِمٍ الطُّوسِيُّ , ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ , ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ , ثنا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ , نا أَبُو الْعُمَيْسِ , عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ , عَنْ أَبِيهِ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آخَى بَيْنَ سَلْمَانَ وَبَيْنَ أَبِي الدَّرْدَاءِ , قَالَ: فَجَاءَ سَلْمَانُ يَزُورُ أَبَا الدَّرْدَاءِ فَإِذَا أُمُّ الدَّرْدَاءِ مُتَبَذِّلَةً , قَالَ: مَا شَأْنُكِ؟ , قَالَتْ: إِنَّ أَخَاكَ يَقُومُ اللَّيْلَ وَيَصُومُ النَّهَارَ وَلَيْسَ لَهُ حَاجَةٌ فِي نِسَاءِ الدُّنْيَا , فَجَاءَ أَبُو الدَّرْدَاءِ فَرَحَّبَ بِهِ سَلْمَانُ وَقَرَّبَ إِلَيْهِ طَعَامًا , فَقَالَ لَهُ سَلْمَانُ: أَطْعِمْ , فَقَالَ: إِنِّي صَائِمٌ , فَقَالَ: أَقْسَمْتُ عَلَيْكَ لَتُفْطِرَنَّهُ , قَالَ: مَا أَنَا بِآكِلٍ حَتَّى تَأْكُلَ فَأَكَلَ مَعَهُ ثُمَّ بَاتَ عِنْدَهُ حَتَّى إِذَا كَانَ اللَّيْلُ أَرَادَ أَبُو الدَّرْدَاءِ أَنْ يَقُومَ فَمَنَعَهُ سَلْمَانُ وَقَالَ لَهُ: إِنَّ لِجَسَدِكَ عَلَيْكَ حَقًّا , وَلِرَبِّكَ عَلَيْكَ حَقًّا , وَلِأَهْلِكَ عَلَيْكَ حَقًّا , صُمْ وَأَفْطِرْ , وَصَلِّ وَنَمْ , وَائْتِ أَهْلَكَ وَأَعْطِ كُلَّ ذِي حَقِّ حَقَّهُ , فَلَمَّا كَانَ فِي وَجْهِ الصُّبْحِ , قَالَ: قُمِ الْآنَ إِنْ شِئْتَ فَقَامَا فَتَوَضَّيَا ثُمَّ رَكَعَا ثُمَّ خَرَجَا إِلَى الصَّلَاةِ , فَدَنَا أَبُو الدَّرْدَاءِ لِيُخْبِرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالَّذِي أَمَرَهُ سَلْمَانُ , [ص:138] فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا أَبَا الدَّرْدَاءِ إِنَّ لِجَسَدِكَ عَلَيْكَ حَقًّا» مِثْلَ مَا قَالَ سَلْمَانُ. لَفْظُ أَبِي طَالِبٍ
سیدنا ابو حجیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا سلمان اور ابودرداء رضی اللہ عنہ کے درمیان بھائی چارہ قائم کیا تو ایک روز سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ ابو درداء رضی اللہ عنہ سے ملنے آئے تو انہوں نے دیکھا کہ ان کی اہلیہ ام درداء رضی اللہ عنہا انتہائی پر اگندہ حالت میں ہے انہوں نے پوچھا آپ کو کیا ہوا تو اس نے کہا آپ کے بھائی رات کو قیام کرتے ہیں یعنی نوافل ادا کرتے رہتے ہیں) اور دن کو روزہ رکھ لیتے ہیں انہیں تو دینوی عورتوں میں کوئی رغبت ہی نہیں ہے ۔ چنانچہ جب ابودرداء رضی اللہ عنہ آئے تو سلمان رضی اللہ عنہ نے انہیں خوش آمدیدکہا اور کھانا ان کے پاس رکھ دیا ۔ پھر سلمان رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا کھائیے تو انہون نے کہا میں نے روزہ رکھا ہوا ہے سلمان رضی اللہ عنہ نے کہا میں آپ کو قسم دیتا ہوں کہ آپ کو لازم روزہ توڑنا ہی پڑے گا تو انہوں نے کہا میں تب تک نہیں کھاؤں گا جب تک آپ بھی( میرے ساتھ ) نہیں کھاتے چنانچہ انہوں نے بھی ابو دراء رضی اللہ عنہ کے ساتھ کھانا کھایا پھر انہی کے ہاں رات بسر کرنے کے لیے رک گئے جب رات ہوئی تو ابودرداء نے نوافل پڑھنا چاہیے تو سلمان رضی اللہ عنہ نے انہیں روک دیا اور کہا یقینا آپ کے جسم کا بھی آپ پر حق ہے آپ کے پروردگار کا بھی آپ پر حق ہے لہذا روزہ رکھ بھی لیا کریں اور چھوڑ بھی دیا کریں نماز بھی پڑھا کریں اور سویا بھی کریں ۔ اب آپ اپنی اہلیہ کے پاس جائیں اور ہر حق دار کو اس کا حق دیں ۔ پھر جب صبح ہونے کو تھی تو سلمان رضی اللہ عنہ نے کہا اب اگر آپ قیام کرنا چاہتے ہیں تو کر لیجئے چنانچہ وہ دونوں اٹھے دونوں نے وضو کر کے نوافل ادا کیے پھر وہ نماز پڑھنے کے لیے نکل گئے ۔ ابو درداء رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب آکر بیٹھ گئے تاکہ آپ کو اس بات کے بارے میں بتلائیں جو سلمان رضی اللہ عنہ نے ان سے کہی تھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا اے ابودرداء یقینا تمہارے جس کا بھی تم پر حق ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی مثل فرمایا جو سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ نے کہا تھا ۔ یہ الفاظ ابوطالب راوی کے ہیں ۔
أَبِيهِ ← عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ، ← أَبُو الْعُمَيْسِ، ← جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ← أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ، ← وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← عَلِيُّ بْنُ مُسْلِمٍ الطُّوسِيُّ، ← أَبُو طَالِبٍ الْكَاتِبُ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْجَهْمِ