سنن دار القطنی · 11-11- كِتَابُ الاِفْتِتَاحِ ‹ بَابُ طُلُوعِ الشَّمْسِ بَعْدَ الْإِفْطَارِ · حديث 2398
2398 - حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الدَّقَّاقُ , نا عُبَيْدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ خَلَفٍ , ثنا أَبُو ثَوْرٍ , ثنا مُعَلَّى بْنُ مَنْصُورٍ , ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ , عَنِ الزُّهْرِيِّ , أَخْبَرَهُ حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ , يَقُولُ: أَتَى رَجُلٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ: هَلَكْتُ وَأَهْلَكْتُ , قَالَ: «مَا أَهْلَكَكَ؟» , قَالَ: وَقَعْتُ عَلَى أَهْلِي فِي رَمَضَانَ , قَالَ: «تَجِدُ رَقَبَةً تُعْتِقُهَا؟» , قَالَ: لَا , قَالَ: «فَصُمْ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ» , قَالَ: لَا أَسْتَطِيعُ , قَالَ: «فَأَطْعِمْ سِتِّينَ مِسْكِينًا» , قَالَ: لَا أَقْدِرُ عَلَيْهِ , قَالَ: فَأَتَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَقٍ فِيهِ تَمْرٌ , فَقَالَ: «تَصَدَّقْ بِهَذَا» , قَالَ: أَعْلَى أَحْوَجَ مِنَّا؟ , قَالَ: «فَأَطْعِمْهُ عِيَالَكَ». تَفَرَّدَ بِهِ أَبُو ثَوْرٍ , عَنْ مُعَلَّى بْنِ مَنْصُورٍ , عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ بِقَوْلِهِ: وَأَهْلَكْتُ. وَكُلُّهُمْ ثِقَاتٌ . [ص:204]
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا میں خود بھی ہلاک ہو گیا اور (اپنی بیوی کو بھی ) ہلاک کر دیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا تجھے کس بات نے ہلاک کر دیا ؟ اس نے کہا : میں نے ماہ رمضان میں اپنی بیوی سے ہمبستری کر لی ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا تم ایک گردن پاتے ہو ؟ یعنی کیا تم ایک غلام آزاد کر سکتے ہو؟ اس نے کہا نہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر تم دو ماہ کے مسلسل روزے رکھ لو اس نے کہا مجھ میں روزے رکھنے کی طاقت نہیں ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا دو اور ہر مسکین کو مد دو اس نے کہا مجھ میں اتنی حیثیت بھی نہیں ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لیے پندرہ صاع (کھجوریں دینے) کا حکم دیا اور فرمایا : اسے ساٹھ مسکینوں کو کلا دو ۔ اس نے کہا اس ذات کی قسم جس نے آپ کو دین حق دے کر بھجیا ہے ! مدینہ منورہ میں ہم سے زیادہ ضروت مند کوئی گھر نہیں ہے ۔ توآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جاؤ اور اسے خود بھی کھا لو اور تمہارے گھروالے بھی کھالیں۔ اکیلے ابو ثور نے اسے معلیٰ بن منصور سے روایت کیا اور انہوں نے ابن عیینہ سے ان کے بیان " اور میں نے ہلاک کر دیا " کے ساتھ روایت کیا اور تمام رواۃ ثقہ ہیں ۔
ابْنِ عُيَيْنَةَ بِقَوْلِهِ: وَأَهْلَكْتُ. وَكُلُّهُمْ ثِقَاتٌ [ص:204] ← مُعَلَّى بْنُ مَنْصُورٍ، ← «فَأَطْعِمْهُ عِيَالَكَ». تَفَرَّدَ بِهِ أَبُو ثَوْرٍ ← أَعْلَى أَحْوَجَ مِنَّا؟ ← فَأَتَى رَسُولُ اللَّهِ بِعَرَقٍ فِيهِ تَمْرٌ فَقَالَ: «تَصَدَّقْ بِهَذَا» ← لَا أَقْدِرُ عَلَيْهِ ← فَأَطْعِمْ سِتِّينَ مِسْکِينًا ← لَا أَسْتَطِيعُ ← فَصُمْ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ ← لَا۔ ← «تَجِدُ رَقَبَةً تُعْتِقُهَا؟» ← وَقَعْتُ عَلَی أَهْلِي فِي رَمَضَانَ ← «مَا أَهْلَكَكَ؟» ← أَتَى رَجُلٌ النَّبِيَّ فَقَالَ: هَلَكْتُ وَأَهْلَكْتُ ← أَبَا هُرَيْرَةَ ← حُمَیْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ اَنَّہُ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← مُعَلَّى بْنُ مَنْصُورٍ، ← أَبُو ثَوْرٍ، ← عُبَيْدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ خَلَفٍ ← عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الدَّقَّاقُ
Sunan Dar Al Qutni · The fasting book › The door to the rising of the sun after breaking the fast · Hadith 2398
