2124 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ , حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نَصْرِ بْنِ الْأَشْقَرِ أَبُو بَكْرٍ , ثنا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى الطَّائِيُّ بِمَكَّةَ , ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ سَعِيدٍ الْخُرَاسَانِيُّ , ثنا إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ الرَّازِيُّ , قَالَ: قُلْتُ لِمَالِكِ بْنِ أَنَسٍ: يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ كَمْ وَزْنُ صَاعِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ , قَالَ: «خَمْسَةُ أَرْطَالٍ وَثُلُثٌ بِالْعِرَاقِيِّ , أَنَا حَزَرْتُهُ» , قُلْتُ: يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ خَالَفْتَ شَيْخَ الْقَوْمِ , قَالَ: «مَنْ هُوَ؟ ,» , قُلْتُ: أَبُو حَنِيفَةَ يَقُولُ: ثَمَانِيَةُ أَرْطَالٍ , فَغَضِبَ غَضَبًا شَدِيدًا , وَقَالَ: «قَاتَلَهُ اللَّهُ مَا أَجْرَأَهُ عَلَى اللَّهِ» , ثُمَّ قَالَ لِبَعْضِ جُلَسَائِهِ: «يَا فُلَانُ هَاتِ صَاعَ جَدِّكَ , وَيَا فُلَانُ هَاتِ صَاعَ عَمِّكَ , وَيَا فُلَانُ هَاتِ صَاعَ جَدَّتِكَ» , قَالَ إِسْحَاقُ: فَاجْتَمَعَ آصُعٌ , فَقَالَ مَالِكٌ: «مَا تَحْفَظُونَ فِي هَذِهِ؟» , فَقَالَ: هَذَا حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ كَانَ يُؤَدِّي بِهَذَا الصَّاعِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَقَالَ الْآخَرُ: حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ أَخِيهِ أَنَّهُ كَانَ يُؤَدِّي بِهَذَا الصَّاعِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَقَالَ الْآخَرُ: حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ أُمِّهِ أَنَّهَا أَدَّتْ بِهَذَا الصَّاعِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ مَالِكٌ: «أَنَا حَزَرْتُ هَذِهِ فَوَجَدْتُهَا خَمْسَةَ أَرْطَالٍ وَثُلُثًا» , قُلْتُ: يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ أُحَدِّثُكَ بِأَعْجَبَ مِنْ هَذَا عَنْهُ إِنَّهُ يَزْعُمُ أَنَّ صَدَقَةَ الْفِطْرِ نِصْفُ صَاعٍ وَالصَّاعُ ثَمَانِيَةُ أَرْطَالٍ , فَقَالَ: هَذِهِ أَعْجَبُ مِنَ الْأُولَى يُخْطِئُ فِي الْحَزْرِ وَيُنْقِصُ فِي الْعَطِيَّةِ , «لَا بَلْ صَاعٌ تَامٌّ عَنْ كُلِّ إِنْسَانٍ هَذَا أَدْرَكْنَا عُلَمَاءَنَا بِبَلَدِنَا هَذَا»
اسحاق بن سلیمان الرزی بیان کرتے ہیں کہ میں نے امام مالک رحمۃ اللہ علیہ بن انس رحمہ اللہ سے پوچھا اے ابو عبداللہ ! نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صاع کا کتنا وزن تھا؟ تو انہوں نے فرمایا پانچ عراقی رطل اور ایک تہائی رطل میں نے اس کا اندازہ لگایا ہے ۔ میں نے کہا اے ابو عبداللہ ! آپ نے قوم کے بزرگ کے خلاف بیان کیا ہے انہوں نے پوچھا وہ کون ہیں ؟ میں نے کہا ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ وہ آٹھ رطل کا تھا تو امام مالک رحمہ اللہ سخت غصے میں آ گئے اور فرمایا : اللہ تعالیٰ انہیں غارت کرے انہوں نے اللہ کے معاملہ میں یہ جرات کیسے کر لی ؟ پھر انہوں نے اپنے کچھ مجلس نشینوں سے کہا اے فلاں اپنے دادا کا صاع لے کر آؤ اے فلاں! اپنے چچا کا صاع لے کر آؤ، اے فلاں ! اپنی دادی کا صاع لے کر آؤ پھر جب سارے صاع جمع ہو گئے تو امام مالک رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا : تمہیں اس بارے میں کیا بات یاد ہے ؟ تو اس (صاع لے کر آنے والے) نے کہا مجھ سے میر ے والد نے بیان کیا اور انہوں نے اپنے والد سے روایت کیا کہ وہ اسی صاع کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو (زکاۃ وغیرہ) ادا کیا کرتے تھے اور دوسرے نے کہا مجھ سے میرے والد نے بیان کیا اور انہوں نے اپنے بھائی سے روایت کیا کہ وہ اسی صاع کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ادا کیا کرتے تھے پھر تیسر نے کہا مجھ سے میرے والد نے بیان کیا کہ اور انہوں اپنی والدہ سے روایت کیا کہ انہوں نے اسی صاع کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو (زکاۃ) ادا کی ۔ ( اس کے بعد) امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا میں نے ان صاعوں کا وزن کیا تو انہیں پانچ رطل اور ایک تہائی رطل وزن کا پایا ہے ۔ میں نے کہا اے ابو عبداللہ! میں آپ کو ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی اس سے بھی زیادہ عجیب بات بتاتا ہوں وہ یہ رائے رکھتے ہیں کہ فطرانہ آدھا صاع ہے اور ایک صاع آٹھ رطل کا ہوتا ہے تو مالک رحمہ اللہ نے فرمایا یہ تو پہلی بات سے بھی عجیب تر ہے انہیں اندازہ کرنے میں غلطی ہو گئی ہے اور ادائیگی میں کمی کر دی ہے ایسا نہیں ہے بلکہ ہر شخص کی طرف سے ایک مکمل صاع ادا کرنا ہو گا یہی موقف ہم نے اپنے اس شہر کے علماء کا دیکھا ہے ۔
إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ الرَّازِيُّ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ سَعِيدٍ الْخُرَاسَانِيُّ ← عمران بن موسى الطائي ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نَصْرِ بْنِ الْأَشْقَرِ أَبُو بَكْرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ