سنن دار القطنی · كِتَابُ الْجَنَائِزِ ‹ بَابُ جَوَازِ الْعَمَلِ الْقَلِيلِ فِي الصَّلَاةِ وَمَا يَلْزَمُ الْمُغْمَى عَلَيْهِ مِنَ الْقَضَاءِ وَوَقْتِ صَلَاةِ التَّطَوُّعِ · حديث 1857
1857 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى بْنِ السُّكَيْنِ , ثنا إِسْحَاقُ بْنُ زُرَيْقٍ , ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ , ثنا سُفْيَانُ , عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ , عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ , عَنْ عَلِيٍّ , قَالَ: قُلْنَا لِعَلِيٍّ حَدِّثْنَا عَنْ تَطَوُّعِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ: وَمَنْ يُطِيقُهُ , قُلْنَا: حَدِّثْنَا بِهِ نُطِيقُ مِنْهُ مَا أَطَقْنَا , قَالَ: كَانَ [ص:451] النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «يُمْهِلُ فَإِذَا ارْتَفَعَتِ الشَّمْسُ وَطَلَعَتْ فَكَانَتْ مِقْدَارُهَا مِنَ الْعَصْرِ مِنْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ يَفْصِلُ فِيهِنَّ بِالسَّلَامِ عَلَى الْمَلَائِكَةِ الْمُقَرَّبِينَ وَالنَّبِيِّينَ وَمَنْ تَبِعَهُمْ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُسْلِمِينَ , ثُمَّ يُمْهِلُ حَتَّى إِذَا ارْتَفَعَ الضُّحَى فَكَانَ مِقْدَارُهَا مِنَ الظُّهْرِ قِبَلَ الْمَشْرِقِ صَلَّى أَرْبَعًا يَفْصِلُ فِيهِنَّ مِثْلَ الْقَوْلِ الْأَوَّلِ , ثُمَّ يُمْهِلُ فَإِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ قَامَ فَصَلَّى أَرْبَعًا يَفْصِلُ فِيهَا بِالتَّسْلِيمِ عَلَى الْمَلَائِكَةِ الْمُقَرَّبِينَ وَالنَّبِيِّينَ وَمَنْ تَبِعَهُمْ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُسْلِمِينَ , ثُمَّ يُصَلِّي بَعْدَ الظُّهْرِ رَكْعَتَيْنِ يَفْصِلُ بِمِثْلِ ذَلِكَ ثُمَّ يُصَلِّي قَبْلَ الْعَصْرِ أَرْبَعًا يَفْصِلُ بِمِثْلِ ذَلِكَ»
عاصم بن ضمرہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے کہا: ہمیں رسول اللہ ﷺ کی نفرلی عبادت بیان کیجیے ۔ تو انہوں نے فرمایا: اس کی طقت کون رکھتا ہے ؟ ہم نے کہا: آپ ہمیں بیان کر دیجیے ہم میں جس قدر طاقت ہو گی اتنا عمل کرلیں گے ۔ تو انہوں نے فرمایا : رسول اللہ ﷺ ( فجر کی نماز پڑھ کر ) ٹھہرے رہا کرتے تھے ، جب سورج بلند ہو جاتا اور طلوع ہو جاتا اور مشرق کی جانب اس کی اتنی مقدار ہو جاتی جتنا وہ عصر کے وقت ( مغرب کی جانب ہوتا ہے ) تو آپ ﷺ دو رکعت نماز پڑھتے ۔ آپ ( اللہ تعالیٰ کے ) مقرب فرشتوں ، نبیوں اور مومنین و مسلمین میں سے ان کے پیروکاروں پر سلام بھیج کر ان میں فرق کرتے تھے ۔ پھر آپ ٹھہر جاتے ، یہاں تک کہ جب چاشت کے وقت سورج اس قدر بلند ہو جاتا جس قدر وہ ظہر کے وقت مشرق کی جانب ہوتا ہے تو آپ ﷺ چار رکعات نماز پڑھتے اور ان میں پہلے طریقے کے مطابق ہی فرق کرتے تھے ۔ پھر آپ ٹھہر جاتے اور جب سورج ڈھل جاتا تو کھڑے ہوتے اور چار رکعات نماز پڑھتے ۔ آپ ( اللہ تعالیٰ کے ) مقرب فرشتوں ، نبیوں اور مومنوں اور مسلمانوں میں سے ان کے پیروکاروں پر سلام بھیج کر ان میں فرق کرتے تھے ۔ پھر آپ ﷺ ظہر کے بعد دو رکعت نماز پڑھتے اور اسی کے مثل فرق کرتے تھے ۔ پھر عصر سے پہلے چار رکعات نماز پڑھتے اور اسی کے مثل فرق کرتے تھے ۔
بِهِ نُطِيقُ مِنْهُ مَا أَطَقْنَا ← وَمَنْ يُطِيقُهُ قُلْنَا: ← تَطَوُّعِ رَسُولِ اللَّهِ ← قُلْنَا لِعَلِيٍّ ← عَلِيٍّ، ← عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← سُفْيَانَ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ ← إِسْحَاقُ بْنُ زُرَيْقٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى بْنِ السُّكَيْنِ
Sunan Dar Al Qutni · The Funeral Book › The door to permissibility of work is limited in prayer and what is required of the unconscious from the judiciary and the time of the prayer of volunteerism · Hadith 1857
