1705 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ مَالِكٍ الْأَسْكَافِيُّ , حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ , ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ , ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ , عَنْ أَيُّوبَ , عَنْ أَبِي قِلَابَةَ , [ص:376] عَنْ عَمْرِو بْنِ سَلَمَةَ , فَلَقِيتُ عَمْرًا فَحَدَّثَنِي هَذَا الْحَدِيثَ , قَالَ: كُنَّا بِحَضْرَةِ مَاءٍ مَمَرَّ النَّاسِ وَكَانَ تَمُرُّ بِنَا الرُّكْبَانُ فَنَسْأَلُهُمْ مَا هَذَا الْأَمْرُ مَا لِلنَّاسِ؟ , فَيَقُولُونَ: نَبِيُّ يَزْعُمُ أَنَّ اللَّهَ أَرْسَلَهُ وَأَنَّ اللَّهَ أَوْحَى إِلَيْهِ كَذَا وَكَذَا , فَجَعَلْتُ أَتَلَقَّى ذَلِكَ الْكَلَامَ فَكَأَنَّمَا يُغْرِي فِي صَدْرِي بِغِرَاءٍ , يَقُولُ: أَحْفَظُهُ وَكَانَتِ الْعَرَبُ تَلَوَّمُ بِإِسْلَامِهَا الْفَتْحَ , وَيَقُولُونَ: أَبْصَرُوهُ وَقَوْمَهُ فَإِنْ ظَهْرَ عَلَيْهِمْ فَهُوَ نَبِيُّ صَادِقٌ فَلَمَّا جَاءَنَا وَقْعَةُ الْفَتْحِ بَادَرَ كُلُّ قَوْمٍ بِإِسْلَامِهِمْ , فَانْطَلَقَ أَبِي بِإِسْلَامِ أَهْلِ حِوَائِنَا ذَلِكَ فَقَدِمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَقَامَ عِنْدَهُ , فَلَمَّا أَقْبَلَ مِنْ عِنْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَلَقَّيْنَاهُ , فَلَمَّا رَآنَا قَالَ: " جِئْتُكُمْ وَاللَّهِ مِنْ عِنْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَقًّا فَإِنَّهُ يَأْمُرُكُمْ بِكَذَا وَكَذَا , وَقَالَ: صَلُّوا صَلَاةَ كَذَا فِي حِينِ كَذَا وَصَلَاةَ كَذَا فِي حِينِ كَذَا وَصَلَاةَ كَذَا فِي حِينِ كَذَا , فَإِذَا حَضَرَتِ الصَّلَاةُ فَلْيُؤَذِّنْ لَكُمْ أَحَدُكُمْ وَلْيَؤُمَّكُمْ أَكْثَرُكُمْ قُرْآنًا " , فَنَظَرُوا فِي أَهْلِ حِوَائِنَا ذَلِكَ فَمَا وَجَدُوا أَحَدًا أَكْثَرَ مِنِّي قُرْآنًا مِمَّا كُنْتُ أَتَلَقَّى مِنَ الرُّكْبَانِ , فَقَدَّمُونِي بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَأَنَا ابْنُ سَبْعِ سِنِينَ أَوْ سِتِّ سِنِينَ , فَكَانَتْ عَلَيَّ بُرْدَةٌ فِيهَا صِغَرٌ فَإِذَا سَجَدْتُ تَقَلَّصَتْ عَنِّي فَقَالَتِ امْرَأَةٌ مِنَ الْحَيِّ: أَلَا تُغَطُّوا عَنَّا اسْتَ قَارِئِكُمْ , فَكَسَوْنِي قَمِيصًا مِنْ مَعْقَدِ الْبَحْرَيْنِ فَمَا فَرِحْتُ بِشَيْءٍ كَفَرَحِي بِذَلِكَ الْقَمِيصِ
عمرو بن سلمہ بیان کرتے ہیں کہ ہم پانی کے ایک چشمے پر موجود تھے جو کہ لوگوں کی عام گزر گاہ تھا۔ ہمارے پاس سے جو بھی سوار گزرتے ،؛ ہم ان سے پوچھتے کہ کیا معاملہ ہے ؟ لوگوں کو کیا ہو ہے ؟ تو وہ جواب دیتے کہ ایک نبی ہے جس کا خیال ہے کہ اسے اللہ تعالیٰ نے بھیجا ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس کی طرف فلاں فلاں وحی کی ہے ۔ چنانچہ میں اس کلام کو خوب یاد کرنے لگ گیا، تو گویا وہ ایسے ہو گیا کہ جیسے کوئی اسے میرے سینے میں جما دیتا ہے ۔ اہل عرب مسلمان ہونے کے لیے فتح مکہ کے منتظر تھے اور وہ کہتے تھے ؛ اس نبی کو اور اس کی قوم کو دیکھتے رہو، اگر تو یہ ان پر غالب آ گیا تو یہ سچا نبی ہو گا۔ پھر جب مکہ فتح مکہ ہوا تو ہر قوم نے چاہا کہ پہلے وہ مسلمان ہو جائیں۔ چنانچہ میرے والد بھی اسلام قبول کرنے کے لیے ہماری قوم کے لوگوں کی طرف سے گئے ، جب وہ رسول اللہﷺ کے پاس آئے تو آپ کے ہاں ( کچھ روز ) قیام کیا، پھر جب رسول اللہ ﷺ کے ہاں سے ( واپس ) آئے تو ہم انہیں ملے ۔ جب انہوں نے ہمیں دیکھا تو بولے : اللہ کی قسم ! میں تمہارے پاس رسول برحق ﷺ کے ہاں سے آیا ہوں ، یقیناً وہ تمہیں فلاں فلاں حکم دیتے ہیں۔ انہوں نے فرمایا: فلاں وقت میں یہ نماز پڑھو اور فلاں وقت میں وہ نماز پڑھو۔ پھر جب نماز کا وقت ہو جائے تو تم میں سے ایک شخص کو تمہارے لیے اذان کہنی چاہیے اور تم میں سے جسے قرآن زیادہ آتا ہو وہ تمہاری امامت کرائے۔ چنانچہ لوگوں نے ہماری قوم کے لوگوں میں یہ دیکھا تو انہیں مجھ سے زیادہ قرآن کو جاننے والا کوئی دکھائی نہ دیا ، کیونکہ میں سواروں سے سیکھتا رہا تھا، چنانچہ انہوں نے مجھے اپنے آگے کھڑا کر لیا، حالانکہ اس وقت میری عمر سات یا چھے سال تھی۔ میرے تن پر ایک ہی چادر ہوتی تھی، وہ بھی چھوٹی سی، تو جب میں سجدہ کرتا تھا تو سکڑ جاتی تھی۔ قبیلے کی ایک عورت نے یہ منظر دیکھ کر کہا: کیا تم ہم سے اپنے قاری کا سرین نہیں چھپا سکتے؟ چنانچہ انہوں نے مجھے بحرین کی لنگی کا ایک قمیض سلا کر دیا، تو مجھے اس قمیض کی جتنی خوشی ہوئی اتنی خوشی کسی چیز سے نہیں ہوئی تھی۔
هَذَا الْحَدِيثَ ← عَمْرِو بْنِ سَلَمَةَ فَلَقِيتُ عَمْرًا ← أَبِي قِلَابَةَ، ← أَيُّوبَ، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ← إسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ ← مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ مَالِكٍ الْإِسْكَافِيُّ،