سنن دار القطنی · کتاب ‹ بَابُ صِفَةِ السَّهْوِ فِي الصَّلَاةِ وَأَحْكَامِهِ وَاخْتِلَافِ الرِّوَايَاتِ فِي ذَلِكَ وَأَنَّهُ لَا يَقْطَعُ الصَّلَاةَ شَيْءٌ يَمُرُّ بَيْنَ يَدَيْهِ · حديث 1378
1378 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ مِرْدَاسٍ , ثنا أَبُو دَاوُدَ , ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ , ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ , عَنْ أَيُّوبَ , عَنْ مُحَمَّدٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ: " صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِحْدَى صَلَاتِي الْعَشِيِّ الظُّهْرِ أَوِ الْعَصْرِ قَالَ: فَصَلَّى بِنَا رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ , ثُمَّ قَامَ إِلَى خَشَبَةٍ فِي مُقَدَّمِ الْمَسْجِدِ فَوَضَعَ يَدَيْهِ عَلَيْهَا إِحْدَاهُمَا عَلَى الْأُخْرَى يُعْرَفُ فِي وَجْهِهِ الْغَضَبُ , ثُمَّ خَرَجَ سُرْعَانُ النَّاسِ وَهُمْ يَقُولُونَ: قُصِرَتِ الصَّلَاةُ قُصِرَتِ الصَّلَاةُ , وَفِي النَّاسِ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ فَهَابَاهُ أَنْ يُكَلِّمَاهُ , فَقَامَ رَجُلٌ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسَمِّيهِ: ذَا الْيَدَيْنِ , فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَسِيتَ أَمْ قُصِرَتِ الصَّلَاةُ , فَقَالَ: «لَمْ أَنْسَ وَلَمْ تُقْصَرِ الصَّلَاةُ» , قَالَ: بَلْ نَسِيتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ , فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْقَوْمِ , فَقَالَ: «أَصَدَقَ ذُو الْيَدَيْنِ؟» , فَأَوْمَئُوا أَيْ نَعَمْ فَرَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى مَقَامِهِ فَصَلَّى الرَّكْعَتَيْنِ الْبَاقِيَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ , ثُمَّ كَبَّرَ وَسَجَدَ مِثْلَ سُجُودِهِ أَوْ أَطْوَلَ ثُمَّ رَفَعَ وَكَبَّرَ ". [ص:192] فَقِيلَ لِمُحَمَّدٍ: ثُمَّ سَلَّمَ فِي السَّهْوِ , قَالَ: لَمْ أَحْفَظْ مِنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , وَلَكِنْ نُبِّئْتُ أَنَّ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ , قَالَ: «ثُمَّ سَلَّمَ». [ص:193]
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے ہمیں سہ پہر کی دو نمازوں ( یعنی ) ظہر اور عصر میں سے کوئی نماز پڑھائی تو آپ نے ہمیں دو رکعات پڑھا کر ہی سلام پھیر دیا۔ پھر آپ مسجد کے اگلے حصے میں موجود ایک لکڑی کے پاس جا کھڑے ہوئے اور اپنے دونوں ہاتھ اس پر رکھ لیے ، ایک ہاتھ دوسرے ہاتھ کے اوپر تھا( اور ) آپ کے چہرہ مبارک پر غصے کے آثار دکھائی دے رہے تھے ۔ پھر لوگ جلدی سے نکلے اور وہ کہہ رہے تھے : نماز کم ہو گئی ، نماز کم ہو گئی ۔ لوگوں میں سیدنا ابو بکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے، لیکن وہ آپﷺ سے بات کرنے سے گھبرا رہے تھے ۔ چنانچہ ایک صاحب کھڑے ہوئے جنہیں رسول اللہﷺ ( پیار سے ) " ذوالیدین " کہا کرتے تھے ۔ انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ! کیا آپ بھول گئے یا نماز کم کر دی گئی ؟ تو آپﷺ نے فرمایا: نہ تو میں بھولا ہوں اور نہ ہی نماز کم ہوئی ہے ۔ تو انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول ! آپ بھول گئے ہیں۔ یہ سن کر رسول اللہﷺ لوگوں کے پاس تشریف لائے اور استفسار فرمایا: کیا ذوالیدین نے سچ کہا ہے ؟ تو لوگوں نے اشارے سے " ہاں " کہا ، تو رسول اللہﷺ دوبارہ اپنے مقام (یعنی مصلیٰ امامت ) پر آئے اور باقی دو رکعتیں پڑھا کر سلام پھیر دیا۔ پھر اللہ اکبر کہا اور اپنے ( عام ) سجدوں کے برابر یا ان سے تھوڑا لمبا سجدہ کیا، پھر اٹھے اور اللہ اکبر کہا۔ محمد ( راوی) سے پوچھا گیا: پھر آپ نے سہو میں سلام پھیر دیا؟ تو انہوں نے کہا: مجھے سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے ( روایت کردہ حدیث میں تو یہ الفاظ ) یاد نہیں ، البتہ مجھ تک سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کا یہ بیان پہنچا ہے کہ پھر آپ ﷺ نے سلام پھیر دیا۔
صَلَّی بِنَا رَسُولُ اللَّهِ إِحْدَی صَلَاتَيْ الْعَشِيِّ الظُّهْرَ أَوْ الْعَصْرَ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← مُحَمَّدٍ ← أَيُّوبَ، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ مِرْدَاسٍ
Sunan Dar Al Qutni · prayer book › The chapter on the description of forgetfulness in prayer and its rulings and the different narratives in that, and it is not interrupted by prayer something that passes between me · Hadith 1378
