1189 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْأَزْرَقُ يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ بُهْلُولٍ , حَدَّثَنِي جَدِّي , ثنا أَبِي , ثنا ابْنُ سَمْعَانَ , عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ صَلَّى صَلَاةً لَمْ [ص:85] يَقْرَأْ فِيهَا بِأُمِّ الْقُرْآنِ فَهِيَ خِدَاجٌ غَيْرُ تَمَامٍ». , قَالَ: فَقُلْتُ: يَا أَبَا هُرَيْرَةَ: إِنِّي رُبَّمَا كُنْتُ مَعَ الْإِمَامِ , قَالَ: فَغَمَزَ ذِرَاعِي ثُمَّ قَالَ: اقْرَأْ بِهَا فِي نَفْسِكَ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: إِنِّي قَسَمْتُ الصَّلَاةَ بَيْنِي وَبَيْنَ عَبْدِي نِصْفَيْنِ فَنِصْفُهَا لَهُ , يَقُولُ عَبْدِي إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ: {بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ} [الفاتحة: 1] فَيَذْكُرُنِي عَبْدِي , ثُمَّ يَقُولُ: {الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ} [الفاتحة: 2] فَأَقُولُ: حَمِدَنِي عَبْدِي , ثُمَّ يَقُولُ: {الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ} [الفاتحة: 1] فَأَقُولُ: أَثْنَى عَلَيَّ عَبْدِي , ثُمَّ يَقُولُ: {مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ} فَأَقُولُ: مَجَّدَنِي عَبْدِي , ثُمَّ يَقُولُ: {إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ} [الفاتحة: 5] فَهَذِهِ الْآيَةُ بَيْنِي وَبَيْنَ عَبْدِي نِصْفَيْنِ , وَآخِرُ السُّورَةِ لِعَبْدِي وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ ". ابْنُ سَمْعَانَ هُوَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زِيَادِ بْنِ سَمْعَانَ مَتْرُوكُ الْحَدِيثِ , وَرَوَى هَذَا الْحَدِيثَ جَمَاعَةٌ مِنَ الثِّقَاتِ , عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ مِنْهُمْ: مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ , وَابْنُ جُرَيْجٍ , وَرَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ , وَابْنُ عُيَيْنَةَ , وَابْنُ عَجْلَانَ , وَالْحَسَنُ بْنُ الْحُرِّ , وَأَبُو أُوَيْسٍ وَغَيْرُهُمْ عَلَى اخْتِلَافٍ مِنْهُمْ فِي الْإِسْنَادِ وَاتِّفَاقٍ مِنْهُمْ عَلَى الْمَتْنِ , فَلَمْ يَذْكُرْ أَحَدٌ مِنْهُمْ فِي حَدِيثِهِ {بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ} [الفاتحة: 1] وَاتِّفَاقُهُمْ عَلَى خِلَافِ مَا رَوَاهُ ابْنُ سَمْعَانَ أَوْلَى بِالصَّوَابِ
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول الله ﷺنے فرمایا: جس نے نماز پڑھی اور اس میں ام القرآن نہ پڑھی تو وہ نماز ادھوری ہے، نامکمل ہے۔ (عبدالرحمان )کہتے ہیں کہ میں نے کہا: اے ابو ہریرہ! میں بسا اوقات امام کے ساتھ نماز پڑھ رہا ہوتا ہوں (تو تب کیا کروں؟) تو انہوں نے میری پنڈلی پر کوئی چیز چبھوئی ، پھر فرمایا: اسے اپنے دل میں پڑھ لیا کرو، کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺکو فرماتے سنا ہے کہ اللہ تعالی فرماتا ہے: میں نے صلاة (سورة الفاتحہ) کو اپنے اور اپنے بندے کے درمیان دو حصوں میں تقسیم کر دیا ہے، اس کا نصف حصہ اس کے لیے (اور نصف حصہ میرے لیے ہے) میرا بندہ جب نماز شروع کرتا ہے تو بسم الله الرحمن الرحیم پڑھتا ہے، تو وو (یہ پڑھ کر )مجھے یاد کرتا ہے۔ پھر وہ والحمد لله رب العالمین کو پڑھتا ہے تو میں کہتا ہوں : میرے بندے نے میری تعریف کی ۔ پھر وہ الرحمن الرحیم پڑھتا ہے تو میں کہتا ہوں : میرے بندے نے میری ثنا بیان کی ۔ پھر وہ وملك يوم الدين پڑھتا ہے تو میں کہتا ہوں: میرے بندے نے میری بزرگی بیان کی ۔ پھر وہ وإياك نعبد وإياك نستعين پڑھتا ہے تو یہ آیت میرے اور میرے بندے کے درمیان نصف نصف ہے۔ سورت کا آخری حصہ میرے بندے کے لیے ہے (یعنی وہ اس حصے میں جو دعائیں مانگتا ہے وہ اسے ملے گا) اور میرے بندےکو وہ سب ملے گا جو اس نے مانگا۔ ابن سمعان سے مراد عبداللہ بن زیاد بن سمعان ہے جو متروک الحدیث ہے۔ یہ حدیث ثقہ رائیوں کی ایک جماعت نے علماء بن عبدالرحمان سے روایت کی ہے۔ ان راویوں میں امام مالك بن أنس، ابن جریج ، روح بن قاسم، ابن عیینہ ، ابن عجلان ، حسن بن خر اور اویس وغیرہ شامل ہیں، ان کا اسناد میں اختلاف توہے البتہ متن پر سب کا اتفاق ہے ۔ ان میں سے کی ایک نے بھی اپنی حدیث میں بسم الله الرحمن الرحيم ذکر نہیں کی ، ان کا ابن سمعان کی روایت کے خلاف جو اتفاق ہے وہی درست ہونے کےقریب تر ہے۔
أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ ← ابْنُ سَمْعَانَ، ← أَبِي ← جَدِّي، ← أَبُو بَكْرٍ الْأَزْرَقُ يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ بُهْلُولٍ
Sunan Dar Al Qutni · prayer book › The door to the duty to read in the name of God, the Compassionate, the Merciful in prayer and the public in it and the differing narratives in that · Hadith 1189