سنن دار القطنی · کتاب ‹ بَابُ ذِكْرِ بَيَانِ الْمَوَاقِيتِ وَاخْتِلَافِ الرِّوَايَاتِ فِي ذَلِكَ · حديث 986
986 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ النَّيْسَابُورِيُّ , ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ , ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ , أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ , أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ أَخْبَرَهُ , أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَانَ قَاعِدًا عَلَى الْمِنْبَرِ فَأَخَّرَ صَلَاةَ الْعَصْرِ شَيْئًا , فَقَالَ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ: أَمَا إِنَّ جَبْرَائِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ قَدْ أَخْبَرَ مُحَمَّدًا [ص:470] صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِوَقْتِ الصَّلَاةِ , فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: أَعْلَمُ مَا تَقُولُ , قَالَ عُرْوَةُ: سَمِعْتُ بَشِيرَ بْنَ أَبِي مَسْعُودٍ يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيَّ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «نَزَلَ جَبْرَائِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَأَخْبَرَنِي بِوَقْتِ الصَّلَاةِ فَصَلَّيْتُ مَعَهُ ثُمَّ صَلَّيْتُ مَعَهُ ثُمَّ صَلَّيْتُ مَعَهُ» يَحْسِبُ بِأَصَابِعِهِ خَمْسَ صَلَوَاتٍ , فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الظُّهْرَ حِينَ تَزُولُ الشَّمْسُ وَرُبَّمَا أَخَّرَهَا حِينَ يَشْتَدُّ الْحَرُّ , وَرَأَيْتُهُ يُصَلِّي الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ بَيْضَاءُ قَبْلَ أَنْ تَدْخُلَهَا الصُّفْرَةُ , فَيَنْصَرِفُ الرَّجُلُ مِنَ الصَّلَاةِ فَيَأْتِي ذَا الْحُلَيْفَةِ قَبْلَ غُرُوبِ الشَّمْسُ وَيُصَلِّي الْمَغْرِبَ حِينَ تَسْقُطُ الشَّمْسُ , وَيُصَلِّي الْعِشَاءَ حِينَ يَسْوَدُّ الْأُفُقُ وَرُبَّمَا أَخَّرَهَا حَتَّى يَجْتَمِعَ النَّاسُ , - قَالَ الرَّبِيعُ: سَقَطَ مِنْ كِتَابِي - , حَتَّى فَقَطْ , وَصَلَّى الصُّبْحَ مَرَّةً بِغَلَسٍ , ثُمَّ صَلَّى مَرَّةً أُخْرَى فَأَسْفَرَ ثُمَّ كَانَتْ صَلَاتَهُ بَعْدَ ذَلِكَ بِالْغَلَسِ حَتَّى مَاتَ , ثُمَّ لَمْ يَعُدْ إِلَى أَنْ يُسْفِرَ . [ص:471]
ابن شہاب بیان کرتے ہیں کہ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ منبر پر بیٹھے ہوئے تھے تو انہوں نے نماز عصر کو موخر کر دیا۔ اس پر عروہ بن زبیر رحمہ اللہ نے کہا: جبرائیل علیہ السلام نے محمد ﷺ کو نماز کا وقت بتلایا تھا۔ تو عمر رحمہ اللہ نے ان سے کہا: جو آپ کہہ رہے ہیں وہ میں بھی جانتا ہوں ۔ عروہ رحمہ اللہ نے کہا کہ میں نے بشیر بن ابو مسعود سے سنا، وہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابو مسعود رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ بیان کر رہے تھے کہ میں نے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کو فرماتے سنا: جبرائیل علیہ السلام (آسمان سے )نازل ہوئے اور انہوں نے نماز کا وقت بتلایا، تو میں نے ان کے ساتھ نماز پڑھی، پھر میں نے ان کے ساتھ (دوسری )نماز پڑھی، پھر میں نے ان کے ساتھ (تیسری )نماز پڑھی۔ آپ ﷺنے اپنی انگلیوں کے ساتھ پانچ نماز میں شمار کیں۔ پھر میں نے رسول الله ﷺ کو دیکھا کہ آپ ظہر کی نماز اس وقت پڑھتے تھے جب سورج زائل ہو جاتا تھا اور بسا اوقات اس وقت اسے موخر کردیتے تھے جب گرمی سخت ہو جاتی تھی، اور میں نے آپ ﷺکو عصر کی نماز اس وقت پڑھتے دیکھا جب سورج بلند اور صاف چمکدار تھا، یعنی اس پر زردی آنے سے پہلے۔ چنانچہ آ وی (عصر کی )نماز سے فارغ ہو کر غروب آفتاب سے پہلے ذالحلفیہ پہنچ میں جاتا تھا۔ اور آپ ﷺمغرب کی نماز اس وقت پڑھتے تھے جب سورج غائب ہو جاتا تھا اور عشاء کی نماز اس وقت پڑھتے تھے جب افق بتدریج سیاه ہو جاتا تھا، بسا اوقات آپ اسے تب تک موخر کر دیتے تھے جب تک کہ لوگ ( نماز کے لیے )جمع نہ ہو جاتے۔ ربیع کہتے ہیں کہ میری کتاب سے لفظ حتی ساقط ہے۔ آپ ﷺنے صبح کی نماز ایک مرتبہ اندھیرے میں پڑھی اور دوسری مرتبہ اس وقت پڑھی جب صبح کی سفیدی ظاہر ہو چکی تھی۔ پھر اس کے بعد آپ ﷺتا دم دفات اندھیرے میں ہی نماز پڑھتے رہے اور دوبارہ کبھی صبح کی سفیدی ظاہرکر کے نہیں پڑھی۔
أَسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ ← الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← أَبُو بَكْرٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ النَّيْسَابُورِيُّ
Sunan Dar Al Qutni · prayer book › The chapter on mentioning the timing of time and the different narratives in that · Hadith 986
