834 - حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ , ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ أَبِي الرَّبِيعِ الْجُرْجَانِيُّ , ثنا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ , ثنا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ , عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ طَلْحَةَ , عَنْ عَمِّهِ عِمْرَانَ بْنِ طَلْحَةَ , عَنْ أُمِّهِ حَمْنَةَ بِنْتِ جَحْشٍ , قَالَتْ: كُنْتُ أُسْتَحَاضُ حَيْضَةً شَدِيدَةً كَثِيرَةً , فَجِئْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْتَفْتِيهِ فَأُخْبِرُهُ فَوَجَدْتُهُ فِي بَيْتِ أُخْتِي زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ , قَالَتْ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أُسْتَحَاضُ حَيْضَةً كَبِيرَةً شَدِيدَةً فَمَا تَرَى فِيهَا؟ فَقَدْ مَنَعْتَنِي الصَّلَاةَ وَالصِّيَامَ , قَالَ: «أَنْعَتُ لَكِ الْكُرْسُفَ فَإِنَّهُ يُذْهِبُ الدَّمَ» , قَالَتْ: هُوَ أَكْثَرُ مِنْ ذَلِكَ , قَالَ: «فَتَلَجَّمِي» , قَالَتْ: هُوَ أَكْثَرُ مِنْ ذَلِكَ , قَالَ: «اتَّخِذِي ثَوْبًا» , قَالَتْ: هُوَ أَكْثَرُ مِنْ ذَلِكَ إِنَّمَا أَثُجُّ ثَجًّا , فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «سَآمُرُكِ بِأَمْرَيْنِ أَيَّتَهُمَا فَعَلْتِ فَقَدْ أَجْزَأَ عَنْكِ مِنَ الْآخَرِ , فَإِنْ قَوَيْتِ عَلَيْهِمَا فَأَنْتِ أَعْلَمُ» قَالَ لَهَا: «إِنَّمَا هَذِهِ رَكْضَةٌ مِنْ رَكَضَاتِ الشَّيْطَانِ , فَتَحَيَّضِي سِتَّةَ أَيَّامٍ أَوْ سَبْعَةَ أَيَّامٍ فِي عِلْمِ اللَّهِ , ثُمَّ اغْتَسِلِي حَتَّى إِذَا رَأَيْتِ [ص:399] أَنَّكِ قَدْ طَهُرْتِ وَاسْتَنْقَيْتِ فَصَلِّي أَرْبَعًا وَعِشْرِينَ لَيْلَةً أَوْ ثَلَاثًا وَعِشْرِينَ لَيْلَةً وَأَيَّامَهَا وَصُومِي , فَإِنَّ ذَلِكَ يُجْزِئُكِ وَكَذَلِكَ فَافْعَلِي فِي كُلِّ شَهْرٍ كَمَا تَحِيضُ النِّسَاءُ وَكَمَا يَطْهُرْنَ لِمِيقَاتِ حَيْضِهِنَّ وَطُهْرِهِنَّ , فَإِنْ قَوَيْتِ عَلَى أَنْ تُؤَخِّرِي الظُّهْرَ وَتُعَجِّلِي الْعَصْرَ وَتَغْسِلِينَ حَتَّى تَطْهُرِي ثُمَّ تُصَلِّيَنَ الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ جَمِيعًا ثُمَّ تُؤَخِّرِينَ الْمَغْرِبَ وَتُعَجِّلِينَ الْعِشَاءَ ثُمَّ تَغْسِلِينَ وَتَجْمَعِينَ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ فَافْعَلِي , وَتَغْتَسِلِينَ مَعَ الْفَجْرِ فَصَلِّي وَصُومِي إِنْ قَدَرْتِ عَلَى ذَلِكَ» , قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَهَذَا أَعْجَبُ الْأَمْرَيْنِ إِلَيَّ». [ص:400]
سیدہ حمنہ بنت حجش رضی اللہ عنہم بیان کرتی ہیں کہ مجھے بہت سخت اور بہت زیادہ استحاضہ آیا کرتا تھا، میں نبیﷺ کے پاس فتویٰ لینے آئی ، میں نے آپ کو اپنی ہمشیرہ سیدہ زینب بنت حجش رضی اللہ عنہ کے گھر میں پایا، میں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ! مجھے بہت سخت استحاضہ آتا ہے ، تو آپ اس بارے میں کیا حکم دیتے ہیں؟ اس نے تو مجھے نماز وروزے سے بھی روک رکھا ہے۔ تو آپ ﷺنے فرمایا: میں تمہارے لیے روئی تجویز کرتا ہوں، وہ خون کو روک لیا کرے گی۔ انہوں نے کہا: وہ اس سے بھی زیادہ ہوتا ہے۔ آپ ﷺنے فرمایا: - خون کا دہانہ بند کر دو ۔ انہوں نے کہا: وہ اس سے بھی زیادہ ہوتا ہے۔ تو آپ ﷺنے فرمایا: تم کپڑا رکھ لیا کرو۔ اس نے کہا: وہ اس سے بھی بہت زیادہ ہوتا ہے، وہ تو جیسے بڑے زور سے بہتا چلا جاتا ہے ۔ تو نبی ﷺنے ان سے فرمایا: میں تمہیں دو کام بتلاتا ہوں ، تم ان میں سے ایک بھی کر لوگی تو دوسرے کی ضرورت نہیں رہے گی ، لیکن اگر تم دونوں ہی کر لوتو یہ تم بہتر جانتی ہو ۔ پھر آپ ﷺنے ان سے فرمایا: یہ تو صرف شیطان کا ایک چوکا ہوتا ہے (تا کہ وہ اللہ کی عبادت سے روکے رکھے )، تم اللہ تعالی کے علم کے مطابق چھے سات دن حیض کے گزارا کرو، پھر غسل کر لیا کرو، یہاں تک کہ جب تم دیکھو کہ تم پاک صاف ہو گئی ہو تو چوبیس یا تیئیس دن نماز پڑھو اور (اگر روزے رکھنے ہوں تو) روزے رکھو، یقینا تمہیں یہی کفایت کر جائے گا، اور ہر مہینے اسی طرح کرتی رہنا جس طرح کے دیگر عورتوں کو حیض آتا ہے اور جس طرح وہ اپنے حیض کے مقررہ وقت سے پاک ہوتی ہیں، لیکن اگر تو طاقت رکھتی ہے تو یوں کر لیا کر کہ تو ظہر کی نماز کو موخر کر لے اور عصر کی نماز میں جلدی کر لے (یعنی ظہر کا آخری وقت ہو اور عصر کا پہلا وقت ہو)، اور غسل کر کے پاک ہو جا، پھر ظہر اور عصر کی نماز اکٹھی پڑھ لے، پھر مغرب کی نماز کو مؤخر کرلے اور عشاء میں جلدی کر لے، پھر غسل کر کے ان دونوں نمازوں کو اکٹھا پڑھ لے، اور فجر کو بھی غسل کر کے پڑھ لیا کر، پھر نماز پڑھ اور روزے رکھ، اگر تو اس پر قدرت رکھتی ہے۔ پھر رسول اللہ ﷺنے فرمایا: ان دونوں کاموں میں سے یہ کام مجھے زیادہ پسند ہے۔
فَقُلْتُ: ← فَوَجَدْتُهُ فِي بَيْتِ أُخْتِي زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ ← كُنْتُ أُسْتَحَاضُ حَيْضَةً شَدِيدَةً كَثِيرَةً فَجِئْتُ النَّبِيَّ أَسْتَفْتِيهِ ← أُمِّهِ حَمْنَةَ بِنْتِ جَحْشٍ ← عمه عمران بن طلحة ← إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ طَلْحَةَ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ← زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ أَبِي الرَّبِيعِ الْجُرْجَانِيُّ ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ