988 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ صَالِحٍ الْأَزْدِيُّ , ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ , ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ , ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الشَّافِعِيُّ , وَأَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ , قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ الْجَوْهَرِيُّ , ثنا مُعَلَّى بْنُ مَنْصُورٍ , قَالَا: نا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ , نا الشَّيْبَانِيُّ , عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ ذَرِيحٍ , عَنْ زِيَادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ النَّخَعِيِّ , قَالَ: كُنَّا جُلُوسًا مَعَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي الْمَسْجِدِ الْأَعْظَمِ , وَالْكُوفَةُ يَوْمَئِذٍ أَخْصَاصٌ , فَجَاءَهُ الْمُؤَذِّنُ فَقَالَ: الصَّلَاةُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ لِلْعَصْرِ , فَقَالَ: «اجْلِسْ» , فَجَلَسَ ثُمَّ عَادَ فَقَالَ ذَلِكَ , فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: «هَذَا الْكَلْبُ يُعَلِّمُنَا بِالسُّنَّةِ» , فَقَامَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَصَلَّى بِنَا الْعَصْرَ , ثُمَّ انْصَرَفْنَا فَرَجَعْنَا إِلَى الْمَكَانِ الَّذِي كُنَّا فِيهِ جُلُوسًا فَجَثَوْنَا لِلرُّكَبِ لِنُزِولِ الشَّمْسِ لِلْمَغِيبِ نَتَرَآهَا. [ص:472] زِيَادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ النَّخَعِيُّ مَجْهُولٌ لَمْ يَرْوِ عَنْهُ غَيْرُ الْعَبَّاسِ بْنِ ذَرِيحٍ
زیاد بن عبداللہ نخعی بیان کرتے ہیں کہ ہم مسجد اعظم میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے ، ان دنوں کوفے میں زیادہ تر مکانات لکڑی کی چھت کے بنے ہوئے تھے ، پھر آپ کے پاس مؤذن آیا اور اس نے کہا: اے امیر المومنین ! عصر کی نماز کا وقت ہو گیاہے۔ آپ نے فرمایا: بیٹھ جاؤ، تو وہ بیٹھ گیا۔ ( کچھ دیر بعد ) اس نے دوبارہ نماز کا کہا، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یہ کتا ہمیں سنت سکھا رہا ہے !! پھر ہم نماز پڑھ کر دوبارہ اسی جگہ آ کر بیٹھ گئے جہاں پہلے بیٹھے ہوئے تھے ، پھر ہم گھٹنوں کے بل بیٹھے تاکہ سورج کو مغرب کی طرف اترتے دیکھ سکیں۔ اس روایت کی سند میں زیاد بن عبداللہ النخعی مجہول راوی ہے اور عباس بن ذریح کے علاوہ کسی نے اس سے روایت نہیں کیا ۔
ذَلِكَ ← «اجْلِسْ» فَجَلَسَ ثُمَّ عَادَ ← الصَّلَاةُ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ لِلْعَصْرِ ← كُنَّا جُلُوسًا مَعَ عَلِيٍّ فِي الْمَسْجِدِ الْأَعْظَمِ وَالْكُوفَةُ يَوْمَئِذٍ أَخْصَاصٌ فَجَاءَهُ الْمُؤَذِّنُ ← زِيَادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ النَّخَعِيِّ ← الْعَبَّاسِ بْنِ ذَرِيحٍ، ← الشَّيْبَانِيِّ ← عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← مُعَلَّى بْنُ مَنْصُورٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ الْجَوْهَرِيُّ، ← أَبُو بَكْرٍ الشَّافِعِيُّ وَأَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ← يَحْيَی بْنُ آدَمَ ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ صَالِحٍ الْأَزْدِيُّ،
Sunan Dar Al Qutni · prayer book › The chapter on mentioning the timing of time and the different narratives in that · Hadith 988