1033 - حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ , نا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ , وَعَلِيُّ بْنُ شُعَيْبٍ , وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَوْنٍ , وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ , ثنا عَلِيُّ بْنُ أَشْكَابٍ , وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُبَشِّرٍ , ثنا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ , قَالُوا: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ الْأَزْرَقُ , عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ , عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ , عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ , [ص:494] عَنْ أَبِيهِ , قَالَ: أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ فَسَأَلَهُ عَنْ وَقْتِ الصَّلَاةِ , فَقَالَ: «صَلِّ مَعَنَا هَذَيْنِ الْيَوْمَيْنِ» , قَالَ: فَأَمَرَ بِلَالًا حِينَ زَالَتِ الشَّمْسُ فَأَذَّنَ ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ فَصَلَّى الظُّهْرَ ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ بَيْضَاءُ نَقِيَّةٌ ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ الْمَغْرِبَ حِينَ غَابَتِ الشَّمْسُ , ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ الْعِشَاءَ حِينَ غَابَ الشَّفَقُ ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ الْفَجْرَ حِينَ طَلَعَ الْفَجْرُ , ثُمَّ لَمَّا كَانَ الْيَوْمُ الثَّانِي أَمَرَهُ فَأَبْرَدَ بِالظُّهْرِ فَأَنْعَمَ أَنْ يُبْرِدَ بِهَا , ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ أَخَّرَهَا فَوْقَ ذَلِكَ الَّذِي كَانَ , ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ الْمَغْرِبَ قَبْلَ أَنْ يَغِيبَ الشَّفَقُ ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ الْعِشَاءَ حِينَ ذَهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ الْفَجْرَ فَأَسْفَرَ بِهَا ثُمَّ قَالَ: «أَيْنَ السَّائِلُ عَنْ وَقْتِ الصَّلَاةِ؟» فَقَامَ إِلَيْهِ الرَّجُلُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَقْتُ صَلَاتِكُمْ مَا بَيْنَ مَا رَأَيْتُمْ».
سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ کے پاس ایک آدمی آیا اور اس نے آپ سے نماز کے وقت کے بارے میں سوال کیا، تو آپ ﷺنے فرمایا: دو دن ہمارے ساتھ نماز پڑھو۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ آپ ﷺنے بلال رضی اللہ عنہ کو اذان کہنے کا حکم دیا، جس وقت سورج ڈھل گیا، چنانچہ انہوں نے اذان کہی، پھر انہیں اقامت کہنے کا حکم فرمایا تو انہوں نے اقامت کہی، پھر ظہر کی نماز پڑھائی، (پھرنماز عصر کے وقت ) انہیں حکم فرمایا تو انہوں نے عصر کی ا قامت کہی اور اس وقت سورج بلند ، سفید اور چمکدار تھا، پھرمغرب کے وقت انہیں حکم فرمایا تو انہوں نے مغرب کی اقامت کہی ، اور یہ وہ وقت تھا جب سورج غروب ہوا، پھر( عشاء کے وقت )انہیں حکم دیا تو انہوں نے عشاء کی اقامت کہی جس وقت شفق غائب ہو چکی تھی، پھر (صبح کے وقت ) انہیں حکم فرمایا تو انہوں نے فجر کی اقامت اس وقت کہی جب فجرطلوع ہوئی۔ پھر جب اگلا دن تھا تو آپ ﷺنے بلال رضی اللہ عنہ کو حکم فرمایا تو انہوں نے ظہر کو ٹھنڈا کر دیا اور آپ ﷺکو اچھا لگتا تھا کہ آپ اس نماز کو ٹھنڈے وقت میں پڑھائیں، پھر آپ ﷺنے انہیں حکم فرمایا تو انہوں نے عصر کی اقامت اس وقت کہی جب سورج بلند تھا، انہوں نے اسے اس وقت سے مؤخر کر دیا جو وقت پہلے ون تھا، پھر انہیں حکم فرمایا تو انہوں نے مغرب کی اقامت شفق غروب ہونے سے پہلے کہی ، پھر آپ ﷺ نے انہیں حکم فرمایا تو انہوں نے عشاء کی اقامت اس وقت کہی جب رات کا تہائی حصہ گزر گیا، پھر( صبح کے وقت ) آپ ﷺنے بلال رضی اللہ عنہ کو حکم فرمایا تو انہوں نے فجر کی اقامت صبح کو روشن کر سکےکہی ، پھر آپ ﷺنے فرمایا: نماز کے وقت کے بارے میں سوال کرنے والا کہاں ہے؟ تو وہ آدمی اٹھ کر آپ ﷺکے پاس آیا، تو رسول اللہ ﷺنے فرمایا: تمہاری نماز کا وقت ان ( دو وقتوں ) کے درمیان ہی ہے جو تم نے دیکھا۔
«صَلِّ مَعَنَا هَذَيْنِ الْيَوْمَيْنِ» ← وَقْتِ الصَّلاةِ. ← أَتَى النَّبِيَّ رَجُلٌ فَسَأَلَهُ ← أَبِيهِ ← سُلَيْمَانَ بْنُ بُرَيْدَةَ ← عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← إسحاق بن يوسف الأزرق ← أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ، ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُبَشِّرٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَشْكَابٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَوْنٍ، ← عَلِيُّ بْنُ شُعَيْبٍ، ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ
Sunan Dar Al Qutni · prayer book › The door of the Imamate of Gabriel · Hadith 1033