765 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ , نا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ , نا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ , نا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ رَزِينٍ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ , عَنْ أَيُّوبَ بْنِ قَطَنٍ , عَنْ عُبَادَةَ بْنِ نُسِيٍّ , عَنْ أَبِي هُوَ ابْنُ عُمَارَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى فِي بَيْتِ عُمَارَةَ الْقِبْلَتَيْنِ , وَأَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَمْسَحُ عَلَى الْخُفَّيْنِ؟ , قَالَ: «نَعَمْ» , قَالَ: يَوْمًا يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ , قَالَ: «نَعَمْ» , قَالَ: وَيَوْمَيْنِ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ , قَالَ: «نَعَمْ وَثَلَاثًا» , قَالَ: ثَلَاثًا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ حَتَّى بَلَغَ سَبْعًا , ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «وَمَا بَدَا لَكَ». [ص:366] هَذَا الْإِسْنَادُ لَا يُثْبَتُ وَقَدِ اخْتُلِفَ فِيهِ عَلَى يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ اخْتِلَافًا كَثِيرًا قَدْ بَيَّنْتُهُ فِي مَوْضِعٍ آخَرَ , وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ , وَمُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ , وَأَيُّوبُ بْنُ قَطَنٍ مَجْهُولُونَ كُلُّهُمْ وَاللَّهُ أَعْلَمُ
ابن عمارہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے سیدنا عمارہ رضی اللہ عنہ کے گھر دونوں قبلوں کی جانب نماز پڑھی ( یعنی تحویل قبلہ سے پہلے بھی اور بعد بھی) تو انہوں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول! کیا میں موزوں پر مسح کر سکتا ہوں؟ تو آپﷺ نے فرمایا: ہاں۔ انہوں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول ! ایک دن ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : ہاں۔ انہوں نے کہا: اے اللہ کہ رسول ! دو دن ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : ہاں بلکہ تین دن تک ۔ اے اللہ کے رسول ! تین دن تک ؟ ( ہونہی پوچھتے رہے ) یہاں تک کہ سات تک پہنچ گئے ۔ پھر رسول اللہﷺ نے فرمایا: جتنا تم بہتر سمجھو ۔ یہ سند ثابت نہیں ہے اور اس میں یحییٰ بن ایوب پر بہت اختلاف کیا گیا ہے ۔ جسےمیں نے دوسرے مقام پر بیان کر دیا ہے ، اور عبدالرحمان ، محمد بن یزید اور ایوب بن قطن سب کے سب مجہول ہیں۔ واللہ اعلم
أَبِي هُوَ ابْنُ عُمَارَةَ ← عُبَادَةَ بْنِ نُسَيٍّ ← أَيُّوبَ بْنِ قَطَنٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ رَزِينٍ ← يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ← سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ،