545 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ النَّقَّاشُ , نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَحْيَى الْقَاضِي السَّرَخْسِيُّ , نا رَجَاءُ بْنُ مَرْجَاءَ الْحَافِظُ , قَالَ: اجْتَمَعْنَا فِي مَسْجِدِ الْخَيْفِ أَنَا وَأَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ , وَعَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ , وَيَحْيَى بْنُ مَعِينٍ , فَتَنَاظَرُوا فِي مَسِّ الذَّكَرِ , فَقَالَ يَحْيَى: يُتَوَضَّأُ مِنْهُ , وَقَالَ عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ بِقَوْلِ الْكُوفِيِّينَ وَتَقَلَّدَ قَوْلَهُمْ , وَاحْتَجَّ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ بِحَدِيثِ بُسْرَةَ بِنْتِ صَفْوَانَ , وَاحْتَجَّ عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ [ص:274] بِحَدِيثِ قَيْسِ بْنِ طَلْقٍ , وَقَالَ لِيَحْيَى: كَيْفَ تَتَقَلَّدَ إِسْنَادَ بُسْرَةَ , وَمَرْوَانُ أَرْسَلَ شَرْطِيًّا حَتَّى رَدَّ جَوَابَهَا إِلَيْهِ , فَقَالَ يَحْيَى: وَقَدْ أَكْثَرَ النَّاسُ فِي قَيْسِ بْنِ طَلْقٍ وَلَا يُحْتَجُّ بِحَدِيثِهِ , فَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ: كِلَا الْأَمْرَيْنِ عَلَى مَا قُلْتُمَا , فَقَالَ يَحْيَى: مَالِكٌ , عَنْ نَافِعٍ , عَنِ ابْنِ عُمَرَ: «أَنَّهُ تَوَضَّأَ مِنْ مَسِّ الذَّكَرِ». , فَقَالَ عَلِيُّ: كَانَ ابْنُ مَسْعُودٍ يَقُولُ: لَا يَتَوَضَّأُ مِنْهُ وَإِنَّمَا هُوَ بَضْعَةٌ مِنْ جَسَدِكَ , فَقَالَ يَحْيَى: عَنْ مَنْ؟ , قَالَ: سُفْيَانُ , عَنْ أَبِي قَيْسٍ , عَنْ هُزَيْلٍ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ , وَإِذَا اجْتَمَعَ ابْنُ مَسْعُودٍ وَابْنُ عُمَرَ وَاخْتَلَفَا فَابْنُ مَسْعُودٍ أَوْلَى أَنْ يُتَّبَعَ , فَقَالَ لَهُ أَحْمَدُ: نَعَمْ وَلَكِنْ أَبُو قَيْسٍ لَا يُحْتَجُّ بِحَدِيثِهِ فَقَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو نُعَيْمٍ , ثنا مِسْعَرٌ , عَنْ عُمَيْرِ بْنِ سَعِيدٍ , عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ , قَالَ: «مَا أُبَالِي مَسِسْتُهُ أَوْ أَنْفِي». فَقَالَ أَحْمَدُ: عَمَّارٌ وَابْنُ عُمَرَ اسْتَوَيَا فَمَنْ شَاءَ أَخَذَ بِهَذَا وَمَنْ شَاءَ أَخَذَ بِهَذَا
رجاء بن مرجاء الحافظ بیان کرتے ہیں کہ میں ، احمد بن حنبل ، علی بن مدینی اور یحییٰ بن معین رحمہم اللہ مسجد خیف میں جمع تھے اور یہ اصحاب شرم گاہ کو چھونے کے مسئلے پر مناظرہ کر رہے تھے ۔ یحییٰ نے فرمایا: اس کو چھونے کے بعد وضوء کیا جائے گا۔ اور علی بن مدینی نے کوفیوں کے قول کے مطابق ہی رائے دی اور ان ہی کے قول کی تقلید کی ۔ یحییٰ بن معین رحمہ اللہ نے سیره بسر بنت صفوان رضی اللہ عنہ والی حدیث کو دلیل بنایا جبکہ علی بن مدینی نے قیس بن طلق کی روایت کردہ حدیث سے حجت پکڑی اور یحییٰ سے کہا: آپ بسره والی روایت کی کیسے تقلید کر سکتے ہیں جبکہ مروان نے ان کی طرف ایک سپاہی بھیجا تھا جو ان سے اس کا جواب لے کر آیا تھا۔ یحییٰ نے کہا: بہت سے لوگوں نے قیس بن طلاق کی حدیث کے بارے میں رائے زنی کی ہے اور اس کی حدیث کو قابل حجت قرارنہیں دیا گیا تو امام احمد بن حنبل رحمتہ اللہ نے فرمایا: تم دونوں جو کہہ رہے ہو اپنی اپنی جگہ درست ہے۔ پھر یحییٰ نے کہا: مالک نے نافع کے واسطے سے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ کے بارے میں روایت کیا کہ انہوں نے شرم گاہ کو چھونے سے وضوء کیا تھا۔ پھر علی بن مدینی رحمہ اللہ نے کہا: سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے۔ اس سے وضو نہیں کیا جائے گا، یہ تو تمہارے جسم کا ایک عضو ہے۔ تو یحییٰ نے پوچھا: یہ روایت کس سے مروی ہے؟ انہوں نے کہا: اسے سفیان نے ابو قیس سے، انہوں نے ہزیل سے اور انہوں نے سیدنا عبداللہ رضی اللہ انہ سے روایت کیا ہے، اور جب ابن مسعود اور ابن عمر رضی اللہ عنہ کا کسی مسئلہ میں اختلاف ہو جائے تو ابن مسعود رضی اللہ عنہ اس بات کے زیادو لائق ہیں کہ ان کے موقف کو تسلیم کیا جائے ۔ تو امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے فرمایا: جی ہاں ، لیکن ابوقیس کو حدیث کے معاملے میں معتبر قرار نہیں دیا جاتا۔ تو انہوں نے کہا: مجھے ابونعیم نے بیان کیا کہ ہمیں مسعر نے عمیر بن سعید کے واسطے سے بیان کیا کہ سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: مجھے اس بات کی پرواہ نہیں ہوتی کہ میں (دوران نماز ) اپنی شرم گاہ یا اپنی ناک کو ہاتھ لگاؤں ۔ پھر امام احمد رحمہ اللہ نے فرمایا سیدنا عمار اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ برابر ہیں، سو جو چاہے اس کا موقف لے لے اور جو چاہے اس کے موقف پر عمل کر لے۔
رَجَاءُ بْنُ مَرْجَاءَ الْحَافِظُ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَحْيَى الْقَاضِي السَّرَخْسِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ النَّقَّاشُ
Sunan Dar Al Qutni · The Book of Purity › The chapter on what was narrated in the sense of acceptance, thought, remembrance and wisdom in that · Hadith 545