سنن دار القطنی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ مَا رُوِيَ مِنْ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْأُذُنَانِ مِنَ الرَّأْسِ» · حديث 369
369 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُبَشِّرٍ , نا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ , نا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ , وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدَانَ , نا شُعَيْبُ بْنُ أَيُّوبَ , نا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ , وَحَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبَزَّازُ , نا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ فُضَيْلٍ , نا أَبُو الْوَلِيدِ , وَيَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ , قَالُوا: نا زَائِدَةُ , نا خَالِدُ بْنُ عَلْقَمَةَ , حَدَّثَنِي عَبْدُ خَيْرٍ , قَالَ: جَلَسَ عَلِيُّ بَعْدَمَا صَلَّى الْفَجْرَ فِي الرَّحْبَةِ , ثُمَّ قَالَ لِغُلَامِهِ: «ائْتِنِي بِطَهُورٍ» , فَأَتَاهُ الْغُلَامُ بِإِنَاءٍ فِيهِ مَاءٌ , وَطَسْتٍ وَنَحْنُ نَنْظُرُ إِلَيْهِ , فَأَخَذَ بِيَمِينِهِ الْإِنَاءَ فَأَكْفَأَهُ عَلَى يَدِهِ الْيُسْرَى ثُمَّ غَسَلَ كَفَّيْهِ , ثُمَّ أَخَذَ بِيَدِهِ الْيُمْنَى الْإِنَاءَ فَأَفْرَغَ عَلَى يَدِهِ الْيُسْرَى ثُمَّ غَسَلَ كَفَّيْهِ , ثُمَّ أَخَذَ بِيَدِهِ الْيُمْنَى الْإِنَاءَ فَأَفْرَغَ عَلَى يَدِهِ الْيُسْرَى , ثُمَّ غَسَلَ كَفَّيْهِ فَعَلَهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ [ص:187] قَالَ عَبْدُ خَيْرٍ: كُلُّ ذَلِكَ لَا يُدْخِلُ يَدَهُ فِي الْإِنَاءِ حَتَّى يَغْسِلَهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ - ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى فِي الْإِنَاءِ فَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ وَنَثَرَ بِيَدِهِ الْيُسْرَى فَعَلَ ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ , ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى فِي الْإِنَاءِ فَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ , ثُمَّ غَسَلَ بِيَدِهِ الْيُمْنَى ثَلَاثَ مَرَّاتٍ إِلَى الْمِرْفَقِ , ثُمَّ غَسَلَ يَدَهُ الْيُسْرَى ثَلَاثَ مَرَّاتٍ إِلَى الْمِرْفَقِ , ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى فِي الْإِنَاءِ حَتَّى غَمَرَهَا الْمَاءُ ثُمَّ رَفَعَهَا بِمَا حَمَلَتْ مِنَ الْمَاءِ ثُمَّ مَسَحَهَا بِيَدِهِ الْيُسْرَى ثُمَّ مَسَحَ رَأْسَهُ بِيَدَيْهِ كِلْتَيْهِمَا مَرَّةً , ثُمَّ صَبَّ بِيَدِهِ الْيُمْنَى عَلَى قَدَمِهِ الْيُمْنَى ثَلَاثَ مَرَّاتٍ , ثُمَّ غَسَلَهَا بِيَدِهِ الْيُسْرَى ثَلَاثَ مَرَّاتٍ , ثُمَّ صَبَّ بِيَدِهِ الْيُمْنَى عَلَى قَدَمِهِ الْيُسْرَى ثَلَاثَ مَرَّاتٍ , ثُمَّ غَسَلَهَا بِيَدِهِ الْيُسْرَى ثَلَاثَ مَرَّاتٍ , ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى فِي الْإِنَاءِ فَغَرَفَ بِكَفِّهِ فَشَرِبَ , ثُمَّ قَالَ: «هَذَا طَهُورُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى طَهُورِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَهَذَا طُهُورُهُ». وَقَدْ زَادَ بَعْضُهُمُ الْكَلِمَةَ وَالشَّيْءَ وَالْمَعْنَى قَرِيبٌ
عبد خیر ہی روایت کرتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ (ایک روز) فجر کی نماز پڑھنے کے بعد باہرکھلی جگہ میں آ کر بیٹھ گئے اور اپنے غلام سے کہا کہ میرے لیے وضو کا پانی لاؤ۔ چنانچہ غلام ان کے پاس ایک تھال میں برتن رکھ کر لے آیا جس میں پانی تھا، ہم ان کی طرف دیکھ رہے تھے ۔ آپ نے اپنے دائیں ہاتھ سے پانی کا برتن پکڑا اور بائیں ہاتھ پر پانی ڈالا، پھر اپنے دونوں ہاتھوں کو تین مرتبہ دھویا۔ پھر اپنے دائیں ہاتھ سے برتن پکڑا اور بائیں ہاتھ پر پانی ڈالا اور پھر دونوں ہاتھوں کا تین مرتبہ دھویا۔ آپ نے اسی طرح تین مرتبہ کیا۔ عبد خیر کہتے ہیں : آپ نے تینوں بار ہاتھ کو برتن کے اندر نہیں ڈالا اور (پانی لے کر) کلی کی، ناک میں پانی چڑھایا اور بائیں ہاتھ سے ناک صاف کیا۔ آپ نے ان میں سے ہر عمل تین تین بار کیا۔ پھر آپ نے برتن میں ہاتھ ڈالا اور ( پانی لے کر ) تین مرتبہ اپنا چہرہ دھویا ، پھر اپنے دائیں بازو کو کہنیوں تک تین مرتبہ دھویا، پھر اپنا دایاں ہاتھ برتن میں ڈالا، یہاں تک کہ اسے پانی نے ڈھانپ لیا (یعنی پانی کے اندر چلا گیا ) پھر اس میں جتنا پانی آسکتاتھالیا، پھر اپنے بائیں ہاتھ کو اس پر پھیرا ( تاکہ اس پر بھی پانی لگ جائے) پھر اپنے دونوں ہاتھوں سے ایک مرتبہ مسح کیا ۔ پھر آپ نے اپنے دائیں ہاتھ کے ساتھ دائیں پاؤں پر تین مرتبہ پانی ڈالااور بائیں ہاتھ کے ساتھ اسے تین مرتبہ دھویاپھر دائیں ہاتھ کے ساتھ بائیں پاؤں پر تین مرتبہ پانی ڈالا اور بائیں ہاتھ کے ساتھ اسے تین مرتبہ دھویا۔ پھرا اپنا ہاتھ برتن میں ڈالا اور اس سے چلو بھر کر پی لیا۔ پھر فرمایا : یہ اللہ کے نبی ﷺ کے وضوء کا طریقہ ہے ، سو جو شخص یہ پسند کرتا ہو کہ وہ نبی ﷺ کا وضوء دیکھے تو یہی ہے آپﷺ کا وضوء۔ بعض نے کچھ کلمات و الفاط کا اضافہ بھی کیا ہے لیکن ان کا معنی تقریباً یہی ہے ۔یہ روایت صحیح ہے ۔
جَلَسَ عَلِيُّ بَعْدَمَا صَلَّى الْفَجْرَ فِي الرَّحْبَةِ ثُمَّ ← عبد خير ← خَالِدِ بْنِ عَلْقَمَةَ ← زَائِدَۃَ، ← أَبُو الْوَلِيدِ وَيَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ← جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ فُضَيْلٍ ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبَزَّازُ ← حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ ← شُعَيْبُ بْنُ أَيُّوبَ ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدَانَ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ← أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ، ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُبَشِّرٍ
Sunan Dar Al Qutni · The Book of Purity › Chapter on what was narrated from the Prophet’s peace and blessings be upon him: “The ears are from the head.” · Hadith 369
