سنن دار القطنی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ حُكْمِ الْمَاءِ إِذَا لَاقَتْهُ النَّجَاسَةُ · حديث 25
25 - حَدَّثَنَا الْقَاضِي الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ , نا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ , نا عَفَّانُ , نا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ , نا عَاصِمُ بْنُ الْمُنْذِرِ , قَالَ: كُنَّا فِي بُسْتَانٍ لَنَا أَوْ لِعُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ فَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ فَقَامَ عُبَيْدُ اللَّهِ إِلَى مِقْرًى فِي الْبُسْتَانِ فَجَعَلَ يَتَوَضَّأُ مِنْهُ وَفِيهِ جِلْدُ بَعِيرٍ مَيِّتٍ , فَقُلْتُ: أَتَوَضَّأُ مِنْهُ وَفِيهِ هَذَا الْجِلْدُ؟ , فَقَالَ حَدَّثَنِي أَبِي , عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا كَانَ الْمَاءُ قُلَّتَيْنِ لَمْ يُنَجَّسْ».
عاصم بن منذر بیان کرتے ہیں کہ ہم اپنے ، یا کہا کہ عبیداللہ بن عبداللہ بن عمر کے باغ میں موجود تھے کہ نماز کا وقت ہو گیا، تو عبیداللہ رحمتہ اللہ کھڑے ہوئے اور اس تالاب کے پاس گئے جو باغ میں تھا اور اس سے وضو کرنے لگے ، حالانکہ اس میں مردہ اونٹ کی کھال پڑی ہوئی تھی۔ تو میں نے کہا : کیا آپ نے اسی پانی سے وضو کر لیا؟ جبکہ اس میں تو یہ کھال پڑی ہوئی ہے ۔ تو انہوں نے کہا : مجھے میرے والد نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب پانی دو مٹکوں کی مقدار میں ہو تو اسے ناپاک نہیں کیا جا سکتا۔
عَاصِمُ بْنُ الْمُنْذِرِ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عَفَّانُ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ ← الْقَاضِي الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ،
Hadith 25
