772 - حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ , نا عَلِيُّ بْنُ مُسْلِمٍ , نا أَبُو دَاوُدَ , نا عَبَّادُ بْنُ رَاشِدٍ , سَمِعْتُ أَبَا رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيَّ , قَالَ: سَمِعْتُ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ , قَالَ: سَارَ بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ , ثُمَّ عَرَّسْنَا فَلَمْ نَسْتَيْقِظْ إِلَّا بِحَرِّ الشَّمْسِ , فَاسْتَيْقَظَ مِنَّا سِتَّةٌ قَدْ نَسِيتُ أَسْمَاءَهُمْ , ثُمَّ اسْتَيْقَظَ أَبُو بَكْرٍ
رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَجَعَلَ يَمْنَعُهُمْ أَنْ يُوقِظُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَيَقُولُ: لَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يَكُونَ احْتَبَسَهُ فِي حَاجَتِهِ , فَجَعَلَ أَبُو بَكْرٍ يُكْثِرُ التَّكْبِيرَ فَاسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ ذَهَبَتْ صَلَاتُنَا , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَمْ تَذْهَبْ صَلَاتُكُمُ ارْتَحِلُوا مِنْ هَذَا الْمَكَانِ» , فَارْتَحَلَ فَسَارَ قَرِيبًا ثُمَّ نَزَلَ فَصَلَّى , فَقَالَ: «أَمَا إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَتَمَّ صَلَاتَكُمْ» , قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ فُلَانًا لَمْ يُصَلِّ مَعَنَا , فَقَالْ لَهُ: «مَا مَنَعَكَ أَنْ تُصَلِّيَ؟» , قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَصَابَتْنِي جَنَابَةٌ , قَالَ: «فَتَيَمَّمِ الصَّعِيدَ وَصَلِّهِ فَإِذَا قَدَرْتَ عَلَى الْمَاءِ فَاغْتَسِلْ» , وَبَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِيًّا فِي طَلَبِ الْمَاءِ وَمَعَ كُلِّ وَاحِدٍ مِنَّا إِدَاوَةٌ مِثْلُ أُذُنَيِ الْأَرْنَبِ بَيْنَ جِلْدِهِ وَثَوْبِهِ , إِذَا عَطِشَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابْتَدَرْنَاهُ بِالْمَاءِ , فَانْطَلَقَ حَتَّى ارْتَفَعَ عَلَيْهِ النَّهَارُ وَلَمْ يَجِدْ مَاءً فَإِذَا شَخْصٌ , قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: مَكَانَكُمْ حَتَّى نَنْظُرَ مَا هَذَا , قَالَ: فَإِذَا امْرَأَةٌ بَيْنَ مَزَادَتَيْنِ مِنْ مَاءٍ , [ص:372] فَقِيلَ لَهَا: يَا أَمَةَ اللَّهِ أَيْنَ الْمَاءُ؟ , قَالَتْ: لَا مَاءَ وَاللَّهِ لَكُمُ اسْتَقَيْتُ أَمْسِ فَسِرْتُ نَهَارِي وَلَيْلِي جَمِيعًا وَقَدْ أَصْبَحْنَا إِلَى هَذِهِ السَّاعَةِ , قَالُوا لَهَا: انْطَلِقِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَتْ: وَمَنْ رَسُولُ اللَّهِ؟ , قَالُوا: مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَتْ: مَجْنُونُ قُرَيْشٍ؟ , قَالُوا: إِنَّهُ لَيْسَ بِمَجْنُونٍ وَلَكِنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَتْ: يَا هَؤُلَاءِ دَعُونِي فَوَاللَّهِ لَقَدْ تَرَكْتُ صِبْيَةً لِي صِغَارًا فِي غُنَيْمَةٍ قَدْ خَشِيتُ أَنْ لَا أُدْرِكَهُمْ حَتَّى يَمُوتَ بَعْضُهُمْ مِنَ الْعَطَشِ , فَلَمْ يُمَلِّكُوهَا مِنْ نَفْسِهَا شَيْئًا حَتَّى أَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَا , فَأَمَرَ بِالْبَعِيرِ فَأُنِيخَ ثُمَّ حَلَّ الْمَزَادَةَ مِنْ أَعْلَاهَا ثُمَّ دَعَا بِإِنَاءٍ عَظِيمٍ فَمَلَأَهُ مِنَ الْمَاءِ ثُمَّ دَفَعَهُ إِلَى الْجُنُبِ , فَقَالَ: «اذْهَبْ فَاغْتَسِلْ» , قَالُوا: أَيْمُ اللَّهِ مَا تَرَكْنَا مِنْ إِدَاوَةٍ وَلَا قِرْبَةِ مَاءٍ وَلَا إِنَاءٍ إِلَّا مَلَأَهُ مِنَ الْمَاءِ وَهِيَ تَنْظُرُ ثُمَّ شَدَّ الْمَزَادَةَ مِنْ أَعْلَاهَا وَبَعَثَ بِالْبَعِيرِ , وَقَالَ: «يَا هَذِهِ دُونَكِ مَاءَكِ فَوَاللَّهِ إِنْ لَمْ يَكُنِ اللَّهِ زَادَ فِيهِ مَا نَقَصَ مِنْ مَائِكِ قَطْرَةٌ» , وَدَعَا لَهَا بِكِسَاءٍ فَبُسِطَ , ثُمَّ قَالَ لَنَا: «مَنْ كَانَ عِنْدَهُ شَيْءٌ فَلْيَأْتِ بِهِ» , فَجَعَلَ الرَّجُلُ يَأْتِي بِخُلُقِ النَّعْلِ , وَبِخُلُقِ الثَّوْبِ , وَالْقَبْضَةِ مِنَ الشَّعِيرِ , وَالْقَبْضَةِ مِنَ التَّمْرِ , وَالْفَلْقَةِ مِنَ الْخُبْزِ حَتَّى جَمَعَ لَهَا ذَلِكَ , ثُمَّ أَوْكَاهُ لَهَا فَسَأَلَهَا عَنْ قَوْمِهَا فَأَخْبَرَتْهُ , قَالَ: فَانْطَلَقَتْ حَتَّى أَتَتْ قَوْمَهَا , قَالُوا: مَا حَبَسَكِ؟ , قَالَتْ: أَخَذَنِي مَجْنُونُ قُرَيْشٍ وَاللَّهِ إِنَّهُ لَأَحَدُ الرَّجُلَيْنِ إِمَّا أَنْ يَكُونَ أَسْحَرَ مَا بَيْنَ هَذِهِ وَهَذِهِ تَعْنِي: السَّمَاءَ وَالْأَرْضَ أَوْ إِنَّهُ لَرَسُولُ اللَّهِ حَقًّا , قَالَ: [ص:373] فَجَعَلَ خَيْلُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تُغِيرُ عَلَى مَنْ حَوْلَهُمْ وَهُمْ آمِنُونَ , قَالَ: فَقَالَتِ الْمَرْأَةُ لِقَوْمِهَا: أَيْ قَوْمٍ وَاللَّهِ مَا أَرَى هَذَا الرَّجُلَ إِلَّا قَدْ شَكَرَ لَكُمْ مَا أَخَذَ مِنْ مَائِكِمْ أَلَا تَرَوْنَ يُغَارُ عَلَى مَنْ حَوْلَكُمْ وَأَنْتُمْ آمِنُونَ لَا يُغَارُ عَلَيْكُمْ هَلْ لَكُمْ فِي خَيْرٍ؟ , قَالُوا: وَمَا هُوَ؟ , قَالَتْ: نَأْتِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنُسْلِمُ , قَالَ: فَجَاءَتْ تَسُوقُ بِثَلَاثِينَ أَهْلَ بَيْتٍ حَتَّى بَايَعُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَسْلَمُوا.
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺایک رات ہمیں لے کر سفر پر روانہ ہوئے، پھر ہم نے(ایک جگہ )پڑاؤ کیا (اور سو گئے ) تو ہم سورج کی تپش سے بیدار ہوئے (یعنی ہم پر دھوپ پڑی تو ہماری آنکھ کھلی )۔ ہم میں سے کچھ لوگ بیدار ہوئے تھے جن کے نام مجھے بھول گئے ہیں ۔ پھر سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ بیدار ہوئے تو آپ لوگوں کو منع کرنے لگے کہ وہ رسول اللہ ﷺکو بیدار کریں اور کہنے لگے : شاید کہ اللہ تعالی نے کیا ضروری مقصد کے پیش نظر آپ ﷺکو یہاں روکا ہو۔ پھر ابو بکر رضی اللہ عنہ کثرت سے تکبیر کہنے لگے ، تو رسول اللہ ﷺ(تکبیروں کی آواز سن کر) بیدار ہو گئے۔ لوگوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہماری نماز چھوٹ گئی ہے۔ تو رسول اللہ ﷺنے فرمایا تمہاری نماز نہیں چھوٹی ، اس جگہ سے کوچ کرو۔ چنانچہ آپ ﷺنے کو چ کیا اور ابھی قریب ہی پہنچے تھے کہ آپ رک گئے اور نماز پڑھی ۔ پھر فرمایا: سنو! بلا شبہ اللہ تعالی نے تمہاری نماز کو پورا کر دیا ہے۔ صحابہ نے بتلایا کہ اے اللہ کے رسول! | فلاں شخص نے ہمارے ساتھ نماز نہیں پڑھی ۔ تو آپ ﷺنے اس شخص سے استفسار فرمایا: تجھے ہمارے ساتھ نماز پڑھنے سے کیا چیز مانع تھی؟ اس نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں جنبی ہوں۔ آپ ﷺنے فرمایا: مٹی سے تیم کرکے نماز پڑھ لو، پھر جب تجھے پانی ملے تو غسل کر لینا۔ رسول اللہ ﷺنے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو پانی کی تلاش میں بھیجا۔ ہم میں سے ہرشخص کے پاس خرگوش کے کا نوں جتنا ایک برتن تھا۔ جب رسول الله ﷺکو پیاس لگتی تو ہم جلدی سے آپ کی خدمت میں پائی پیش کر دیتے۔ سید نا علی رضی اللہ عنہ چلتے رہے، یہاں تک کہ خوب دن چڑ ھ گیا ، لیکن انہیں پانی نہ ملا۔ اتنے میں انہیں ایک شخص دکھائی دیا تو علی رضی اللہ عنہ نے (اپنے ساتھیوں سے) کہا: یہیں ٹھہر جاو، تا کہ ہم دیکھیں کہ یہ کون ہے۔ پھر جب (ٹھیک سے ) دکھائی دیا تو وہ ایک عورت تھی جو پانی کے دو میزی ے لیے جا رہی تھی۔ چنانچہ اس سے پوچھا گیا: اے اللہ کی بندی! پانی کہاں ہے؟ اس نے کہا: اللہ کی قسم ! تمہارے لیے (یہاں کہیں بھی )پانی نہیں ہے، میں گزشتہ کل پانی لینے کے لیے نکلی تھی اور ایک دن اور ایک رات کا سفر کرنے کے بعد اب یہاں پہنچی ہوں ۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے اس سے کہا: اللہ کے رسول ﷺکے پاس چلو۔ اس نے کہا: اللہ کا رسول کون؟ صحابہ نے کہا: محمد ﷺ جو کہ اللہ کے رسول ہیں۔ اس نے کہا: وہ جو قریش کا مجنون ہے؟ صحابہ نے کہا: وہ مجنون نہیں ہیں، بلکہ وہ اللہ کے رسول ہیں۔ اس نے کہا: مجھے چھوڑ دو، کیونکہ میں اپنے چھوٹے بچے بھیٹربکریوں کے پاس چھوڑ کر آئی ہوں اور مجھے ڈر ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ میں ان کے پاس پہنچوں تو وہ پیاس کے باعث مر چکے ہوں۔ لیکن صحابہ نے اس کی ایک نہ مانی اور اسے رسول اللہ ﷺکی خدمت میں لے آئے۔ آپ ﷺ نے اس کے اونٹ کو (بٹھانے ) کا حکم فرمایا، چنانچہ اسے بٹھا دیاگیا، پھر آپ ﷺنے اس کا مشکیزہ اوپر سے کھول و پا، پھر ایک بہت بڑا برتن منگوایا اور اسے پانی سے بھر دیا، پھر وہ بر تن جنبی شخص کو دیا اور فرمایا: جا ؤ اور غسل کر لو۔ صحابہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ اللہ کی قسم! ہمارے پاس جو بھی چمڑے کا برتن پانی کا (خالی) مشکیزہ اور چھوٹا موٹا برتن تھا، ان سب کو پانی سے بھر لیا۔ وہ عورت ( یہ سارا منظر )دیکھے جا رہی تھی۔ پھر آپ ﷺنے ( اس عورت کے ) مشکیزے کوشختی سے باندھ دیا اور اونٹ پر رکھوا دیا ۔ اور فرمایا: اے عورت! اپنا پانی دیکھ لو، اللہ کی قسم! اگر اللہ تعالی نے اس میں اضافہ نہیں کیا تو تمہارے پانی سے ایک قطرہ تک کم بھی نہیں ہوا۔ آپ ﷺنے اس عورت کے لیے ایک چادر منگوائی اور بچھا دی، پھر ہم سے فرمایا: جس شخص کے پاس جو بھی چیز ہے وہ لے آئے۔ چنانچہ ہر شخص کچھ نہ کچھ جوتا، کپڑا مٹھی بھر جو مٹھی بھر کھجوریں اور روٹی کے ٹکڑے لے کر آیا، یہاں تک کہ یہ سب اس عورت کے لیے اکٹھا کر کے اسے باندھ کر دے دیا ۔ پھر آپ ﷺنے اس سے اس کی قوم کے بارے میں سوال کیا تو اس نے آپ ﷺکو بلاےیا۔ پھر وہ عورت چلی گئی، یہاں تک کہ جب اپنی قوم کے پاس آئی تو انہوں نے پوچھا: تمہیں کس نے روک لیا تھا؟ اس نے کہا: مجھے قریش کے مجنون نے پکڑ لیا تھا، اللہ کی قسم! وہ دو میں سے ایک ضرور ہے، یا تو وہ زمین و آسمان میں سب سے بڑا جادوگر ہے، یا پھر واقعی وہ اللہ کا رسول ہے۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ رسول الله ﷺکی گھوڑ سواروں کی جماعت (یعنی اس عورت کی قوم کے )ارد گرد حملے کرتے رہے لیکن وہ محفوظ رہے۔ اس عورت نے اپنی قوم سے کہا: اے قوم! میں دیکھ رہی ہوں کہ اس آدمی نے تمہاری صرف اس وجہ سے قدر کی ہے کہ اس نے تمہارا پانی لیا تھا، کیا تمہیں نہیں دکھائی دے رہا کہ تمہارےارد گرد (تمام قوموں) پر حملے کیے جارہے ہیں لیکن تم محفوظ ہو اور تم پر حملہ نہیں کیا جا رہا؟ | کیا تمہارا بھلائی پانے کا کوئی ارادہ نہیں ہے؟ انہوں نے پوچھا: بھلائی سے کیا مراد ہے؟ تو اس عورت نے کہا: ہم رسول اللہ ﷺکی خدمت میں حاضر ہوتے ہیں اور اسلام قبول کر لیتے ہیں ۔ راوی کہتے ہیں کہ وہ عورت اپنے خاندان کے تیسں افراد کو لے کر آئی، یہاں تک کہ انہوں نے رسول الله ﷺکی بیعت کی اور اسلام قبول کر لیا۔۔
عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ← أَبَا رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيَّ، ← عَبَّادِ بْنِ رَاشِدٍ ← أَبُو دَاوُدَ، ← عَلِيُّ بْنُ مُسْلِمٍ*، ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ
Sunan Dar Al Qutni · The Book of Purity › The door to ablution and ablution from the utterance of the participants · Hadith 772