729 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ الْأَشْعَثِ لَفْظًا فِي كِتَابِ النَّاسِخِ وَالْمَنْسُوخِ , نا مُوسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحَلَبِيُّ , نا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ , عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ خُرَيْقٍ , عَنْ عَطَاءٍ , [ص:350] عَنْ جَابِرٍ قَالَ: خَرَجْنَا فِي سَفَرٍ فَأَصَابَ رَجُلًا مِنَّا حَجَرٌ فَشَجَّهُ فِي رَأْسِهِ , ثُمَّ احْتَلَمَ فَسَأَلَ أَصْحَابَهُ هَلْ تَجِدُونَ فِيَّ رُخْصَةً فِي التَّيَمُّمِ؟ , قَالُوا: مَا نَجْدُ لَكَ رُخْصَةً وَأَنْتَ تَقْدِرُ عَلَى الْمَاءِ , فَاغْتَسَلَ فَمَاتَ فَلَمَّا قَدِمْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أُخْبِرَ بِذَلِكَ فَقَالَ: «قَتَلُوهُ قَتَلَهُمُ اللَّهُ , أَلَا سَأَلُوا إِذَا لَمْ يَعْلَمُوا فَإِنَّمَا شِفَاءُ الْعِيِّ السُّؤَالُ , إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيهِ أَنْ يَتَيَمَّمَ وَيَعْصِرَ أَوْ يَعْصِبَ عَلَى جَرْحِهِ ثُمَّ يَمْسَحَ عَلَيْهِ وَيَغْسِلَ سَائِرَ جَسَدِهِ». شَكَّ مُوسَى , قَالَ أَبُو بَكْرٍ: هَذِهِ سُنَّةٌ تَفَرَّدَ بِهَا أَهْلُ مَكَّةَ وَحَمَلَهَا أَهْلُ الْجَزِيرَةِ. لَمْ يَرْوِهِ عَنْ عَطَاءٍ , عَنِ جَابِرٍ غَيْرُ الزُّبَيْرِ بْنِ خُرَيْقٍ وَلَيْسَ بِالْقَوِيِّ، وَخَالَفَهُ الْأَوْزَاعِيُّ , فَرَوَاهُ عَنْ عَطَاءٍ , عَنِ ابْنِ عَبَّاسِ وَاخْتُلِفَ عَلَى الْأَوْزَاعِيِّ , فَقِيلَ عَنْهُ عَنْ عَطَاءٍ , وَقِيلَ عَنْهُ بَلَغَنِي عَنْ عَطَاءٍ , وَأَرْسَلَ الْأَوْزَاعِيُّ آخِرَهُ عَنْ عَطَاءٍ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ الصَّوَابُ , وَقَالَ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ: سَأَلْتُ أَبِي وَأَبَا زُرْعَةَ عَنْهُ فَقَالَا: رَوَاهُ ابْنُ أَبِي الْعِشْرِينَ , عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ , عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُسْلِمٍ , عَنْ عَطَاءٍ , عَنِ ابْنِ عَبَّاسِ وَأَسْنَدَ الْحَدِيثَ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم ایک سفر پر روانہ ہوئے تو ہم میں سے ایک شخص کو پتھر لگ گیا اور اس کے سر میں زخم لگا دیا ، پھر اس کو احتلام ہو گیا، تو اس نے اپنے ساتھیوں سے سوال کیا کہ کیا تم میرے بارے میں کوئی رخصت پاتے ہو؟ (یعنی تمہیں کوئی ایسا شرعی حکم دیا ہے کہ مجھے غسل نہ کرنا پڑے؟) انہوں نے کہا: ہم تمہارے لیے کوئی رخصت نہیں پاتے، کیونکہ تمہارے پاس پانی دستیاب ہے ۔چنانچہ اس نے غسل کیا تو اس کی موت واقع ہو گئی۔ پھر جب ہم رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ کو اس بارےمیں بتلایا گیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: جنہوں نے اسے مار ڈالا اللہ انہیں مار ڈالے ، جب انہیں مسئلے کا علم نہیں تھا تو انہوں نے کسی سے پوچھ کیوں نہ لیا؟ بلاشبہ بیمار شخص کی شفاء سوال کرنے میں ہے ، اسے تو صرف یہی کافی ہو جاتا تھا کہ وہ تیمم کر لیتا اور اپنے زخم پر پٹی باندھ لیتا ، پھر اس پر مسح کر لیتا اور باقی سارےجسم کو دھو لیتا۔ آگے سند کی بحث ہے ۔
جَابِرٍ ← عَطَاءٍ، ← الزبير بن خريق ← مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ1، ← موسى بن عبد الرحمن الحلبي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ الْأَشْعَثِ لَفْظًا فِي كِتَابِ النَّاسِخِ وَالْمَنْسُوخِ
Sunan Dar Al Qutni · The Book of Purity › The door of permissibility of tayammum to the surgeon, with the use of water and wound hardening. · Hadith 729