سنن دار القطنی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ مَا رُوِيَ فِي فَضْلِ الْوُضُوءِ وَاسْتِيعَابِ جَمِيعِ الْقَدَمِ فِي الْوُضُوءِ بِالْمَاءِ · حديث 385
385 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ , نا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ , نا هُشَيْمٌ , عَنِ الْحَجَّاجِ , وَعَبْدِ الْمَلِكِ , عَنْ عَطَاءٍ , عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ اللَّيْثِيِّ , أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ رَأَى رَجُلًا وَبِظَهْرِ رِجْلِهِ لُمْعَةٌ لَمْ يُصِبْهَا الْمَاءُ , فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: «أَبِهَذَا الْوُضُوءِ تَحْضُرُ الصَّلَاةَ؟» , قَالَ: [ص:196] يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ الْبَرْدُ شَدِيدٌ وَمَا مَعِيَ مَا يُدَفِّينِي , فَرَّقَ لَهُ بَعْدَمَا هَمَّ بِهِ , قَالَ: فَقَالَ لَهُ: «اغْسِلْ مَا تَرَكْتَ مِنْ قَدَمِكَ وَأَعِدِ الصَّلَاةَ» , وَأَمَرَ لَهُ بِخَمِيصَةٍ
عبید بن عمیر لیثی روایت کرتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ایک آدمی کو دیکھا کہ اس کے پاؤں کی پشت پر کچھ جگہ خشک رہ گئی تھی ، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا: کیا اسی وضوء کے ساتھ تم نماز میں شریک ہوئے تھے؟ اس نے کہا: اے امیر المومنین ! سردی بہت سخت ہے اور میرے پاس کوئی ایسی چیز موجود نہیں ہے جو مجھے (سردی سے ) بچا لے ۔ عمر رضی اللہ عنہ نے ( یہ سن کر ) اس کے ساتھ نرم رویہ اختیار کر لیا، جبکہ اس سے پہلے آپ اس کے ساتھ سختی سے نمٹنے لگے تھے ۔ پھر آپ نے اس سے فرمایا: جو تونے اپنے پاؤں کا حصہ خشک چھوڑ دیا ہے اسے دھو اور دوبارہ نماز پڑھ ۔ اور اسے ایک دھاری دار کرتا دینے کا حکم فرمایا۔
عَطَاءٍ، ← الْحَجَّاجِ وَعَبْدِ الْمَلِكِ ← هُشَيْمٌ ← الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ
Sunan Dar Al Qutni · The Book of Purity › Chapter on what is narrated in the virtue of ablution and the absorption of all old feet in ablution with water · Hadith 385
