276 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ حَاتِمٍ , وَمُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْمُقْرِئُ النَّقَّاشُ , قَالَا: نا مُحَمَّدُ بْنُ حَمِّ بْنِ يُوسُفَ التِّرْمِذِيُّ , نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ بِشْرٍ الْبَلْخِيُّ , نا عِصَامُ بْنُ يُوسُفَ , بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ , إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: «مِنَ الْوُضُوءِ الَّذِي لَا يَتِمُّ الْوُضُوءُ إِلَّا بِهِمَا». تَفَرَّدَ بِهِ عِصَامٌ , عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ , وَوَهِمَ فِيهِ وَالصَّوَابُ عَنِ ابْنِ جُرَيْجِ , عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى مُرْسَلًا , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ تَوَضَّأَ فَلْيَتَمَضْمَضْ وَلْيَسْتَنْشِقْ» , وَأَحْسَبُ عِصَامًا حَدَّثَ بِهِ مِنْ حِفْظِهِ , فَاخْتَلَطَ عَلَيْهِ فَاشْتَبَهَ بِإِسْنَادِ حَدِيثِ ابْنِ جُرَيْجٍ , عَنْ سُلَيْمَانَ , عَنِ الزُّهْرِيِّ , عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: «أَيُّمَا امْرَأَةٍ نُكِحَتْ بِغَيْرِ إِذْنِ وَلِيِّهَا فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ» , وَاللَّهُ أَعْلَمُ وَأَمَّا حَدِيثُ ابْنِ جُرَيْجٍ , عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى , فِي الْمَضْمَضَةِ وَالِاسْتِنْشَاقِ , [ص:145]
اسی اسناد کے ساتھ اسی کے مثل مروی ہے ، مگر اس میں الفاظ بیان کیے ہیں کہ کلی اور ناک میں پانی چڑھانا وضوء کے ایسے ارکان ہیں کہ ان کے بغیر وضوء مکمل نہیں ہوتا۔عصام ، ابن مبارک سے روایت کرنے والے اکیلے راوی ہیں اور اس میں انہیں وہم ہوا ہے ، درست یہ ہے کہ سلیمان بن موسیٰ کے واسطے سے ابن جریج نے نبی ﷺ سے مرسل روایت کی ہے کہ جو شخص وضوء کرے اسے کلی کرنی چاہیے اور ناک میں پانی چڑھانا چاہیے۔ عصام کے بارے میں میرا خیال یہ ہے کہ اس نے اپنے حافظے سے ہی اس روایت کو بیان کیا ہے اور اس پر سند محثلط ہو گئی ہے ، کیونکہ یہ ابن جریج کی والی اس حدیث کی سند کےساتھ مشتبہ ہے جو وہ سلیمان ، زہری اور عروہ کے واسطے سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہم سے بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: جس عورت کا بھی اس کے ولی کی اجازت کے بغیر نکال کر دیا جائے تو اس کا نکاح باطل ہے ۔ واللہ اعلم
Sunan Dar Al Qutni · The Book of Purity › Chapter of what was narrated in urging ritual ablution and inhalation and starting with them is the first ablution · Hadith 276