سنن دار القطنی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ سُؤْرِ الْهِرَّةِ · حديث 205
205 - نا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ , نا حَمَّادُ بْنُ الْحَسَنِ , وَبَكَّارُ بْنُ قُتَيْبَةَ , قَالَا: نا أَبُو عَاصِمٍ , نا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ , نا مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «طَهُورُ الْإِنَاءِ إِذَا وَلَغَ فِيهِ الْكَلْبُ يُغْسَلُ سَبْعَ مَرَّاتٍ , الْأُولَى بِالتُّرَابِ وَالْهِرُّ مَرَّةً أَوْ مَرَّتَيْنِ». قُرَّةُ يَشُكُّ , قَالَ أَبُو بَكْرٍ: كَذَا رَوَاهُ أَبُو عَاصِمٍ مَرْفُوعًا , وَرَوَاهُ غَيْرُهُ عَنْ قُرَّةَ: وُلُوغُ الْكَلْبِ مَرْفُوعًا وَوُلُوغُ الْهِرِّ مَوْقُوفًا
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کے برتن میں کتا منہ ڈال لے تو اس کو پاک کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ اسے سات مرتبہ دھویا جائے ، پہلی مرتبہ مٹی کے ساتھ، اور اگر بلی منہ ڈال دے تو اسے ایک یا دو مرتبہ دھویا جائے۔ قرہ کو شک ہوا ہے (یعنی انہیں پختہ طور پر یاد نہیں رہا کہ ایک مرتبہ دھونے کا حکم ہے یا دو مرتبہ ) امام ابوبکر رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ایسے ہی عاسم نے اسے مرفوع روایت کیا ہے اور ان کے علاوہ دیگر نے قرہ سے کتے کے منہ ڈالنے کے الفاظ مرفوع روایت کیے ہیں جبکہ بلی کے منہ ڈالنے کے الفاظ موقوف روایت کیے ہیں۔
أَبِي هُرَيْرَةَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ← قُرَّۃُ بْنُ خَالِدٍ ← أَبُو عَاصِمٍ ← حَمَّادُ بْنُ الْحَسَنِ وَبَكَّارُ بْنُ قُتَيْبَةَ ← أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ،
Sunan Dar Al Qutni · The Book of Purity › The Door to the Catwalk · Hadith 205
