سنن دار القطنی · 1-1- كتاب الطهارة ‹ بَابُ الدِّبَاغِ · حديث 109
109 - نا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ , نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْهَيْثَمِ الْعَبْدِيُّ , ثنا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ , نا أَبِي , عَنْ قَتَادَةَ , عَنِ الْحَسَنِ , عَنْ جَوْنِ بْنِ قَتَادَةَ , [ص:65] عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْمُحَبَّقِ , أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعَا فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ بِمَاءٍ مِنْ عِنْدِ امْرَأَةٍ , فَقَالَتْ: مَا عِنْدِي مَاءٌ إِلَّا فِي قِرْبَةٍ لِي مَيْتَةٍ , فَقَالَ: «أَلَيْسَ قَدْ دَبَغَتْهَا؟» , قَالَتْ: بَلَى , قَالَ: «فَإِنَّ ذَكَاتَهَا دِبَاغُهَا»
سلمہ بن محبق روایت کرے ہیں کہ نبی ﷺ نے غزوہ تبوک میں ایک عورت سے پانی منگوایا تو اس نے کہا: میرے پاس صرف وہی پانی موجود ہے جو مردہ جانور کی کھال سے بنے ہوئے مشکیزے میں پڑا ہے ۔ تو آپ ﷺ نے استفسار فرمایا: کیا اس نے اسے رنگا نہیں ؟ تو اس عورت نے کہا: کیوں نہیں ۔ تو آپﷺ نے فرمایا: تو یقیناً اس کی پاکیزگی اس کو رنگنا ہی ہے ۔
سَلَمَةَ بْنِ الْمُحَبِّقِ، ← جَوْنِ بْنِ قَتَادَةَ، ← الْحَسَنِ، ← قَتَادَةَ ← أَبِي ← مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْهَيْثَمِ الْعَبْدِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ
Sunan Dar Al Qutni · The Book of Purity › The tanning door · Hadith 109
