Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند الحميدي

Masnad Humaidi

by أبو بكر عبد الله بن الزبير بن عيسى بن عبيد الله القرشي الأسدي الحميدي المكي

1,339 Hadith193 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعَمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 571

571 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ بَابَاهُ يُحَدِّثُ عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعَمٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «يَا بَنِي عَبْدَ الْمُطَّلِبِ أَوْ يَا بَنِي عَبْدِ مَنَافٍ إِنْ وُلِّيتُمْ مِنْ هَذَا الْأَمْرِ شَيْئًا فَلَا تَمْنَعُوا أَحَدًا طَافَ بِهَذَا الْبَيْتِ وَصَلَّى أَيَّ سَاعَةٍ شَاءَ مِنْ لَيْلٍ أَوْ نَهَارٍ»

حضرت جبیربن معطم ؓ بیان کرتے ہیں۔ نبی اکرم ﷺنے ارشادفرمایا: اے بنوعبد المطلب (راوی کو شک ہے ،شاید یہ الفاظ ہیں) اے بنو عبد مناف ! اگرتم اس معاملے کے نگران ہو،توکسی شخص کو اس گھر کا طواف کرنے یا نماز ادا کرنے سے منع نہ کرنا۔ خواہ رات یا دن کا کوئی بھی وقت ہو۔

جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَابَاهَ ← أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 571

مسند الحميدي · کتاب ‹ حَدِيثُ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 572

572 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو نَجِيحٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ قَالَ: تَنَاوَلَ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الْأَرْضِ بِشَيْءٍ فَكَلَّمَهُ فِيهِ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ فَقِيلَ لَهُ: أَغْضَبْتَ الْأَمِيرَ فَقَالَ خَالِدٌ: إِنِّي لَمْ أُرِدْ أَنْ أُغْضِبَهُ وَلَكِنْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «أَشَدُّ النَّاسِ عَذَابًا عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَشَدُّهُمْ عَذَابًا لِلنَّاسِ فِي الدُّنْيَا»

خالد بن حکیم بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ حضرت ابوعبیدہ بن جراحؓ کسی علاقے کے کسی شخص پر ناراض ہو گئے ۔ حضرت خالد بن ولید ؓ نے اس بارے میں ان سے بات چیت کی تو ان سے کہا گیا : آپ امیر کے سامنے غصے کا اظہار کررہے ہیں، تو حضرت خالد ؓ بولے: میں ان پر غصہ نہیں کر رہا۔ میں نے تو نبی اکرم ﷺکو یہ ارشادفرماتے ہوئے سناہے: "قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سب سے شدید عذاب اس شخص کو ہوگا، جو دنیا میں لوگوں کو شدید ترین عذاب دیتا تھا۔"

خَالِدٍ بْنِ حَکِیمِ بْنِ حَزَامٍ ← أَبُو نَجِيحٍ ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 572

مسند الحميدي · کتاب ‹ حَدِيثُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 573

573 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ أَوْسٍ الثَّقَفِيُّ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ أَخْبَرَهُ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهُ أَنْ يُرْدِفَ عَائِشَةَ فَيُعْمِرُهَا مِنَ التَّنْعِيمِ» قَالَ سُفْيَانُ: وَهَذَا بَابُهُ شُعْبَةُ أَخْبَرَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَهُ يَقُولُ: مُتَّصِلٌ

حضرت عبدالرحمنٰ بن ابوبکر صدیق ؓ بیان کرتے ہیں ۔ نبی اکرمﷺنے انہیں یہ ہدایت کی تھی کہ وہ سیدہ عائشہؓ کو سواری پر اپنے پیچھے بٹھا ئیں اور "تنعیم" سے انہیں عمرہ کروادیں۔ سفیان کہتے ہیں: یہ روایت شعبہ کی شرط کے مطابق ہے ،جس میں یہ الفاظ ہیں، انہوں نے یہ خبر دی کہ نبی اکرم ﷺنے ایسا،وہ یہ کہتے ہیں ۔ اس طرح روایت متصل ہو جاتی ہے۔

عمرو بن أوس الثقفي: أن عبد الرحمن بن أبي بكر الصديق ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 573

مسند الحميدي · کتاب ‹ حَدِيثُ صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 574

574 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا عَبْدُ الْكَرِيمِ أَبُو أُمَيَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ قَالَ: عَرَّسَ بِي أَبِي فِي إِمَارَةِ عُثْمَانَ فَدَعَا النَّاسَ فِي وَلِيمَةٍ لَنَا، وَكَانَ فِيمَنْ أَتَانَا صَفْوَانُ بْنُ أُمَيَّةَ فَقَالَ: انْتَهِشُوا اللَّحْمَ نَهْشًا فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «هُوَ أَهْنَأُ وَأَمْرَأُ أَوْ أَهْنَأُ وَأَبْرَأُ»

عبداللہ بن حارث بیان کرتے ہیں: حضرت عثمانؓ کے عہد خلافت میں میرے والد نے میری شادی کی انہوں نے ہمارے ولیمے پرلوگوں کی دعوت کی، تو جو لوگ ہمارے ہاں آئے ان میں حضرت صفوان بن امیہؓ بھی تھے۔ انہوں نے فرمایا: تم لوگ دانت کے ذریعے نوچ کر گوشت کو کھاؤ۔ کیونکہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: "یہ بھوک کو زیادہ بہتر طور پر ختم کرتا ہے اور معدے پر بوجھ ہی نہیں بنتا(رادی کوشک ہے شاید یہ الفاظ ہیں ) یہ بھوک کو زیادہ بہتر طور پر ختم کرتا ہے اور سلامتی سے زیادہ قریب ہے۔“

«هُوَ أَهْنَأُ وَأَمْرَأُ أَوْ أَهْنَأُ وَأَبْرَأُ» ← انْتَهِشُوا اللَّحْمَ نَهْشًا فَإِنِّي ← لِيمَةٍ لَنَا، وَكَانَ فِيمَنْ أَتَانَا صَفْوَانُ بْنُ أُمَيَّةَ ← عَرَّسَ بِي أَبِي فِي إِمَارَةِ عُثْمَانَ فَدَعَا النَّاسَ فِي ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، ← عَبْدُ الْكَرِيمِ أَبُو أُمَيَّةَ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 574

مسند الحميدي · کتاب ‹ حَدِيثُ عُثْمَانَ بْنِ طَلْحَةَ الْحَجَبِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 575

575 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا مَنْصُورُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحَجَبِيُّ قَالَ: أَخْبَرَنِي خَالِي مُسَافِعُ بْنُ شَيْبَةَ عَنْ أُمِّي صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ قَالَتْ: أَخْبَرَتْنِي امْرَأَةٌ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ وَلَدَتْ عَامَّةَ أَهْلِ دَارِهِمْ أَنَّهَا سَأَلَتْ عُثْمَانَ بْنَ طَلْحَةَ عَنْ دُعَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِيَّاهُ بَعْدَ دُخُولِهِ الْكَعْبَةَ فَقَالَ: قَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «إِنْ كُنْتُ رَأَيْتُ قَرْنَيِ الْكَبْشِ فِي الْبَيْتِ فَنَسِيتُ أَنْ آمُرَكَ أَنْ تُخَمِّرَهُمَا فَخَمِّرْهُمَا فَإِنَّهُ لَا يَنْبَغِي أَنْ يَكُونَ فِي الْبَيْتِ شَيْءٌ يَشْغَلُ الْمُصَلِّي»

صفیہ بنت شیبہ بیان کرتی ہیں۔ بنوسلیم سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون نے مجھے یہ بات بتائی ہے۔ کہ انہوں نے حضرت عثمان بن طلحہ سے نبی اکرم ﷺکے خانہ کعبہ کے اندر تشریف لے جانے کے بعد آپ ﷺکی مانگی ہوئی دعا کے بارے میں دریافت کیا ،تو انہوں نے بتایا: نبی اکرم ﷺنے مجھ سے فرمایا: "میں نے بیت اللہ میں دنبے کے سینگ دیکھے تھے، تو یہ خیال نہیں رہا کہ میں تمہیں ہدایت دیتا کہ تم انہیں ڈھانپ دو، کیونکہ بیت اللہ میں کوئی ایسی چیز نہیں ہونی چاہئے جو نمازی کی ، توجہ کو منتشر کرنے کا باعث ہو۔"

أُمِّي صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ، ← خَالِي مُسَافِعُ بْنُ شَيْبَةَ ← مَنْصُورُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحَجَبِيُّ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 575

مسند الحميدي · کتاب ‹ حَدِيثَا عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 576

576 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا مُسَاوِرٌ الْوَرَّاقُ قَالَ: أَخْبَرَنِي جَعْفَرُ بْنُ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ الْمَخْزُومِيُّ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: «رَأَيْتُ عَلَى رَأْسِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِمَامَةً سَوْدَاءَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ»

جعفر بن عمرو بن حریثؓ اپنے والد کایہ بیان نقل کرتے ہیں: میں نے فتح مکہ کے دن نبی اکرم ﷺکے سرمبارک پرسیاہ عمامہ دیکھا۔

«رَأَيْتُ عَلَى رَأْسِ رَسُولِ اللَّهِ عِمَامَةً سَوْدَاءَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ» ← أَبِيهِ ← جَعْفَرُ بْنُ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ الْمَخْزُومِيُّ، ← مُسَاوِرٍ الْوَرَّاقِ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 576

مسند الحميدي · کتاب ‹ حَدِيثَا عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 577

577 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا مِسْعَرٌ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ سَرِيعٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ قَالَ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الصُّبْحِ {وَاللَّيْلِ إِذَا عَسْعَسَ} [التكوير: 17] "

حضرت عمرو بن حریث ؓبیان کرتے ہیں۔ میں نے نبی اکرم ﷺ کوصبح کی نماز میں والليل إذا عسعس (یعنی سوره تکویر) کی تلاوت کرتے ہوئے سنا۔

كَانَ رَسُولُ اللَّهِ يَقْرَأُ فِي الصُّبْحِ {وَاللَّيْلِ إِذَا عَسْعَسَ} [التكوير: ← عَمْرَو بْنَ حُرَيْثٍ ← الْوَلِيدُ بْنُ سَرِيعٍ ← مِسْعَرٍ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 577

مسند الحميدي · کتاب ‹ حَدِيثُ مُطِيعِ بْنِ الْأَسْوَدِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 578

578 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُطِيعٍ، عَنْ أَبِيهِ مُطِيعِ بْنِ الْأَسْوَدِ وَكَانَ مِنْ عُصَاةِ قُرَيْشٍ مِمَّنْ يُسَمَّى الْعَاصَ «فَسَمَّاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُطِيعًا» وَلَمْ يُدْرِكِ الْإِسْلَامَ مِنْ عُصَاةِ قُرَيْشٍ غَيْرُهُ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ يَقُولُ: «لَا يُقْتَلُ قُرَشِيٌّ صَبْرًا بَعْدَ هَذَا الْيَوْمِ أَبَدًا» قَالَ سُفْيَانُ «يَعْنِي عَلَى الْكُفْرِ»

حضرت مطیع بن اسود ؓ ان لوگوں میں سے ایک ہیں ، جن کا نام عاص تھا اور ان کا تعلق قریش کے ساتھ تھا۔نبی اکرم ﷺ ے ان کا نام مطیع رکھ دیا۔ قریش کے "عاص" نامی افراد میں صرف انہیں اسلام قبول کرنے کی سعادت حاصل ہوئی وہ بیان کرتے ہیں ۔ فتح مکہ کے دن میں نے نبی اکرم ﷺکو یہ ارشادفرماتے ہوئے سنا۔" آج کے دن کے بعد بھی کبھی کسی قریشی کو باندھ کرقتل نہیں کیا جائے گا ۔“ سفیان کہتے ہیں، یعنی اس کے کفر کی وجہ سے قتل نہیں کیا جائے گا۔

أَبِيهِ مُطِيعِ بْنِ الْأَسْوَدِ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُطِيعٍ ← الشَّعْبِيِّ، ← زَکَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 578

مسند الحميدي · کتاب ‹ حَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَمْعَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 579

579 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ زَمْعَةَ بْنِ الْأَسْوَدِ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ الَّذِي عَقَرَ النَّاقَةَ فَقَالَ: «انْتُدِبَ لَهَا رَجُلٌ ذُو عِزٍّ وَمَنَعَةٍ فِي قَوْمِهِ كَأَبِي زَمْعَةَ» ثُمَّ ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النِّسَاءَ فَقَالَ: «يَعْمِدُ أَحَدُكُمْ إِلَى امْرَأَتِهِ فَيَضْرِبَهَا ضَرْبَ الْعَبْدِ ثُمَّ يُعَانِقُهَا مِنْ آخِرِ النَّهَارِ» وَعَاتَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ضَحِكِهِمْ مِنَ الضَّرْطَةِ فَقَالَ: «وَلِمَ يَضْحَكُ أَحَدُكُمْ مِمَّا يَفْعَلُ»

حضرت عبدالله بن زمعہ ؓ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم ﷺکو سنا۔ آپ ﷺنے اس شخص کا تذکرہ کیا۔ جس نے حضرت (یونس ؑ) کی اونٹنی کے پاؤں کاٹے تھے۔ آپ ﷺنے فرمایا: اس کے لیے ایک ایسا شخص آگے بڑھا جو اپنی قوم میں صاحب حیثیت تھا۔ جس طرح ابوزمعہ ہے۔ پھر نبی اکرم ﷺنے خواتین کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا۔" تم میں سے کوئی شخص اپنی بیوی کی طرف جاتا ہے اور اسے یوں مارتا ہے جیسے غلام کو مارا جاتا ہے۔ پھر وہ دن کے آخری حصے میں اسے گلے لگا لیتا ہے۔" راوی بیان کرتے ہیں۔ نبی اکرم ﷺنے لوگوں کے کسی کی ہوا خارج ہونے پر ہنسنے پر بھی ناراضگی کا اظہارکرتے ہوئے فرمایا ۔"کوئی شخص ایسےعمل پر کیوں ہنستا ہے۔ جو خود کرتا ہے۔“

عَبْدَ اللَّهِ بْنَ زَمْعَةَ بْنِ الْأَسْوَدِ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 579

مسند الحميدي · کتاب ‹ حَدِيثَا عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 580

580 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا الْوَلِيدُ بْنُ كَثِيرٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا نُعَيْمٍ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ يَقُولُ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ أَبِي سَلَمَةَ يَقُولُ: كُنْتُ غُلَامًا يَتِيمًا فِي حِجْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَانَ يَدِي تَطِيشُ فِي الصَّحْفَةِ فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا غُلَامُ إِذَا أَكَلْتَ فَسَمِ اللَّهَ، وَكُلْ بِيَمِينِكَ، وَكُلْ مِمَّا يَلِيكَ» فَقَالَ: «فَمَا زَالَتْ تِلْكَ طُعْمَتِي بَعْدَهُ»

حضرت عمر بن ابوسلمہ ؓ بیان کرتے ہیں۔ میں نبی اکرم ﷺکی زیرتربیت کم سن لڑکا تھا(ایک مرتبہ کھانا کھاتے ہوئے) میرا ہاتھ پیالے میں گردش کر رہا تھا، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: "اے لڑ کے ! الله کا نام لے کر کھاؤ۔ اپنے دائیں ہاتھ سے کھاؤ اور اپنے آگے سے کھاؤ۔" حضرت عمر بن ابوسلمہؓ کہتے ہیں ۔ اس کے بعد میرا کھانے کا یہی طریقہ رہا ہے۔

عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ← أَبَا نُعَيْمٍ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ ← الْوَلِيدُ بْنُ كَثِيرٍ أَنَّهُ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 580

مسند الحميدي · کتاب ‹ حَدِيثَا عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 581

581 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ قَالَ: «رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي بَيْتِ أُمِّ سَلَمَةَ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ مُشْتَمِلًا بِهِ»

حضرت عمر بن ابوسلمہؓ بیان کرتے ہیں۔ میں نے نبی اکرمﷺکو سیدہ ام سلمہ ؓ کے گھر میں ایک کپڑا اوڑھ کر نماز ادا کرتے ہوئے دیکھا ہے۔

عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 581

مسند الحميدي · کتاب ‹ حَدِيثَا الْحَارِثِ بْنِ مَالِكِ ابْنِ الْبَرْصَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 582

582 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ مَالِكِ ابْنِ الْبَرْصَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ يَقُولُ: «لَا تُغْزَى مَكَّةُ بَعْدَ هَذَا الْيَوْمِ أَبَدًا» قَالَ سُفْيَانُ «تَفْسِيرُهُ عَلَى الْكُفْرِ»

حضرت حارث بن مالکؓ بیان کرتے ہیں : فتح مکہ کے دن میں نے نبی اکرم ﷺکو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سناہے : "آج کے دن کے بعد مکہ پر کبھی حملہ نہیں کیا جا سکے گا۔“ سفیان کہتے ہیں۔ اس سے مراد یہ ہے ،کفر کی بنیاد پر ایسا نہیں ہوگا۔

سُفْيَانُ «تَفْسِيرُهُ عَلَى الْكُفْرِ» ← «لَا تُغْزَى مَكَّةُ بَعْدَ هَذَا الْيَوْمِ أَبَدًا» ← رَسُولَ اللَّهِ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ ← الْحَارِثِ بْنِ مَالِكِ ابْنِ الْبَرْصَاءِ ← الشَّعْبِيِّ، ← زَکَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 582

chevron_left Previous
1…656667…112
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter
137. Chapter
138. Chapter
139. Chapter
140. Chapter
141. Chapter
142. Chapter
143. Chapter
144. Chapter
145. Chapter
146. Chapter
147. Chapter
148. Chapter
149. Chapter
150. Chapter
151. Chapter
152. Chapter
153. Chapter
154. Chapter
155. Chapter
156. Chapter
157. Chapter
158. Chapter
159. Chapter
160. Chapter
161. Chapter
162. Chapter
163. Chapter
164. Chapter
165. Chapter
166. Chapter
167. Chapter
168. Chapter
169. Chapter
170. Chapter
171. Chapter
172. Chapter
173. Chapter
174. Chapter
175. Chapter
176. Chapter
177. Chapter
178. Chapter
179. Chapter
180. Chapter
181. Chapter
182. Chapter
183. Chapter
184. Chapter
185. Chapter
186. Chapter
187. Chapter
188. Chapter
189. Chapter
190. Chapter
191. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter