Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند الحميدي

Masnad Humaidi

by أبو بكر عبد الله بن الزبير بن عيسى بن عبيد الله القرشي الأسدي الحميدي المكي

1,339 Hadith193 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَيْضًا · حديث 495

495 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ سُحَيْمٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: " كَشَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السِّتَارَةَ وَالنَّاسُ صُفُوفٌ خَلْفَ أَبِي بَكْرٍ فَقَالَ: إِنَّهُ لَمْ يَبْقَ مِنْ مُبَشِّرَاتِ النُّبُوَّةِ إِلَّا الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ يَرَاهَا الْمُسْلِمُ أَوْ تُرَى لَهُ، أَلَا إِنِّي نُهِيتُ أَنْ أَقْرَأَ رَاكِعًا أَوْ سَاجِدًا، فَأَمَّا الرُّكُوعُ فَعَظِّمُوا الرَّبَ فِيهِ، وَأَمَّا السُّجُودُ فَاجْتَهِدُوا فِي الدُّعَاءِ فَقَمِنٌ أَنْ يُسْتَجَابَ لَكُمْ

حضرت عبداللہ بن عباسؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺنے پردہ ہٹایالوگ حضرت ابوبکرؓ کے پیچھے صفیں بنا کر کھڑے ہوئے تھے آپ ﷺنے ارشادفرمایا:اب نبوت کے مبشرات میں سے صرف سچے خواب رہ گئے ہیں، جنہیں کوئی مسلمان دیکھتا ہے ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) جواسے دکھائے جاتے ہیں خبردار! مجھے اس بات سے منع کر دیا گیا ہے کہ میں رکوع یا سجدے کے دوران قرات کروں۔ جہاں تک رکوع کا تعلق ہے تو اس میں تم اپنے پروردگار کی عظمت کا اعتراف کرو اور جہاں تک سجدے کا تعلق ہے ،تو تم اس میں اہتمام کے ساتھ دعا مانگو وہ اس لائق ہوگئی کہ اسے قبول کرلیا جائے۔

كَشَفَ رَسُولُ اللَّهِ السِّتَارَةَ وَالنَّاسُ صُفُوفٌ خَلْفَ أَبِي بَكْرٍ، ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبِيهِ ← إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدِ بْنِ عَبَّاسٍ ← سُلَيْمَانُ بْنُ سُحَيْمٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 495

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَيْضًا · حديث 496

496 - " قَالَ سُفْيَانُ أَخْبَرَنِيهِ زِيَادُ بْنُ سَعْدٍ قَبْلَ أَنْ أَسْمَعَهُ فَقُلْتُ لَهُ: أُقْرِئُ سُلَيْمَانَ مِنْكَ السَّلَامَ؟ فَقَالَ: نَعَمْ، فَلَمَّا قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ أَقْرَيْتُهُ مِنْهُ السَّلَامَ وَسَأَلْتُهُ عَنْهُ

سفیان کہتے ہیں: یہ روایت زیاد بن سعد نے بھی مجھے سنائی تھی یہ اس سے پہلے کی بات ہے کہ جب میں نے یہ روایت سلیمان سے سنی۔ میں نے ان سے دریافت کیا: میں سلیمان بن سحیم کو آپ کی طرف سے سلام کہہ دوں وہ بولے:جی ہاں۔ جب میں مدینہ منورہ آیا، تو میں نے سلیمان کو زیادکی طرف سے سلام پیش کیا اور ان سے اس روایت کے بارے میں دریافت کیا: (تو انہوں نے مجھے یہ حدیث سنائی)

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 496

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَيْضًا · حديث 497

497 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا أَكَلَ أَحَدُكُمْ فَلَا يَمْسَحْ يَدَيْهِ حَتَّى يَلْعَقَهَا أَوْ يُلْعِقَهَا» [ص:438] قَالَ سُفْيَانُ: فَقَالَ لَهُ عَمْرُو بْنُ قَيْسٍ: يَا أَبَا مُحَمَّدٍ إِنَّمَا حَدَّثَنَاهُ عَطَاءٌ عَنْ جَابِرٍ فَقَالَ عَمْرٌو: وَاللَّهِ لَقَدْ سَمِعْتُهُ مِنْ عَطَاءٍ يُحَدِّثُهُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَبْلَ أَنْ يَقْدَمَ عَلَيْنَا جَابِرٌ مَكَّةَ قَالَ سُفْيَانُ: وَإِنَّمَا لَقِيَ عَمْرٌو وَعَطَاءٌ إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى جَابِرًا فِي سَنَةٍ جَاوَرَ فِيهَا

عطاء بن ابی رباح حضرت عبد الله بن عباس ؓکے حوالے سے نبی اکرمﷺکا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: "جب کوئی شخص کچھ کھائے ،تو اپنا ہا تھ ( کپڑے یا کسی اور چیز کے ساتھ) اس وقت تک نہ پونچھے جب تک وہ اسےچاٹ نہ لے یا کسی دوسرے سے چٹوانہ لے"۔ سفیان کہتے ہیں: عمرو نے ان سے کہا: اے ابومحمد! یہ روایت عطاء نے حضرت جابرؓ کے حوالے سے بیان کی ہے ،تو عمر و بولے : اللہ کی قسم !میں نے یہ روایت عطا کی زبانی سنی ہے ، جسے انہوں نے حضرت عبداللہ بن عباس ؓکے حوالے سے نقل کیا تھا، اور یہ حضرت جابر ؓکے ہمارے ہاں مکہ آنے سے پہلے کی بات ہے۔ سفیان کہتے ہیں: عمرو بن قیس اور عطا ء کی ملاقات حضرت جابر ؓ سے اس سال ہوئی تھی جس سال حضرت جابرؓنےمکہ میں رہائش اختیار کی تھی (یا وہاں اعتکاف کیا تھا)

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عَطَاءُ بْنُ اَبِیْ رَبَاحٍ ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 497

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَيْضًا · حديث 498

498 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا عَطَاءٌ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِشَاةٍ لِمَوْلَاةٍ لِمَيْمُونَةَ قَدْ أُعْطِيَتْهَا مِنَ الصَّدَقَةِ مَيِّتَةً قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا عَلَى أَهْلِ هَذِهِ لَوْ أَخَذُوا إِهَابَهَا فَدَبَغُوهُ وَانْتَفَعُوا بِهِ» فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهَا مَيْتَةٌ فَقَالَ «إِنَّمَا حُرِّمَ أَكْلُهَا» وَكَانَ سُفْيَانُ رُبَّمَا ذَكَرَ فِيهِ مَيْمُونَةَ وَرُبَّمَا لَمْ يَذْكُرْهُ فَنَحْنُ نَذْكُرُ كَذَا وَكَذَا

حضرت عبداللہ بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کا گزر سیدہ میمونہ ؓ کی کنیزکی مردہ بکری کے پاس سے ہوا جو اس کنیز کوصدقے کے طور پر دی گئی تھی۔ نبی اکرم ﷺنے ارشادفرمایا: "اس کے مالک کو کوئی نقصان نہیں ہوگا اگر وہ اس کی کھال حاصل کر کے اس کی دباغت کر کے اس سے نفع حاصل کریں"۔ لوگوں نے عرض کی :یا رسول اللہ (ﷺ)! یہ مردار ہے۔ نبی اکرم ﷺنے فرمایا : اسے کھانے کو حرام قرار دیا گیا ہے ۔ سفیان نامی راوی نے بعض اوقات اس میں سیدہ میمونہ ؓکا تذکرہ کیا ہے اور بعض اوقات ان کا تذکرہ نہیں کیا، تو ہم اس طرح اور اس طرح (دونوں طرح)اسے ذکر کر رہے ہیں۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عَطَاءٍ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 498

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَيْضًا · حديث 499

499 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، عَنْ عَطَاءٍ وَحَدَّثَنَاهُ ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ عَمْرٌو: «أَعْتَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ بِالْعِشَاءِ» فَخَرَجَ عُمَرُ فَنَادَى فَقَالَ الصَّلَاةَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ رَقَدَ النِّسَاءُ وَالْوِلْدَانُ وَقَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: أَخَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ بِالْعِشَاءِ فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ [ص:439] وَرَأْسُهُ يَقْطُرُ مَاءً وَهُوَ يَقُولُ: «إِنَّهُ لَلْوَقْتُ لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ مَا صَلَّيْتُ إِلَّا هَذِهِ السَّاعَةَ» قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ فَخَرَجَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَمْسَحُ الْمَاءَ عَنْ شِقَّهِ وَهُوَ يَقُولُ «إِنَّهُ الْوَقْتُ لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي» وَكَانَ سُفْيَانُ رُبَّمَا حَدَّثَ بِهَذَا الْحَدِيثِ فَأَدْرَجَهُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ عَمْرٍو وَابْنِ جُرَيْجٍ مَا يَذْكُرُ فِيهِ الْخَبَرَ فَإِذَا قَالَ فِيهِ حَدَّثَنَا وَسَمِعْتُ أَوْ سَمِعْتُ أَوْ أَخْبَرَنَا أَخْبَرَ بِهَذَا عَلَى هَذَا وَهَذَا عَلَى هَذَا

حضرت عبداللہ بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺنے عشاء کی نماز ادا کرنے میں تاخیر کر دی حضرت عمرؓ آئے اور انہوں نے عرض کی یارسول الله (ﷺ )!نماز( کا وقت گزررہاہے) خواتین اور بچے سو چکے ہیں: یہاں عمرونامی راوی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں: نبی اکرم ﷺتشریف لائے ،تو آپ ﷺکے سر مبارک سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے۔ آپ ﷺنے یہ ارشادفرمایا۔ "یہی تو وقت ہے اگر مجھے اہل ایمان کے مشقت میں مبتلا ہونے کا اندیشہ نہ ہوتا ،تو میں اس نماز کو اسی وقت میں ادا کرتا‘‘۔ این جریج نامی راوی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں: ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺنے رات کے وقت عشاء کی نماز مؤخر کر دی۔ نبی اکرمﷺ جب تشریف لائے تو آپ ﷺکے سر مبارک سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے اور آپﷺ نے یہ ارشاد فرمایا: "یہی تو اس کا وقت ہے اگر مجھے اہل ایمان کے مشقت میں مبتلا ہونے کا اندیشہ نہ ہوتا، تو میں اس نماز کو صرف اسی وقت میں ادا کرتا"۔ این جریج نامی راوی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں: آپ تشریف لائے ،تو آپ ﷺاپنے ایک پہلو کی طرف سے پانی کو پونچھ رہے تھے اور یہ ارشاد فرمارہے تھے۔" یہی تو وقت ہے اگر مجھے اپنی امت کے مشقت میں مبتلا ہونے کا اندیشہ نہ ہوتا"۔سفیان نامی راوی نے بعض اوقات اس حدیث کونقل کرتے ہوئے اس میں یہ ادراج کیا ہے کہ یہ روایت حضرت عبدالله بن عباس ؓ کے حوالے سے منقول ہے۔

عَمْرٌو: «أَعْتَمَ رَسُولُ اللَّهِ ذَاتَ لَيْلَةٍ بِالْعِشَاءِ» فَخَرَجَ عُمَرُ فَنَادَى فَقَالَ الصَّلَاةَ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عَطَاءٍ، ← عَطَاءٍ وَحَدَّثَنَاهُ ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 499

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَيْضًا · حديث 500

500 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا عَمْرٌو قَالَ سَمِعْتُ طَاوُسًا يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُمِرَ أَنْ يَسْجُدَ مِنْهُ عَلَى سَبْعٍ وَنُهِيَ أَنْ يَكُفَّ شَعْرَهُ أَوْ ثِيَابَهُ»

حضرت عبداللہ بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺکو یہ حکم دیا گیا تھا کہ آپ ﷺسات اعضاء پر سجده کریں اور آپ ﷺکو اس بات سے منع کیا گیا تھا کہ آپ ﷺ(نماز کے دوران)اپنے بالوں، یا کپڑوں کو سمیٹیں۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← طَاوُسًا ← عَمْرٍو، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 500

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَيْضًا · حديث 501

501 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا ابْنُ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ [ص:440]، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «أَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُسْجَدَ مِنْهُ عَلَى سَبْعٍ عَلَى يَدَيْهِ، وَرُكْبَتَيْهِ، وَأَطْرَافِ أَصَابِعِهِ، وَجَبْهَتِهِ، وَنَهَى إِنْ شَاءَ اللَّهُ أَنْ يُكَفَّ الشَّعْرُ وَالثِّيَابُ» قَالَ سُفْيَانُ: وَأَرَانَا ابْنُ طَاوُسٍ فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى جَبِينِهِ ثُمَّ مَرَّ بِهَا حَتَّى بَلَغَ بِهَا طَرَفَ أَنْفِهِ وَكَانَ أَبِي يَعُدُّ هَذَا وَاحِدًا

حضرت عبداللہ بن عباس ؓبیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺکو اس بات کا حکم دیا گیا تھا کہ آپ ﷺسات اعضا ء پر سجدہ کریں دونوں ہاتھ ، دونوں گھٹنے ،انگلیوں کے کنارے اور پیشانی اور نبی اکرم ﷺکو اس بات سے منع کیا گیا تھا کہ آپ ﷺ(نماز کے دوران، بال یا کپڑے سمیٹیں)سفیان کہتے ہیں : طاوس کے صاحبزادے نے ہمیں یہ کر کے دکھایاانہوں نے اپنا ہاتھ اپنی پیشانی پر رکھا پھر اسے ناک کے کنارے تک لائے اور بولے : میرے والد اسے ایک عضوشمار کرتے تھے۔

أَمْرِ النَّبِيِّ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبِيهِ ← ابْنِ طَاوُسٍ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 501

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَيْضًا · حديث 502

حدثنا الحمیدی، قال: حدثنا سفیان، قال: حدثنا أبو أمیۃ عبدالکریم بن أبی المخارق، عن طاووس، عَنِ ابۡنِ عَبأَسٍ:أَنَّ النَّبِیَّﷺ أُمِرَ أَنۡ یَسۡجُدَ عَلَی سَبۡعَۃِ أَعۡظُمٍ، وَأُمِرَ أَنۡ لاَ یَکُفَّ شَعراً ولاَ ثَوباً۔

حضرت عبدالله بن عباس ؓبیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ کو اس بات کا حکم دیا گیا تھا کہ آپ نﷺسات ہڈیوں پر سجدہ کریں اور آپ ﷺکو یہ حکم دیا گیا تھا کہ آپ ﷺ(نماز کے دوران) بال یا کپڑے نہ سمیٹیں۔

طَاوُوسٍ، ← أبو أمیۃ عبدالکریم بن أبی المخارق، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 502

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَيْضًا · حديث 503

503 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا سُلَيْمَانُ الْأَحْوَلُ خَالُ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ قَالَ: سَمِعْتُ طَاوُسًا يَقُولُ: «كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ يَتَهَجَّدُ قَالَ اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ نُورُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ، وَلَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ قَيِّمُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ، وَلَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ مَلِكُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ، وَلَكَ الْحَمْدُ أَنْتَ الْحَقُّ، وَوَعْدُكَ الْحَقُّ، وَلِقَاؤُكَ حَقٌّ، وَالْجَنَّةُ حَقٌّ، وَالنَّارُ حَقٌّ، وَالسَّاعَةُ حَقٌّ، وَمُحَمَّدٌ حَقٌّ، وَالنَّبِيُّونَ حَقٌّ، اللَّهُمَّ لَكَ أَسْلَمْتُ، وَبِكَ آمَنْتُ، وَعَلَيْكَ تَوَكَّلْتُ، وَإِلَيْكَ أَنَبْتُ، وَبِكَ خَاصَمْتُ، وَإِلَيْكَ حَاكَمْتُ، فَاغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ، وَمَا أَخَّرْتُ، وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا [ص:441] أَعْلَنْتُ، أَنْتَ الْمُقَدِّمُ، وَأَنْتَ الْمُؤَخِّرُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ» أَوْ قَالَ: «لَا إِلَهَ غَيْرُكَ» شَكَّ سُفْيَانُ وَزَادَ فِيهِ عَبْدُ الْكَرِيمِ «وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِكَ» وَلَمْ يَقُلْهَا سُلَيْمٌان

حضرت عبدالله بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺجب رات کے وقت نماز تہجد ادا کرنے کے لیے اٹھتےتھے، تو یہ دعا مانگا کرتے تھے۔ "اے اللہ !حمد تیرے لیے مخصوص ہے ،تو آسمانوں اور زمین میں موجود سب چیزوں کو روشن کرنے والا ہےحمد تیرے لیے مخصوص ہے ،تو آسمانوں، زمین اور ان میں موجود سب چیزوں کو قائم رکھنے والا ہے حمد تیرے لیے مخصوص ہے، تو آسمانوں، زمین اور ان میں موجود سب چیزوں کا بادشاہ ہےحمد تیرے لیے مخصوص ہے ،تو حق ہے تیرا وعدہ حق ہے تیری بارگاہ میں حاضری حق ہے جہنم حق ہے قیامت حق ہے حضرت محمدﷺحق ہیں ۔ تمام انبیاء حق ہیں۔ اے اللہ! میں نے تیرے لیے اسلام قبول کیا تجھ پر ایمان لایا میں نے تجھ پر توکل کیا تیری طرف رجوع کیا میں تیری مدد سے مقابلہ کرتا ہوں میں تجھے ہی ثالث تسلیم کرتا ہوں، تو میرے گزشتہ اور آئندہ خفیہ اور اعلانیہ(ذنب) کی مغفرت کر دے ،تو آگے کرنے والا ہے ،تو پیچھے کرنے والا ہے تیرے علاوہ اور کوئی معبودنہیں ہے (یہاں کچھ الفاظ میں راوی کو شک ہے)“ سفیان کہتے ہیں : عبدالکریم نامی راوی نے اس میں یہ الفاظ مزیدنقل کیے ہیں: "تیری مدد کے بغیر کچھ نہیں ہوسکتا"۔ یہ الفاظ سلیمان نامی راوی نے نقل نہیں کیے ہیں۔

كان النبي إذا قام من الليل يتهجد ← طَاوُسًا ← سُلَيْمَانُ الْأَحْوَلُ خَالُ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 503

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَيْضًا · حديث 504

504 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَوْلَى آلِ طَلْحَةَ قَالَ: ثنا كُرَيْبٌ أَبُو رِشْدِينَ قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ بَيْتِ جُوَيْرِيَةَ حِينَ صَلَّى الصُّبْحَ وَكَانِ اسْمُهَا بَرَّةُ فَسَمَّاهَا جُوَيْرِيَةَ كَرِهَ أَنْ يُقَالَ خَرَجَ مِنْ عِنْدِ بَرَّةَ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَخَرَجَ مِنْ عِنْدِهَا حِينَ صَلَّى الصُّبْحَ ثُمَّ رَجَعَ إِلَيْهَا بَعْدَمَا تَعَالَى النَّهَارُ وَهِيَ جَالِسَةٌ فِي مُصَلَّاهَا فَقَالَ لَهَا: «لَمْ تَزَالِي فِي مَجْلِسِكِ هَذَا» قَالَتْ: نَعَمْ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَقَدْ قُلْتُ بَعْدَكَ أَرْبَعَ كَلِمَاتٍ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ لَوْ وُزِنَّ بِجَمِيعِ مَا قُلْتِ لَوَزَنَتْهُنَّ سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ عَدَدَ خَلْقِهِ، وَرِضَى نَفْسِهِ، وَزِنَةَ عَرْشِهِ، وَمِدَادَ كَلِمَاتِهِ»

حضرت عبداللہ بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺصبح کی نماز ادا کرنے کے بعد سیدہ جویریہ ؓ کے ہاں سے باہرتشریف لائے۔ ان کا نام "برہ" تھا۔ نبی اکرم ﷺنے ان کا نام جویر یہ رکھا تھا۔ نبی اکرم ﷺکو یہ بات پسند نہیں تھی کہ یہ کہا جائے آپ برہ ( بھلائی یا نیکی ) کے پاس سے تشریف لے گئے ہیں۔حضرت عبد الله بن عباسؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺصبح کی نماز ادا کر لینے کے بعد اس خاتون کے ہاں سے نکلے تھے، جب آپ ﷺان کے پاس واپس تشریف لائے ،تو دن اچھی طرح چڑھ چکا تھا۔ وہ خاتون اپنی جائے نماز پہ بیٹھی ہوئی تھیں ۔ نبی اکرم ﷺنے ان سے دریافت کیا: کیاتم اس وقت سے یہیں بیٹھی ہوئی ہو؟ انہوں نے عرض کی : جی ہاں۔ نبی اکرم ﷺنے فرمایا: میں نے تمہارے پاس سے جانے کے بعد چارکلمات تین مرتبہ پڑھے۔تم نےجو کچھ پڑھا ہے اگر ان کلمات کو ان کے وزن میں رکھاجائے ،تو یہ کلمات وزنی ہوں گے (وہ کلمات یہ ہیں) "الله تعالیٰ کی ذات پاک ہے اس کے لیےحمد مخصوص ہے ،جو اس کی مخلوق کی تعداد کے برابر ہو اس کی ذات کی رضا مندی کے برابر ہو اس کے عرش کے وزن کے برابر ہو اور اس کے کلمات کی سیاہی کے برابر ہو"۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← كُرَيْبٌ أَبُو رِشْدِينَ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَوْلَى آلِ طَلْحَةَ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 504

All Chapters
1. Book
    99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter
137. Chapter
138. Chapter
139. Chapter
140. Chapter
141. Chapter
142. Chapter
143. Chapter
144. Chapter
145. Chapter
146. Chapter
147. Chapter
148. Chapter
149. Chapter
150. Chapter
151. Chapter
152. Chapter
153. Chapter
154. Chapter
155. Chapter
156. Chapter
157. Chapter
158. Chapter
159. Chapter
160. Chapter
161. Chapter
162. Chapter
163. Chapter
164. Chapter
165. Chapter
166. Chapter
167. Chapter
168. Chapter
169. Chapter
170. Chapter
171. Chapter
172. Chapter
173. Chapter
174. Chapter
175. Chapter
176. Chapter
177. Chapter
178. Chapter
179. Chapter
180. Chapter
181. Chapter
182. Chapter
183. Chapter
184. Chapter
185. Chapter
186. Chapter
187. Chapter
188. Chapter
189. Chapter
190. Chapter
191. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter