Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند الحميدي

Masnad Humaidi

by أبو بكر عبد الله بن الزبير بن عيسى بن عبيد الله القرشي الأسدي الحميدي المكي

1,339 Hadith193 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 444

444 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا أَبُو فَرْوَةَ الْجُهَنِيُّ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُكَيْمٍ قَالَ: كُنَّا عِنْدَ حُذَيْفَةَ بِالْمَدَائِنِ فَاسْتَسْقَى دَهْقَانًا فَجَاءَهُ بِمَاءٍ فِي إِنَاءٍ مِنْ فِضَّةٍ فَحَذَفَهُ حُذَيْفَةُ وَكَانَ رَجُلًا فِيهِ حِدَّةٌ، فَكَرِهُوا أَنْ يُكَلِّمُوهُ، ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَى الْقَوْمِ فَقَالَ أَعْتَذِرُ إِلَيْكُمْ مِنْ هَذَا؛ إِنِّي كُنْتُ تَقَدَّمْتُ إِلَيْهِ أَنْ لَا يَسْقِيَنِي فِي هَذَا ثُمَّ قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ فِينَا فَقَالَ: «لَا تَشْرَبُوا فِي آنِيَةِ الْفِضَّةِ وَالذَّهَبِ، وَلَا تَلْبَسُوا الدِّيبَاجَ وَالْحَرِيرَ؛ فَإِنَّهُ لَهُمْ فِي الدُّنْيَا وَلَكُمْ فِي الْآخِرَةِ»

عبداللہ بن عقیم بیان کرتے ہیں :ہم لوگ حضرت حذیفہ ؓکے پاس مدائن میں موجود تھے۔ انہوں نے ایک دیہاتی سے پانی مانگا۔ وہ چاندی سے بنے ہوئے برتن میں پانی لے کر ان کے پاس آیا، تو حضرت حذیفہؓ نے اسے پھینک دیا۔ وہ ایک ایسے صاحب تھے۔ جن کے مزاج میں کچھ تیزی تھی۔ لوگوں نے یہ بات نا پسند کی کہ وہ ان سے اس بارے میں بات چیت کریں۔ پھر حضرت حذیفہؓ لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور ارشادفرمایا۔ میں اس بارے میں تمہارے سامنے عذر بیان کرتا ہوں مجھے پہلے یہ بات کر دینی چاہئےتھی کہ اس طرح کے (برتن میں )۔مجھے پینے کے لیے نہ دیا جائے۔ پھر انہوں نے بتایا: نبی اکرم ﷺہمارے درمیان کھڑے ہوئے آپ ﷺنے ارشادفرمایا: "چاندی یا سونے سے بنے ہوئے برتنوں میں نہ پیو، د یباج اور حریر استعمال نہ کرو ۔،کیونکہ یہ ان (کفار) کے لیے دنیا میں ہیں۔ تمہارے لیے آخرت میں ہوں گے"۔

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُكَيْمٍ ← أَبُو فَرْوَةَ الْجُهَنِيُّ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 444

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 445

445 - قَالَ سُفْيَانُ، ثنا ابْنُ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى قَالَ كُنَّا مَعَ حُذَيْفَةَ فَذَكَرَ مِثْلَهُ سَوَاءً

یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔

كُنَّا مَعَ حُذَيْفَةَ فَذَكَرَ مِثْلَهُ سَوَاءً ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ← مُجَاهِدٍ ← ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ← سُفْيَانَ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 445

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 446

446 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا أَبُو مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي وَايِلٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ يَشُوصُ فَاهُ بِالسِّوَاكِ»

حضرت حذیفہ ؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺرات کے وقت جب بیدار ہوتے تھے ،تو آپ ﷺاپنے منہ کو مسواک کے ذریعے صاف کرتے تھے۔

حُذَيْفَةَ ← أَبِي وَائِلٍ ← أَبُو مَنْصُورٍ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 446

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 447

447 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا الْأَعْمَشُ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ يَقُولُ: سَمِعْتُ حُذَيْفَةَ يَقُولُ: «رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى سُبَاطَةَ قَوْمٍ فَبَالَ قَائِمًا فَذَهَبْتُ أَتَنَحَّى عَنْهُ فَجَذَبَنِي إِلَيْهِ حَتَّى كُنْتُ عِنْدَ عَقِبِهِ فَلَمَّا فَرَغَ تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ»

حضرت حذیفہ ؓبیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم ﷺکو دیکھا۔ آپ ﷺکچرے کے ڈھیر پر تشریف لائے اور وہاں آپ ﷺنے کھڑے ہوکر پیشاب کیا۔ میں آپﷺسے پیچھے ہٹنے لگا، تو آپ ﷺنے مجھے اپنی طرف کھینچ لیا، یہاں تک کہ میں آپ ﷺکے پیچھے کھڑا ہو گیا۔ جب آپ ﷺفارغ ہوئے اور آپ ﷺنے وضو کیا تو دونوں موزوں پرمسح کرلیا۔

حُذَيْفَةَ ← أَبَا وَائِلٍ، ← الْاَعْمَشِ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 447

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 448

448 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا مَنْصُورٌ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ يَزِيدَ النَّخَعِيِّ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ الْحَارِثِ قَالَ: كُنَّا عِنْدَ حُذَيْفَةَ فَمَرَّ بِنَا رَجُلٌ فَقِيلَ لِحُذَيْفَةَ: إِنَّ هَذَا رَجُلٌ يُبَلِّغُ الْأَمِيرَ الْحَدِيثَ فَقَالَ حُذَيْفَةُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ قَتَّاتٌ» قَالَ سُفْيَانُ الْقَتَّاتُ النَّمَّامُ

ہمام بن حارث بیان کرتے ہیں: ہم لوگ حضرت حذیفہؓ کے پاس موجود تھے۔ اسی دوران ایک شخص ہمارے پاس سے گزرا ،تو حضرت حذیفہؓ سے کہا گیا: یہ وہ شخص ہے۔جو حکمرانوں تک لوگوں کی باتیں پہنچاتا ہے (یعنی ان کی چغلی کرتا ہے)تو حضرت حذیفہ ؓبولے: میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشادفرماتے ہوئے سناہے: "چغل خور جنت میں داخل نہیں ہوگا"۔ سفیان کہتے ہیں: (روایت کے متن میں استعمال ہونے والے لفظ)القتات سے مراد چغل خور ہے۔

هَمَّامِ بْنِ الْحَارِثِ، ← إِبْرَاهِيمَ بْنِ يَزِيدَ النَّخَعِيِّ، ← مَنْصُورٌ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 448

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 449

449 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ [ص:410]، عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَنَامَ وَضَعَ يَدَهُ تَحْتَ رَأْسِهِ ثُمَّ قَالَ: «اللَّهُمَّ قِنِي عَذَابَكَ يَوْمَ تَجْمَعُ أَوْ تَبْعَثُ عِبَادَكَ»

حضرت حذیفہ بن یمان ؓ بیان کرتے ہیں :نبی اکرم ﷺ جب سونے کا ارادہ کرتے تھے ، تو آپ ﷺاپنا دست مبارک اپنے سر کے نیچے رکھتے تھے۔ پھر یہ پڑھتے تھے۔ "اے اللہ! تو اس دن مجھے اپنے عذاب سے بچانا جس دن تو اپنے بندوں کو جمع کرے گا (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) دوبارہ زندہ کرے گا"۔ .

حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ ← رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، [ص:345] ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 449

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 450

450 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا أَبُو إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيُّ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ نُذَيْرٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ: أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَسْفَلَ مِنْ عَضَلَةِ سَاقِي أَوْ سَاقِهِ فَقَالَ: «هَذَا مَوْضِعُ الْإِزَارِ فَإِنْ أَبَيْتَ فَأَسْفَلَ، فَإِنْ أَبَيْتَ فَأَسْفَلَ، فَإِنْ أَبَيْتَ فَلَا حَقَّ لِلْإِزَارِ فِيمَا أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ»

حضرت حذیفہ ؓبیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺنے میری پنڈلی (رادی کوشک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) اپنی پنڈلی کا نیچے والا حصہ پکڑا اور فرمایا۔ "تہبند رکھنے کی جگہ ہے اگر تم نہیں مانتے تو اس سے کچھ نیچے کرلو۔ اگر نہیں مانتے تو اس سے بھی نیچے کرلو۔ اگر نہیں مانتے تو ٹخنوں سے نیچے تہبند کا کوئی حق نہیں ہے"۔

أَخَذَ رَسُولُ اللهِ بِأَسْفَلَ مِنْ عَضَلَةِ سَاقِي أَوْ سَاقِهِ، ← حُذَيْفَةَ ← مُسْلِمِ بْنِ نَذِيرٍ ← أَبُو إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيُّ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 450

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 451

451 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا الْأَعْمَشُ وَأَثْبَتُّهُ فِي هَذَا الْحَدِيثِ قَالَ: أَخْبَرَنِي زَيْدُ بْنُ وَهْبٍ قَالَ: سَمِعْتُ حُذَيْفَةَ بْنَ الْيَمَانِ يَقُولُ: حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحَدِيثَيْنِ رَأَيْتُ أَحَدَهُمَا وَأَنَا أَنْتَظِرُ لِلْآخَرِ حَدَّثَنَا «أَنَّ الْأَمَانَةَ نَزَلَتْ فِي جِذْرِ قُلُوبِ الرِّجَالِ» فَنَزَلَ الْقُرْآنُ فَقَرَءُوا مِنَ الْقُرْآنِ، وَعَلِمُوا مِنَ السُّنَّةِ، ثُمَّ حَدَّثَنَا عَنْ رَفْعِهَا، فَقَالَ «يَنَامُ الرَّجُلُ النَّوْمَةَ فَتُقْبَضُ الْأَمَانَةُ مِنْ قَلْبِهِ فَيَبْقَى أَثَرُهَا مِثْلَ أَثَرِ الْمَجْلِ ثُمَّ أَخَذَ حَصَيَاتٍ فَقَالَ بِهِنَّ عَلَى رِجْلِهِ فَدَحْرَجَهُنَّ فَقَالَ دَحْرَجْتُهُ فَنَفِطَ فَتَرَاهُ مُنْتَبِرًا وَلَيْسَ فِيهِ شَيْءٌ، وَيَظَلُّ النَّاسُ يَتَبَايَعُونَ لَيْسَ فِيهِمْ رَجُلٌ يُؤَدِّي الْأَمَانَةَ، وَحَتَّى يُقَالَ لِلرَّجُلِ مَا أَجْلَدَهُ وَمَا أَظْرَفَهُ وَمَا أَعْقَلَهُ وَمَا فِي قَلْبِهِ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ مِنْ إِيمَانٍ، وَلَقَدْ رَأَيْتُنِي وَمَا أُبَالِي أَيُّكُمْ بَايَعْتُ لَئِنْ كَانَ مُسْلِمًا لَيُرَدَّنَّهُ عَلَيَّ إِسْلَامُهُ، وَإِنْ كَانَ يَهُودِيًّا أَوْ نَصْرَانِيًّا لَيُرَدَّنَّ عَلَيَّ سَاعِيهِ وَمَا أُبَايِعُ الْيَوْمَ إِلَّا فُلَانًا أَوْ فُلَانًا»

حضرت حذیفہ بن یمان ؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺنے ہمیں دو حدیثیں بیان کی تھیں ۔ ان میں سے ایک میں دیکھ چکا ہوں اور دوسری کا انتظار کر رہا ہوں ۔ آپ ﷺنے یہ بات ارشادفرمائی تھی: "امانت لوگوں کے دلوں کے اندر نازل ہوئی پھر قرآن نازل ہوا تو لوگوں نے قرآن کا علم حاصل کیا اور انہوں نےسنت کا بھی علم حاصل کیا"۔پھر نبی اکرم ﷺنے اس امانت کے اٹھا لیے جانے کے بارے میں ہمیں بیان کرتے ہوئے ارشادفرمایا: "آدمی سوئے گا ،تو اس کے دل میں سے امانت کو اٹھا لیا جائے گا۔ پھر وہ سوئے گا، تو اس کے دل میں سے امانت کو اٹھا لیا جائے گا ،یہاں تک کہ اس کا اس طرح نشان باقی رہ جائے گا، جس طرح آبلے کا نشان ہوتا ہے"۔ پھر حضرت حذیفہؓ نے کچھ کنکریاں پکڑیں اورانہیں اپنے پاوں پر ڈالا اور بولے : جس طرح ایک انگارہ اگرتم اپنے پاوں پرڈالو وہ جگہ پھول جائے گی اور جلن محسوس ہوگی، لیکن اس کے اندر کچھ نہیں ہوگا، تو لوگ لین دین کریں گے لیکن ان میں سے کوئی ایسا شخص نہیں ہوگا، جوامانت کو ادا کرے، یہاں تک کہ کسی شخص کے بارے میں یہ کہا جائے کہ یہ کتنا تیز اور کتنا چالاک اور کتنا عقلمند ہے ،حالانکہ اس کے دل میں رائی کے دانے کے برابربھی ایمان نہیں ہو گا۔ مجھے اپنے بارے میں یہ بات یاد ہے کہ میں پہلے اس بات کی پروا نہیں کرتا تھا۔ کہ میں کس کے ساتھ سودا کر رہا ہوں ۔ کیونکہ اگر وہ مسلمان ہوتا ،تو اس کا اسلام اسے میرے ساتھ ٹھیک رکھتا۔ اگر وہ یہودی یا عیسائی ہوتا ،تو اس کا حکمران اسے میرے ساتھ ٹھیک رہنے دیتا ،لیکن اب میں صرف فلاں اور فلاں شخص کے ساتھ ہی لین دین کرتا ہوں۔

أَنْتَظِرُ لِلْآخَرِ ← حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ ← زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، ← الْأَعْمَشُ، وَأَثْبَتَهُ فِي هَذَا الْحَدِيثِ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 451

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 452

452 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا جَامِعُ بْنُ أَبِي رَاشِدٍ، وَسُلَيْمَانُ الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي وَايِلٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ قَالَ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: «مَنْ يُحَدِّثُنَا عَنِ الْفِتْنَةِ» ؟ فَقُلْتُ: أَنَا سَمِعْتُهُ يَقُولَ «فِتْنَةُ الرَّجُلِ فِي أَهْلِهِ وَمَالِهِ وَجَارِهِ يُكَفِّرُهَا الصَّلَاةُ، وَالصَّدَقَةُ، وَالصَّوْمُ» فَقَالَ عُمَرُ: «لَسْتُ عَنْ تِلْكَ أَسْأَلُكَ إِنَّمَا أَسْأَلُكَ عَنِ الَّتِي تَمُوجُ مَوْجَ الْبَحْرِ» [ص:412] فَقُلْتُ: إِنَّ مِنْ دُونِ ذَلِكَ بَابًا مُغْلَقًا قَتْلُ رَجُلٍ أَوْ مَوْتُهُ قَالَ «أَيُكْسَرُ ذَلِكَ الْبَابُ أَوْ يُفْتَحُ» ؟ فَقُلْتُ: لَا بَلْ يُكْسَرُ فَقَالَ عُمَرُ: «ذَلِكَ أَجْدَرُ أَنْ لَا يُغْلَقَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ» حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ فَهِبْنَا حُذَيْفَةَ أَنْ نَسْأَلَهُ أَكَانَ عُمَرُ يَعْلَمُ أَنَّهُ هُوَ الْبَابُ؟ وَأَمَرْنَا مَسْرُوقًا فَسَأَلَهُ فَقَالَ: نَعَمْ كَمَا تَعْلَمُ أَنَّ دُونَ غَدٍ اللَّيْلَةَ فَذَاكَ أَنِّي حَدَّثْتُ لَهُ حَدِيثًا لَيْسَ بِالْأَغَالِيطِ

حضرت حذیفہ بن یمان ؓ بیان کرتے ہیں: حضرت عمربن خطاب ؓ نے فرمایا:" فتنے کے بارے میں کون ہمیں حدیث سنائے گا "تو میں نے کہا: میں نے نبی اکرم ﷺکو یہ ارشادفرماتے ہوئے سنا ہےکہ " آدی کے لیے آزمائش اس کی بیوی اس کے مال اور اس کے پڑوسی میں ہوتی ہے۔ نماز پڑھنا، صدقہ دینا اور روزہ رکھنا اس کا کفارہ بنتے ہیں" ۔حضرت عمرؓ بولے: میں نے اس کے بارے میں آپ سے دریافت نہیں کیا میں آپ سے اس فتنے کے بارے میں دریافت کر رہا ہوں ۔ جو سمندر کی لہروں کی طرح موجزن ہوگا۔ میں نے کہا: آپ کے اور اس کے درمیان ایک بند دروازہ ہے۔ جو ایک صاحب کے قتل ہونے یا انتقال کرنے کی صورت میں ہے۔ حضرت عمرؓ نے دریافت کیا۔ کیا اس دروازے کو توڑ دیا جائے گا یااسے کھولا جائے گا، تو میں نے کہا : نہیں بلکہ اسے توڑا جائے گا ، تو حضرت عمرؓ بولے : پھر تو وہ اس لائق ہوگا کہ قیامت کے دن تک بند نہ ہو ۔ اعمش کہتے ہیں : ہم ہیبت کی وجہ سے حضرت حذیفہ ؓ سے یہ دریا فت نہیں کر سکے ۔ کہ کیا حضرت عمر ؓ یہ بات جانتے تھے کہ دروازے سے مراد وہی ہیں، تو ہم نے مسروق سے یہ کہا انہوں نے حضرت حذیفہ ؓ سے یہ سوال کیا حضرت حذیفہ ؓ بولے :جی ہاں ، جس طرح تم لوگ یہ بات جانتے ہو کہ کل سے پہلے آج کی رات آئے گی ۔اس کی وجہ یہ ہے کہ میں نے انہیں ایک ایسی حدیث سنائی تھی جس میں غلطی نہیں تھی ۔

حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ ← أَبِي وَائِلٍ ← جَامِعُ بْنُ أَبِي رَاشِدٍ، وَسُلَيْمَانُ الْأَعْمَشُ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 452

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 453

453 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا مِسْعَرٌ، عَنْ عَاصِمِ ابْنِ بَهْدَلَةَ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ قَالَ: قُلْتُ لِحُذَيْفَةَ هَلْ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِ الْمَقْدِسِ؟ فَقَالَ حُذَيْفَةُ: أَنْتَ تَقُولُ صَلَّى فِيهِ يَا أَصْلَعُ قُلْتُ: نَعَمْ بَيْنِي وَبَيْنَكَ الْقُرْآنُ، قَالَ حُذَيْفَةُ: هَاتِ مَنِ احْتَجَّ بِالْقُرْآنِ فَقَدْ فَلَجَ فَقَرَأْتُ عَلَيْهِ {سُبْحَانَ الَّذِي أَسْرَى بِعَبْدِهِ لَيْلًا مِنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَى الْمَسْجِدِ الْأَقْصَى} [الإسراء: 1] فَقَالَ لِي حُذَيْفَةُ: أَيْنَ تَجِدُهُ صَلَّى فِيهِ؟ لَوْ صَلَّى فِيهِ لَكُتِبَتْ عَلَيْكُمُ الصَّلَاةُ فِيهِ كَمَا كُتِبَتْ عَلَيْكُمُ الصَّلَاةُ فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ثُمَّ قَالَ حُذَيْفَةُ: «أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِدَابَّةٍ طَوِيلِ الظَّهْرِ مَمْدُودٍ يُقَالُ لَهُ الْبُرَاقُ خَطْوُهَا مَدُّ الْبَصَرِ فَمَا زَايَلَا ظَهْرَ الْبُرَاقِ حَتَّى رَأَيَا الْجَنَّةَ وَالنَّارَ وَوَعْدَ الْآخِرَةِ أَجْمَعَ» [ص:413] قَالَ «وَيُحَدِّثُونَ أَنَّهُ رَبَطَهُ لِمَ أَيَفِرُّ؟ لِمَ أَيَفِرُّ مِنْهُ؟ وَإِنَّمَا سَخَّرَهُ لَهُ عَالِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ»

زرین حبیش بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت حذیفہ ؓ سے دریافت کیا۔ کیا نبی اکرمﷺ نے بیت المقدس میں نماز ادا کی تھی ، تو حضرت حذیفہ ؓ بولے : اے آگے سے گنجے !کیا تم یہ کہہ رہے ہو کہ نبی اکرم ﷺ نے اس میں نماز ادا کی تھی ؟ میں نے جواب دیا: جی ہاں ۔ میرے اور آپ کے درمیان فیصلہ قرآن کرے گا۔ حضرت حذیفہ ؓ بولے :"لے کر او"۔ جو شخص قرآن سے دلیل حاصل کرتا ہے ، وہ کامیاب ہوجاتا ہے ، تو میں نے ان کے سامنے یہ آیت تلاوت کی۔ "پاک ہے ، وہ ذات جو اپنے بندے کو رات کے وقت مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک لے گئی "۔ تو حضرت حذیفہ ؓ نے مجھ سے فرمایا :تم نے اس میں کہاں یہ پایا ہے کہ نبی اکرمﷺ نے وہا ں نماز ادا کی تھی؟ اگر نبی اکرمﷺ نے وہاں نماز ادا کی ہوتی ، تو تم لوگوں پر وہاں نماز ادا کرنا لازم قرار دیا جاتا۔ جس طرح تم پر مسجد الحرام میں نماز ادا کرنا لازم کیا گیاہے۔پھر حضرت حذیفہ ؓ نے بتایا : نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں ایک جانور پیش کیا گیا۔ جس کی پشت لمبی تھی جسے براق کہاجاتا تھا ۔ اس کا ایک قدم وہاں تک جاتا تھا ، جہاں تک نگاہ جاتی ہے۔ تو نبی اکرم ﷺ مسلسل براق کی پشت پر سوار رہے، یہاں تک کہ آپ ﷺ نےجنت اور جہنم کو ملاحظہ فرمایا ۔ اور آخرت کا وعدہ تو زیادہ جمع کرنے والاہے ۔حضرت حذیفہ ؓ نے فرمایا :لوگ یہ کہتے ہیں :نبی اکرمﷺ نے اسے باندھ دیا تھا ۔ بھئی کیوں ؟ کیا اس نے نبی اکرم ﷺ کو چھوڑ کر بھاگ جانا تھا حالانکہ غیب اور شہادت کا علم رکھنے والی ذات نے اسے نبی اکرم ﷺ کے لیےمسخرکیا تھا۔

زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ← عَاصِمِ ابْنِ بَهْدَلَةَ، ← مِسْعَرٍ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 453

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 454

454 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا زَائِدَةُ بْنُ قُدَامَةَ الثَّقَفِيُّ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ رَبِعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «اقْتَدُوا بِالَّذَيْنِ بَعْدِي أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَاهْتَدُوا بِهَدْيِ عَمَّارٍ وَتَمَسَّكُوا بِعَهْدِ ابْنِ أُمِّ عَبْدٍ»

حضرت حذیفہ ؓبیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺنے ارشاد فرمایا: میرے بعد ان دو لوگوں کی پیروی کرنا، ابوبکر اور عمر اور عمار کی ہدایت پرعمل کرنا اور میرے بعد ابن اُم عبد (یعنی حضرت عبداللہ بن مسعودؓ) کے عہد کو مضبوطی سے پکڑکررکھنا۔

حُذَيْفَةَ ← رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← زَائِدَةُ بْنُ قُدَامَةَ الثَّقَفِيَّ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 454

All Chapters
1. Book
    99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter
137. Chapter
138. Chapter
139. Chapter
140. Chapter
141. Chapter
142. Chapter
143. Chapter
144. Chapter
145. Chapter
146. Chapter
147. Chapter
148. Chapter
149. Chapter
150. Chapter
151. Chapter
152. Chapter
153. Chapter
154. Chapter
155. Chapter
156. Chapter
157. Chapter
158. Chapter
159. Chapter
160. Chapter
161. Chapter
162. Chapter
163. Chapter
164. Chapter
165. Chapter
166. Chapter
167. Chapter
168. Chapter
169. Chapter
170. Chapter
171. Chapter
172. Chapter
173. Chapter
174. Chapter
175. Chapter
176. Chapter
177. Chapter
178. Chapter
179. Chapter
180. Chapter
181. Chapter
182. Chapter
183. Chapter
184. Chapter
185. Chapter
186. Chapter
187. Chapter
188. Chapter
189. Chapter
190. Chapter
191. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter