Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند الحميدي

Masnad Humaidi

by أبو بكر عبد الله بن الزبير بن عيسى بن عبيد الله القرشي الأسدي الحميدي المكي

1,339 Hadith193 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 591

591 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا الزُّهْرِيُّ قَالَ: سَمِعْتُ عِيسَى بْنَ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ يُحَدِّثُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ ذَبَحْتُ قَبْلَ أَنْ أَرْمِيَ قَالَ: «ارْمِ وَلَا حَرَجَ» وَقَالَ آخَرُ: حَلَقْتُ قَبْلَ أَنْ أَذْبَحَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اذْبَحْ وَلَا حَرَجَ» فَقِيلَ لِسُفْيَانَ: " هَذَا مِمَّا حَفِظْتَ مِنَ الزُّهْرِيِّ فَقَالَ: نَعَمْ كَأَنَّهُ يَسْمَعُهُ إِلَّا أَنَّهُ طَوِيلٌ فَحَفِظْتُ هَذَا مِنْهُ «فَقَالَ لَهُ بُلَيْلٌ فَإِنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ مَهْدِيٍّ يُحَدِّثُ عَنْكَ أَنَّكَ قُلْتَ لَمْ أَحْفَظْهُ فَقَالَ» صَدَقَ لَمْ أَحْفَظْهُ كُلَّهُ وَأَمَّا هَذَا فَقَدْ أَتْقَنْتُهُ "

حضرت عبدالله بن عمرو بن العاص ؓ بیان کرتے ہیں۔ ایک شخص نے نبی اکرم ﷺسے سوال کیا۔ اس نے عرض کی:یارسول الله (ﷺ)!میں نے رمی کرنے سے پہلے قربانی کر لی ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا :تم اب رمی کر لو۔ کوئی حرج نہیں ہے۔ایک اور صاحب آئے انہوں نے عرض کی۔میں نے قربانی سے پہلے سر منڈوالیا ہے۔ نبی اکرم ﷺنے فرمایا :تم اب قربانی کرلو ۔کوئی حرج نہیں ہے۔ سفیان سے یہ کہا گیا: آپ نے زہری کی زبانی یہ روایت یاد کی ہے؟ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں! گویا کہ وہ اس وقت بھی اسےسن رہے تھے۔ تاہم یہ روایت طویل ہے۔ میں نے اس میں سے صرف اس حصے کو یاد رکھا ہے۔ تو بلبل نے ان سے کہا: (ایک قول کے مطابق اس کا نام بلیل بن حرب ہے) عبدالرحمنٰ بن مہدی تو آپ کے حوالے سے یہ کہتے ہیں، آپ نے یہ بات بیان کی ہے، مجھے یہ روایت یاد نہیں ہے۔ تو وہ بولے: اس نے ٹھیک کہا ہے مجھے یہ روایت مکمل طور پریادنہیں ہے ،تاہم جہاں تک اس حصے کاتعلق ہے، تویہ مجھے یقینی طور پریادہے۔

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ: ← عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 591

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 592

592 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا يَقْبِضُ الْعِلْمَ انْتِزَاعًا يَنْزِعُهُ مِنْ قُلُوبِ الرِّجَالِ، وَلَكِنْ يَقْبِضُهُ بِقَبْضِ [ص:495] الْعُلَمَاءِ فَإِذَا لَمْ يَتْرُكْ عَالِمًا اتَّخَذَ النَّاسُ رُءُوسًا جُهَّالًا فَسَأَلُوهُمْ فَأَفْتَوْهُمْ بِغَيْرِ عِلْمٍ فَضَلُّوا وَأَضَلُّوا» قَالَ عُرْوَةُ: " ثُمَّ لَبِثْتُ سَنَةً، ثُمَّ لَقِيتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ فِي الطَّوَافِ فَسَأَلْتُهُ عَنْهُ فَأَخْبَرَنِي بِهِ

حضرت عبد الله بن عمرو بن العاص ؓبیان کرتے ہیں۔ نبی اکرم ﷺنے ارشادفرمایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ اس علم کو یوں قبض نہیں کرے گا کہ اسے لوگوں کے دلوں میں سے نکال لے گا بلکہ وہ اسے علماء کوقبض کر کے قبض کرے گا۔ پھروہ کسی عالم کوباقی نہیں رہنے دے گا تو لوگ جاہلوں کو پیشوابنا لیں گے وہ ان سے مسئلے دریافت کریں گے، تو وہ لوگ علم نہ ہونے کے باوجودانہیں جواب دیں گے۔ وہ لوگ خودگمراہ ہوں گے اور دوسروں کو بھی گمراہ کریں گے۔ عروہ کہتے ہیں۔ پھر کئی سال گزر گئے۔ پھر میری ملاقات طواف کے دوران حضرت عبد الله بن عمروؓ سے ہوئی۔ میں نے ان سے اس روایت کے بارے میں دریافت کیا: تو انہوں نے مجھے اس کے بارے میں بتایا۔

عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ← أَبِي ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 592

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 593

593 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا سُلَيْمَانُ الْأَحْوَلُ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أَبِي الْعَاصِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ: «لَمَّا نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْأَوْعِيَةِ» قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ لَيْسَ كُلُّ النَّاسِ يَجِدُ سِقَاءً «فَرَخَّصَ لَهُمْ فِي الْجَرِّ غَيْرِ الْمُزَفَّتِ»

حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓبیان کرتے ہیں۔ جب نبی اکرم ﷺنے مخصوص برتنوں سے منع کر دیا، تو عرض کی گئی : یارسول اللہ (ﷺ)!ہر شخص کے پاس مشکیزہ نہیں ہوتا ، تو نبی اکرم ﷺنے لوگوں کو ایسا مٹکا استعمال کرنے کی اجازت دی جومزفت نہ ہو۔

الأوعية قيل: ← لَمَّا نَهَی رَسُولُ اللَّهِ ← عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ← أبى العاص ← مُجَاهِدٍ ← سُلَيْمَانَ الْأَحْوَلِ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 593

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 594

594 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي، سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خَصْلَتَانِ هُمَا يَسِيرٌ وَمَنْ يَعْمَلُ بِهِمَا قَلِيلٌ، وَلَا يُحَافِظُ عَلَيْهِمَا مُسْلِمٌ إِلَّا دَخَلَ الْجَنَّةَ» قَالُوا: وَمَا هُمَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ: «تُسَبِّحُ دُبُرَ كُلِّ صَلَاةٍ عَشْرًا، وَتُكَبِّرُ عَشْرًا، وَتَحْمَدُ عَشْرًا، وَتُسَبِّحُ عِنْدَ مَنَامِكَ ثَلَاثَةً وَثَلَاثِينَ، وَتَحْمَدُ ثَلَاثَةً وَثَلَاثِينَ، وَتُكَبِّرُ أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ» ثُمَّ قَالَ سُفْيَانُ: أَحَدُهُنَّ أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ فَذَلِكَ مِائَتَانِ وَخَمْسِينَ بِاللِّسَانِ، وَأَلْفَانِ وَخَمْسِمِائَةٍ فِي الْمِيزَانِ " قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو: فَأَنَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْقِدُهَا بِيَدِهِ ثُمَّ قَالَ: «فَأَيُّكُمْ يَعْمَلُ فِي يَوْمِهِ وَلَيْلِهِ أَلْفَيْ سَيِّئَةٍ وَخَمْسِمِائَةِ سَيِّئَةٍ» قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ فَكَيْفَ لَا يُحَافِظُ عَلَيْهِمَا قَالَ: «يَأْتِي الشَّيْطَانُ أَحَدَكُمْ فَيَقُولُ لَهُ اذْكُرْ كَذَا اذْكُرْ كَذَا حَتَّى يَقُومَ وَلَمْ يَقُلْهَا» [ص:497] قَالَ سُفْيَانُ: «هَذَا أَوَّلُ شَيْءٍ سَأَلْنَا عَطَاءً عَنْهُ، وَكَانَ أَيُّوبُ أَمَرَ النَّاسَ حِينَ قَدِمَ عَطَاءٌ الْبَصْرَةَ أَنْ يَأْتُوهُ فَيَسْأَلُوهُ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ»

حضرت عبدالله بن عمرو بن العاص ؓبیان کرتے ہیں ۔ نبی اکرم ﷺنے یہ بات ارشادفرمائی ہے: "دو عادات ایسی ہیں جو آسان ہیں، لیکن ان پرعمل کرنے والے لوگ تھوڑے ہیں، جو بھی مسلمان ان کو باقاعدگی سے سرانجام دے گا وہ جنت میں داخل ہو جائے گا۔ لوگوں نے عرض کی یارسول الله (ﷺ)!وہ دونوں کون سی ہیں ۔ نبی اکرم ﷺنے فرمایا: "ہر نماز کے بعد 10 مرتبہ سبحان اللہ پڑھنا، 10 مرتبہ الله اکبر پڑھنا، 10 مرتبہ الحمدللہ پڑھنا۔ اور سوتے وقت 33 مرتبہ سبحان اللہ پڑھنا۔ 33 مرتبہ الحمدللہ پڑھنا اور 34 مرتبہ الله اکبر پڑھنا۔“پھر سفیان نے یہ بات بیان کی ان میں سے کوئی ایک کلمہ 34مرتبہ ہے ، تو یوں یہ روزانہ زبان کے اعتبار سے 250کلمات ہو جائیں گے اور نامہ اعمال میں 2500 کلمات ہوں گے۔ حضرت عبداللہ بن عمرو ؓبیان کرتے ہیں ۔ میں نے نبی اکرم ﷺکو دیکھا کہ آپ ﷺنے اپنے دست مبارک کے ذریعے گنتی کرکے یہ بتایا پھر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا :کون شخص ایسا ہے ، جو روزانہ 2500گناہ کرتاہے۔ لوگوں نے عرض کی : یارسول اللہ (ﷺ )!انہیں باقاعدگی سے پڑھا کیوں نہیں جاسکتا۔ نبی اکرم ﷺنے فرمایا: "شیطان کسی شخص کے پاس آتا ہے اور اسے کہتا ہے فلاں چیز یاد کرو، یہاں تک کہ آدمی اٹھ جاتا ہے (یعنی نماز کے بعد اٹھ جاتا ہے اور ان کلمات کونہیں پڑھتا ہے"۔ یہ وہ پہلی روایت ہے، جس کے بارے میں ہم نے عطاءسے سوال کیا تھا۔ جب عطاء بصرہ آئے توایوب نے لوگوں کو یہ ہدایت کی کہ وہ ان کی خدمت میں جائیں اور ان سے اس روایت کے بارے میں دریافت کریں۔

عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ← أَبِي ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 594

All Chapters
1. Book
    99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter
137. Chapter
138. Chapter
139. Chapter
140. Chapter
141. Chapter
142. Chapter
143. Chapter
144. Chapter
145. Chapter
146. Chapter
147. Chapter
148. Chapter
149. Chapter
150. Chapter
151. Chapter
152. Chapter
153. Chapter
154. Chapter
155. Chapter
156. Chapter
157. Chapter
158. Chapter
159. Chapter
160. Chapter
161. Chapter
162. Chapter
163. Chapter
164. Chapter
165. Chapter
166. Chapter
167. Chapter
168. Chapter
169. Chapter
170. Chapter
171. Chapter
172. Chapter
173. Chapter
174. Chapter
175. Chapter
176. Chapter
177. Chapter
178. Chapter
179. Chapter
180. Chapter
181. Chapter
182. Chapter
183. Chapter
184. Chapter
185. Chapter
186. Chapter
187. Chapter
188. Chapter
189. Chapter
190. Chapter
191. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter