Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند الحميدي

Masnad Humaidi

by أبو بكر عبد الله بن الزبير بن عيسى بن عبيد الله القرشي الأسدي الحميدي المكي

1,339 Hadith193 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 953

953 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا الزُّهْرِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ السَّاعِدِيَّ، يَقُولُ: اطَّلَعَ رَجُلٌ مِنْ جُحْرٍ فِي حُجْرَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبِيَدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِدْرًى يَحُكُّ بِهِ رَأْسَهُ، فَقَالَ: «لَوْ أَعْلَمُ أَنَّكَ تَنْظُرُ لَطَعَنْتُ بِهِ فِي عَيْنِكَ، إِنَّمَا جُعِلَ الِاسْتِيذَانُ مِنْ أَجْلِ الْبَصَرِ»

حضرت سہل بن سعد ساعدی ؓ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نے نبی اکرم ﷺکے ایک حجرہ مبارک کے اندر جھانک کر دیکھنے کی کوشش کی اس وقت نبی اکرم ﷺایک کنگھی کے ذریعے اپنے سر کو کھجارہے تھے۔ آپ ﷺنے ارشاد فرمایا: اگر مجھے پتہ چل جاتا کہ تم یوں دیکھ رہے ہو تو میں یہ تمہاری آنکھوں میں چبھودیتا۔ اجازت لینے کاحکم اسی لیے مقرر کیا گیا ہے ،تاکہ( گھر والوں) پر نظر نہ پڑ سکے۔

بِيَدِ النَّبِيِّ مِدْرًى يَحُكُّ بِهِ رَأْسَهُ، ← اطَّلَعَ رَجُلٌ مِنْ جُحْرٍ فِي حُجْرَةِ النَّبِيِّ ← سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ، ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 953

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 954

954 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا أَبُو حَازِمٍ [ص:169]، أَنَّهُ سَمِعَ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ السَّاعِدِيَّ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةُ كَهَذِهِ مِنْ هَذِهِ» وَأَشَارَ سُفْيَانُ بِالسَّبَّابَةِ، وَالْوُسْطَى

حضرت سہل بن سعد ساعدی ؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺنے ارشادفرمایا ہے: ’’ مجھے اور قیامت کو اس طرح معبوث کیا گیا ہے جیسے ہی اور یہ ہیں۔" سفیان نے شہادت کی انگلی اور درمیانی انگلی کے ذریعے اشارہ کر کے یہ بات بیان کی۔

سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ، ← أَبُو حَازِمٍ [ص:169]، أَنَّهُ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 954

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 955

955 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: قَالَ لَنَا أَبُو حَازِمٍ: سَأَلُوا سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ مِنْ أَيِّ شَيْءٍ مِنْبَرُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ: مَا بَقِيَ مِنَ النَّاسِ أَحَدٌ أَعْلَمَ بِهِ مِنِّي، هُوَ مِنْ أَثَلِ الْغَابَةِ، عَمِلَهِ لَهُ فُلَانٌ مَوْلَى فُلَانَةَ، لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «حِينَ صَعَدَ عَلَيْهِ اسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ، فَكَبَّرَ، ثُمَّ قَرَأَ، ثُمَّ رَكَعَ، ثُمَّ نَزَلَ الْقَهْقَرَى فَسَجَدَ، ثُمَّ صَعَدَ، ثُمَّ قَرَأَ، ثُمَّ رَكَعَ، ثُمَّ نَزَلَ الْقَهْقَرَى، ثُمَّ سَجَدَ»

ابوحازم بیان کرتے ہیں: لوگوں نے حضرت سہل بن سعد ؓ سے دریافت کیا:نبی اکرم ﷺکامنبر کس چیز سے بنایا گیا تھا، تو انہوں نے فرمایا:اب لوگوں میں ایسا کوئی شخص باقی نہیں رہا جو اس کے بارے میں مجھ سے زیادہ جانتا ہو، یہ نواحی جنگلات کی لکڑی سے بنایا گیا تھا، جسے فلاں شخص نے بنایا تھا، جوفلاں خاتون کا غلام تھا۔ میں نے نبی اکرم ﷺکو دیکھا آپ ﷺمنبر پر چڑھے تو آپ ﷺنے قبلہ کی طرف رخ کیا پھر آپ ﷺنے تکبیر کہی پھر آپ ﷺنے تلاوت کی پھر آپ ﷺنے رکوع کیا پھر آپﷺالٹے قدموں نیچے اترے۔ پھر آپ ﷺنے سجدہ کیا پھر منبر پر چڑھ گئے۔ پھر تلاوت کی پھر رکوع کیا پھر الٹے قدموں نیچے اترے پھر سجدہ کیا۔

سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 955

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 956

956 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا أَبُو حَازِمٍ، قَالَ [ص:170]: سَمِعْتُ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ، يَقُولُ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصْلِحُ بَيْنَ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ فِي شَيْءٍ وَقَعَ بَيْنَهُمْ حَتَّى تَرَامَوْا بِالْحِجَارَةِ، فَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ، فَأَذَّنَ بِلَالٌ، وَاحْتُبِسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَقَدَّمَ أَبُو بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ، فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَعَلَ يَتَخَلَّلُ الصُّفُوفَ، فَلَمَّا انْتَهَى إِلَى الصَّفِّ الَّذِي يَلِي أَبَا بَكْرٍ أَخَذَ النَّاسُ فِي التَّصْفِيحِ، وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ رَجُلًا لَا يَلْتَفِتُ فِي الصَّلَاةِ، فَلَمَّا سَمِعَ ذَلِكَ الْتَفَتَ، فَأَبْصَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَشَارَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنِ اثْبُتْ، فَرَفَعَ أَبُو بَكْرٍ رَأْسَهُ إِلَى السَّمَاءِ، فَشَكَرَ اللَّهَ وَرَجَعَ الْقَهْقَرَى، وَتَقَدَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاتَهُ، فَقَالَ: «يَا أَبَا بَكْرٍ، مَا مَنَعَكَ حِينَ أَشَرْتُ إِلَيْكَ؟» ، فَقَالَ: مَا كَانَ اللَّهُ لِيَرَى ابْنَ أَبِي قُحَافَةَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ انْحَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى النَّاسِ، فَقَالَ: " يَا أَيُّهَا النَّاسُ مَا لَكَمْ حِينَ نَابَكُمْ فِي صَلَاتِكُمْ شَيْءٌ أَخَذْتُمْ فِي التَّصْفِيحِ، إِنَّمَا التَّصْفِيحُ لِلنِّسَاءِ، وَالتَّسْبِيحُ لِلرِّجَالِ، مَنْ نَابَهُ شَيْءٌ فِي صَلَاتِهِ، فَلْيَقُلْ: سُبْحَانَ اللَّهِ "

حضرت سہل بن سعدؓ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺبنو عمرو بن عوف کے درمیان صلح کروانے کے لیے تشریف لے گئے، کیونکہ ان کے درمیان جھگڑا ہوا تھا، یہاں تک کہ انہوں نے ایک دوسرے کو پتھر بھی مارے تھے۔ اس دوران نماز کا وقت ہو گیا حضرت بلال ؓنے اذان دی۔نبی اکرمﷺوہیں رکے رہے۔ حضرت ابو بکرؓ لوگوں کو نماز پڑھانے کے لیے آگے بڑھ گئے پھر نبی اکرمﷺتشریف لے آ ئے۔ آپ ﷺصفوں کے درمیان میں سے گزرتے ہوئے تشریف لائے جب آپﷺ حضرت ابو بکرؓ کے پیچھے والی صف تک پہنچے، تو لوگوں نے تالیاں بجانی شروع کیں۔ حضرت ابوبکر ؓایک ایسے فرد تھے، جو نماز کے دوران ادھر ادھر توجہ نہیں کرتے تھے، جب انہوں نے تالیوں کی آواز سنی اور توجہ کی ،تو انہیں نبی اکرمﷺنظر آئے۔ نبی اکرم ﷺنے انہیں اشارہ کیا کہ تم اپنی جگہ پرر ہو۔ تو حضرت ابوبکر ؓ نے اپنا سرآسمان کی طرف اٹھا کر الله تعالیٰ کا شکر ادا کیا اور الٹے قدموں پیچھے ہٹ گئے۔ نبی اکرم ﷺآگے بڑھے جب نبی اکرم ﷺنے نمازمکمل کر لی تو آپ ﷺنے فرمایا: اے ابوبکر ! جب میں نے تمہیں اشارہ کیا پھرتم کو کس بات نے روکا؟ ( کہ تم میرے حکم پرعمل کرو) تو حضرت ابوبکرؓ نے عرض کی: الله تعالىٰ ،ابو قحافہ کے بیٹے کواللہ کے رسول ﷺکے آگے نہیں دیکھے گا۔ پھر نبی اکرم ﷺلوگوں کی طرف متوجہ ہوئے آپ ﷺنے ارشاد فرمایا: اے لوگو! کیا وجہ ہے کہ جب نماز کے دوران تمہیں ضرورت پیش آئی تو تم نے تالیاں بجانا شروع کر دیں؟ تالیاں بجانے کا حکم خواتین کے لیے ہے ،مردوں کے لیے سبحان اللہ کہنے کا حکم ہے۔ جس شخص کونماز کے دوران (امام کو متو جہ کرنے کے لیے ) کوئی ضرورت پیش آجائے ،تو وہ جائے،تو وہ سبحان اللہ کہے۔

سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ← أَبُو حَازِمٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 956

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 957

957 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا أَبُو حَازِمٍ، أَنَّهُ سَمِعَ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ السَّاعِدِيَّ، قَالَ: كُنْتُ فِي الْقَوْمِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَتْهُ امْرَأَةٌ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي قَدْ وَهَبْتُ نَفْسِي لَكَ، فَارْأَ فِيَّ رَأْيَكَ [ص:171]، فَقَامَ رَجُلٌ، فَقَالَ: أَنْكِحْنِيهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكَ بِهَا حَاجَةٌ، قَالَ: فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَامَ، فَقَالَ: مِثْلَ ذَلِكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لِلرَّجُلِ: «هَلْ عِنْدَكَ شَيْءٌ تُعْطِيهَا إِيَّاهُ؟» فَقَالَ: لَا، قَالَ: «فَاذْهَبْ فَاطْلُبْ شَيْئًا» ، فَذَهَبَ، ثُمَّ جَاءَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا وَجَدْتُ شَيْئًا، قَالَ: «اذْهَبْ فَاطْلُبْ وَلَوْ خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ» ، فَذَهَبَ، ثُمَّ جَاءَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا وَجَدْتُ شَيْئًا وَلَا خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَلْ مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ شَيْءٌ؟» قَالَ: نَعَمْ سُورَةُ كَذَا، وَسُورَةُ كَذَا، قَالَ: «فَاذْهَبَ فَقَدْ زَوَّجْتُكُهَا بِمَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ»

حضرت سہل بن سعد ساعدی ؓ بیان کرتے ہیں: میں نبی اکرم ﷺکے پاس موجود افراد میں شامل تھا۔ ایک خاتون آپ ﷺکی خدمت میں حاضر ہوئی اس نے عرض کی یارسول اللہﷺ! میں خود کو آپﷺکو ہبہ کرتی ہوں، تو آپﷺ میرے بارے میں اپنی رائے کا جائزہ لے لیں۔ ایک صاحب کھڑے ہوئے ،انہوں نے عرض کی : یا رسول الله (ﷺ)! اس کے ساتھ میری شادی کر دیں، اگر آپ ﷺکو اس کی ضرورت نہیں ہے ۔ راوی کہتے ہیں: نبی اکرمﷺخاموش رہے وہ عورت پھر کھڑی ہوئی اس نے پھر یہی گزارش کی۔ نبی اکرم ﷺنے ان صاحب سے فرمایا: کیا تمہارے پاس کوئی چیز ہے جسے تم (مہر کے طور پر)اسے دے سکو؟انہوں نے عرض کی:جی نہیں! نبی اکرم ﷺنے فرمایا: جاؤ اور جا کر کچھ تلاش کرو! وہ صاحب گئے پھر واپس تشریف لائے انہوں نے عرض کی :یارسول اللہ(ﷺ)! مجھے کوئی چیز نہیں ملی۔ نبی اکرم ﷺنے فرمایا: جاؤ اور تلاش کرو، اگر چہ لو ہے کی ایک انگوٹھی ہی ہو۔ وہ صاحب گئے پھر آئے اور عرض کی :یا رسول الله (ﷺ)! مجھے کوئی چیز نہیں ملی لوہے کی کوئی انگوٹھی بھی نہیں ملی۔ نبی اکرم ﷺنے فرمایا: کیا تمہیں قرآن آتا ہے؟ انہوں نے عرض کی : جی ہاں! فلاں فلاں سورت آتی ہے۔ نبی اکرم ﷺنے فرمایا: جاوتمہیں جو قرآن آتا ہے اس کی وجہ سے میں نے تمہاری شادی اس کے ساتھ کر دی۔

كُنْتُ فِي الْقَوْمِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ فَأَتَتْهُ امْرَأَةٌ، فَقَالَتْ: ← سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ، ← أَبُو حَازِمٍ أَنَّهُ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 957

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 958

958 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا أَبُو حَازِمٍ، قَالَ: اخْتَلَفَ النَّاسُ بِأَيِّ شَيْءٍ دُوِيَ جُرْحُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ؟ فَسَأَلُوا سَهْلًا، وَكَانَ مِنْ آخِرِ مَنْ بَقِيَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَدِينَةِ [ص:172]، فَقَالَ: مَا بَقِيَ مِنَ النَّاسِ أَحَدٌ أَعْلَمَ بِهِ مِنِّي، «كَانَتْ فَاطِمَةُ تَغْسِلُ عَنْ وَجْهِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الدَّمَ، وَعَلِيٌّ يَأْتِي بِالْمَاءِ فِي تُرْسِهِ، فَأُخِذَ حَصِيرٌ فَأُحْرِقَ فَحُشِيَ بِهِ جُرْحُهُ»

ابوحازم بیان کرتے ہیں۔ لوگوں کے درمیان اس بارے میں اختلاف ہو گیا کہ غزوہ احد کے دن جب نبی اکرم ﷺزخمی ہوئے تھے تو آپ ﷺکا علاج کس طرح کیا گیا تھا؟ لوگوں نے اس بارے میں حضرت سہل بن سعد ساعدی ؓ سے دریافت کیا۔ وہ مدینہ منورہ میں باقی رہ جانے والے آخری صحابی رسول ﷺتھے۔ تو حضرت سہل ؓ نے بتایا: اب کوئی ایسا شخص باقی نہیں رہا جو اس بارے میں مجھ سے زیادہ علم رکھتا ہو۔ سیدہ فاطمہؓ نے نبی اکرم ﷺکے چہرہ مبارک سے خون دھویا تھا۔ حضرت علی ؓ اپنی ڈھال میں پانی لے کر آئے تھے، پھر چٹائی لے کر اسے جلایا گیا اور اسے نبی اکرم ﷺکے زخم پر لگادیا گیا۔

أَبُو حَازِمٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 958

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 959

959 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: ثنا أَبُو حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: قَالَ: رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَوْضِعُ سَوْطٍ فِي الْجَنَّةِ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا»

حضرت سہل بن سعدؓ روایت کرتے ہیں نبی اکرمﷺنے ارشادفرمایا ہے: "جنت میں ایک کوڑ ارکھنے کی جگہ دنیا اور اس کی ساری چیزوں سے بہتر ہے۔"

سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ← أَبُو حَازِمٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 959

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
All Chapters
1. Book
    99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter
137. Chapter
138. Chapter
139. Chapter
140. Chapter
141. Chapter
142. Chapter
143. Chapter
144. Chapter
145. Chapter
146. Chapter
147. Chapter
148. Chapter
149. Chapter
150. Chapter
151. Chapter
152. Chapter
153. Chapter
154. Chapter
155. Chapter
156. Chapter
157. Chapter
158. Chapter
159. Chapter
160. Chapter
161. Chapter
162. Chapter
163. Chapter
164. Chapter
165. Chapter
166. Chapter
167. Chapter
168. Chapter
169. Chapter
170. Chapter
171. Chapter
172. Chapter
173. Chapter
174. Chapter
175. Chapter
176. Chapter
177. Chapter
178. Chapter
179. Chapter
180. Chapter
181. Chapter
182. Chapter
183. Chapter
184. Chapter
185. Chapter
186. Chapter
187. Chapter
188. Chapter
189. Chapter
190. Chapter
191. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter