Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Rabiʻ II 29, 1448 AH · Oct 10, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند الحميدي

Masnad Humaidi

by أبو بكر عبد الله بن الزبير بن عيسى بن عبيد الله القرشي الأسدي الحميدي المكي

1,339 Hadith193 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 37

37 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا الزُّهْرِيُّ، أَخْبَرَنِي حَسَنٌ، وَعَبْدُ اللَّهِ ابْنَا مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ أَبِيهِمَا، أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لِابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: «إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ نِكَاحِ الْمُتْعَةِ، وَعَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ زَمَنَ خَيْبَرَ» قَالَ سُفْيَانُ يَعْنِى أَنَّهُ نَهَى عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ الأَهْلِيَّةِ زَمَنَ خَيْبَرَ لاَ يَعْنِى نِكَاحَ الْمُتْعَةِ

محمد بن حنفیہ بیان کرتے ہیں: حضرت علی ؓ نے حضرت عبد الله بن عباس ؓ سے فرمایا: نبی اکرم ﷺنے ( غزوہ خیبر ) کے زمانے میں نکاح متعہ اور پالتوگدھوں کا گوشت کھانے سے منع کردیا تھا۔ سفیان کہتے ہیں: اس روایت سے مراد یہ ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے غزوہ خیبر کے موقع پر پالتوگدھوں کا گوشت کھانے سے منع کیا تھا۔حضرت علی ؓ کی یہ مرادنہیں ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے اس موقع پر نکاح متعہ سے بھی منع کیا تھا۔( بلکہ نکاح متعہ کی حرمت کاحکم بعد میں دیا تھا)

لابْنِ عَبَّاسٍ ← أَبِيهِمَا: أَنَّ عَلِيًّا ← حَسَنٌ، وَعَبْدُ اللَّهِ ابْنَا مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 37

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 38

38 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: أَخْبَرَنِي مَنْ سَمِعَ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ: أَرَدْتُ أَنَ أَخْطُبَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابْنَتَهُ ثُمَّ ذَكَرْتُ أَنَّهُ لَا شَيْءَ لِي فَذَكَرْتُ عَائِدَتَهُ وَفَضْلَهُ فَخَطَبْتُهَا فَقَالَ لِي: «هَلْ عِنْدَكَ شَيْءٌ تُعْطِيهَا إِيَّاهُ؟» قُلْتُ: لَا، قَالَ «فَأَيْنَ دِرْعُكَ الْحُطَمِيَّةُ الَّتِي أَعْطَيْتُكَهَا يَوْمَ كَذَا وَكَذَا؟» قُلْتُ: هِيَ عِنْدِي، قَالَ «فَأْتِ بِهَا» قَالَ: فَجِئْتُ بِهَا فَأَعْطَيْتُهُ إِيَّاهَا فَزَوَّجَنِيهَا فَلَمَّا أَدْخَلَهَا عَلَيَّ قَالَ: «لَا تُحْدِثَا شَيْئًا حَتَّى آتِيكُمَا» فَجَاءَنَا وَعَلَيْنَا كِسَاءٌ أَوْ قَطِيفَةٌ، فَلَمَّا رَأَيْنَاهُ تَخَشْخَشْنَا فَقَالَ: «مَكَانَكُمَا» فَدَعَا بِإِنَاءٍ فِيهِ مَاءٌ فَدَعَا فِيهِ ثُمَّ رَشَّهُ عَلَيْنَا فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهِيَ أَحَبُّ إِلَيْكَ أَمْ أَنَا؟ قَالَ: «هِيَ أَحَبُّ إِلِيَّ مِنْكَ، وَأَنْتَ أَعَزُّ عَلَيَّ مِنْهَا» [ص:172] قَالَ أَبُو عَلِيٍّ الصَّوَّافُ: ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَصْرِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ الرَّمَادِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: أَخْبَرَنِي مَنْ سَمِعَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ عَلَى مِنْبَرِ الْكُوفَةِ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ

عبد الله بن ابو جیح نے اپنے والد کایہ بیان نقل کرتے ہیں : مجھے ان صاحب نے بتایا جنہوں نے حضرت علؓی کو بیان کرتے ہوئے یہ سنا حضرت علیؓ فرماتے ہیں : میں نے یہ ارادہ کیا، میں نبی اکرم ﷺ کے ہاں آپ ﷺکی صاحبزادی کے لیے نکاح کا پیغام بجھواوں پھر مجھے یہ یاد آیا، میرے پاس تو کچھ ہے ہی نہیں۔ پھر مجھے نبی اکرم ﷺ کی عظمت اور فضیلت کا خیال آیا، تو میں نے( سیدہ فاطمہ ؓ کے لیے) نکاح کا پیغام دیا تونبی اکرمﷺ نے مجھ سے دریافت کیا: کیا تمہارے پاس کوئی ایسی چیز ہے، جسے تم (مہر کے طور پر) اسے دو؟میں نے عرض کی:جی نہیں!نبی اکرم ﷺنے فرمایا:تمہاری"حطمیہ"زرہ کہاں ہے، جو میں نے فلاں موقع پر تمہیں دی تھی؟ میں نے عرض کی : وہ میرے پاس ہے نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم اسے ہی لے آؤ۔ حضرت علیؓ کہتے ہیں: میں وہ لے کر آیا میں نے نبی اکرمﷺ کو وہ زرہ دی تو نبی اکرم نے میری شادی (سیده فاطمہ ؓ)کے ساتھ کر دی ۔جب ان کی رخصتی ہوئی تو نبی اکرمﷺ نے فرمایا: جب تک میں تم دونوں کے پاس نہیں آتا اس وقت تک تم دونوں کوئی بات چیت نہ کرنا۔پھر نبی اکرم ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے ہم نے ایک چادر (راوی کوشک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) ایک کمبل اوڑھا ہواتھا۔جب ہم نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا تو ہم اس میں داخل ہونے لگے تو آپ ﷺنے ارشاد فرمایا : تم دونوں اپنی جگہ پر رہو!پھر نبی اکرمﷺ نے ایک برتن منگوایا جس میں پانی موجودتھا پھر آپ ﷺ نے اس میں دعا مانگی(یعنی اس پر کچھ پڑھ کر دم کیا) پھرآپﷺ نے وہ ہم پر چھڑک دیا۔میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ (ﷺ)!یہ یعنی (سیدہ فاطمہؓ) آپ ﷺکے نزدیک زیادہ محبوب ہیں یا میں؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:یہ میرے نزدیک تم سے زیادہ محبوب ہے اور تم میرے نزدیک اس سے زیادہ معزز ہو۔ یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں راوی نے حضرت علیؓ کو کوفہ کے منبر پر یہ بات بیان کرتے ہوئے سنا۔

أَرَدْتُ ← عَلِيًّا ← مَنْ ← أَبِيهِ ← عبد الله بن أبي نجيح ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 38

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 39

39 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، أَخْبَرَنِي عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ سَمِعْتُ عَائِشَ بْنَ أَنَسٍ يَقُولُ: سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ عَلَى مِنْبَرِ الْكُوفَةِ يَقُولُ: «كُنْتُ أَجِدُ مِنَ الْمَذْيِ شِدَّةً» فَأَرَدْتُ أَنْ أَسْأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَتِ ابْنَتُهُ عِنْدِي فَاسْتَحْيَيْتُ أَنْ أَسْأَلَهُ، فَأَمَرْتُ عَمَّارًا فَسَأَلَهُ فَقَالَ: «إِنَّمَا يَكْفِي مِنْهُ الْوُضُوءُ»

عائش بن انس بیان کرتے ہیں: میں نے حضرت علی بن ابوطالب ان کو کوفہ کے منبر پر یہ بات بیان کرتے ہوئے سنا۔ میری مذی بکثرت خارج ہوا کرتی تھی میں اس بارے میں نبی اکرم ﷺسے سوال کرنا چاہتا تھا، لیکن نبی اکرم ﷺکی صاحبزادی میری اہلیہ تھیں اس لیے آپﷺ سے یہ سوال کرتے ہوئے مجھے شرم محسوس ہوتی تھی، تو میں نے عمارؓ( بن یاسر ) کو یہ ہدایت کی انہوں نے نبی اکرمﷺ سے یہ سوال کیا تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اس (مذی کے خروج پر ) صرف وضو کر لینا کافی ہے۔

«كُنْتُ أَجِدُ مِنَ الْمَذْيِ شِدَّةً» فَأَرَدْتُ ← عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ عَلَى مِنْبَرِ الْكُوفَةِ ← عائشِ بنِ أنسٍ ← عَطَاءُ بْنُ اَبِیْ رَبَاحٍ ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 39

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 40

40 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا مُطَرِّفُ بْنُ طَرِيفٍ سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ يَقُولُ: أَخْبَرَنِي أَبُو جُحَيْفَةَ قَالَ: قُلْتُ لِعَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ: " هَلْ عِنْدَكَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْءٌ سِوَى الْقُرْآنِ؟ فَقَالَ: لَا وَالَّذِي فَلَقَ الْحَبَّةَ وَبَرَأَ النَّسَمَةَ إِلَّا أَنْ يُعْطِيَ اللَّهُ عَبْدًا فَهْمًا فِي كِتَابِهِ، أَوْ مَا فِي الصَّحِيفَةِ [ص:173] قُلْتُ: وَمَا فِي الصَّحِيفَةِ؟ قَالَ: الْعَقْلُ، وَفِكَاكُ الْأَسِيرِ، وَأَنْ لَا يُقْتَلَ مُسْلِمٌ بِكَافِرٍ "

ابوحجیفہ بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت علی بن ابوطالب ؓ سے دریافت کیا: آپ کے پاس قرآن کے علاوہ کوئی اور ایسی چیز ہے، جو نبی اکرمﷺ سے ملی ہو تو انہوں نے جواب دیا: جی نہیں ۔ اس ذات کی قسم !جس نے دانے کو چیرا ہے اور جان کو پیدا کیا ہے (ہمارے پاس ایسا کچھ نہیں ہے )صرف وہ چیز ہے جو الله تعالی اپنے کسی بندے کو اپنی کتاب کے بارے میں فہم عطا کر دیتا ہے یا وہ کچھ ہے جو اس صحیفے میں موجود ہے میں نے دریافت کیا: اس صحیفے میں کیا ہے؟ حضرت علیؓ نے فرمایا : دیت کے بارے میں قیدی کو رہائی دلانے کے بارے میں(احکام ہیں اور یہ حکم ہے کہ) کوئی مسلمان کسی کافر کے بدلے میں قتل نہیں کیا جائے گا۔

أَبُو جُحَيْفَةَ ← الشَّعْبِيِّ، ← مُطَرِّفُ بْنُ طَرِيفٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 40

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 41

41 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا عَبْدُ الْكَرِيمِ الْجَزَرِيُّ سَمِعْتُ مُجَاهِدًا، سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي لَيْلَى يَقُولُ: سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ يَقُولُ: " أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَقُومَ عَلَى بُدْنِهِ، وَأَنْ أُقَسِّمَ جِلَالَهَا وَجُلُودَهَا، وَأَنْ لَا أُعْطِيَ الْجَازِرَ مِنْهَا شَيْئًا، وَقَالَ: نَحْنُ نُعْطِيهِ مِنْ عِنْدِنَا "

عبدالرحمن بن ابو لیلیٰ بیان کرتے ہیں :میں نے حضرت علی ؓ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا:نبی اکرم ﷺ نے مجھے یہ ہدایت کی کہ میں آپﷺ کے قربانی کے جانوروں کی نگرانی کروں۔ (یعنی انہیں ذبح کرواوں)اور ان پر ڈالے جانے والے کپڑے اور ان کی کھا لوں کو تقسیم کردوں اور ان میں سے کوئی بھی چیز قصائی کو نہ دوں۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشادفرمایا: ہم اسے اپنے پاس سے (معاوضے کی )ادائیگی کریں گے۔

أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ ← عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ← مُجَاهِدًا، ← عَبْدِ الْکَرِيمِ الْجَزَرِيِّ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 41

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 42

42 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا ابْنُ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ: «أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَقُومَ عَلَى بُدْنِهِ، وَأَنْ أُقَسِّمَ جِلَالَهَا وَجُلُودَهَا» [ص:174] قَالَ الْحُمَيْدِيُّ: قَالَ سُفْيَانُ: لَمْ يَزِدْنِي ابْنُ أَبِي نَجِيحٍ عَلَى هَذَا فَأَمَّا عَبْدُ الْكَرِيمِ فَحَدَّثَنَا أَتَمَّ مِنْ هَذَا

حضرت علی بن ابوطالبؓ بیان کرتے ہیں نبی اکرم ﷺنے مجھے یہ حکم دیا، میں آپﷺ کی قربانی کے جانوروں کی نگرانی کروں اور ان پرڈالے جانے والے کپڑے اور ان کی کھالوں کوتقسیم کر دوں۔ حمیدی ؒ کہتے ہیں : سفیان نے یہ بات بیان کی ہے ابن ابونجیح نے میرے سامنے صرف یہی الفاظ بیان کیے تھے جہاں تک عبد الکریم نامی راوی کا تعلق ہے، توانہوں نے اس کے مقابلے میں زیادہ مکمل روایت بیان کی۔

أَتَمَّ مِنْ هَذَا ← سُفْيَانُ: لَمْ يَزِدْنِي ابْنُ أَبِي نَجِيحٍ عَلَى هَذَا فَأَمَّا عَبْدُ الْكَرِيمِ ← الْحُمَيْدِيُّ، ← «أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ أَنْ أَقُومَ عَلَى بُدْنِهِ، وَأَنْ أُقَسِّمَ جِلَالَهَا وَجُلُودَهَا» [ص:174] ← عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ← مُجَاهِدٍ ← ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 42

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 43

43 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي يَزِيدَ أَنَّهُ سَمِعَ مُجَاهِدًا يَقُولُ: سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي لَيْلَى يُحَدِّثُ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «تَسْأَلُهُ خَادِمًا» فَقَالَ: «أَلَا أُخْبِرُكِ بِمَا هُوَ خَيْرٌ لَكِ مِنْهُ تُسَبِّحِينَ اللَّهَ عِنْدَ مَنَامِكِ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَتَحْمَدِينَ اللَّهَ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَتُكَبِّرِينَ اللَّهَ أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ» ثُمَّ قَالَ سُفْيَانُ: إِحْدَاهُنَّ أَرْبَعٌ وَثَلَاثُونَ، قَالَ عَلِيٌّ فَمَا تَرَكْتُهَا مُنْذُ سَمِعْتُهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا لَهُ: وَلَا لَيْلَةَ صِفِّينَ، قَالَ: «وَلَا لَيْلَةَ صِفِّينَ» .

عبدالرحمن بن ابولیلیٰ حضرت علی بن ابوطالب ؓ کا یہ قول نقل کرتے ہیں: سیده فاطمہؓ نبی اکرمﷺکی خدمت میں حاضر ہوئیں تا کہ آپ سے کوئی خادمانگ لیں تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: کیا میں تمہیں ایسی چیز کے بارے میں نہ بتاؤں جو تمہارے لیے اس سے زیادہ بہتر ہو؟تم سوتے وقت 33 مرتبہ سبحان الله ، 33 مرتبہ الحمداللہ اور 34 مرتبہ الله اکبر پڑھ لیا کرو۔ (یہ روایت بیان کرنے کے بعد) سفیان نے کہا :ان میں سے کوئی ایک کلمہ 34 مرتبہ ہے۔ حضرت علی ؓفرماتے ہیں: جب سے میں نے نبی اکرم ﷺ کے حوالے سے یہ بات سنی ہے میں نے انہیں بھی ترک نہیں کیا۔لوگوں نے ان سے دریافت کیا۔ جنگ صفین کی رات بھی نہیں؟ انہوں نے فرمایا:جنگ صفین کی رات بھی (میں نے اسےپڑھناترک نہیں کیا)

عُبَيْدِ اللَّهِ1 بْنِ أبي يزيد، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 43

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 44

44 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: " أَنَّ فَاطِمَةَ أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَسْأَلُهُ خَادِمًا فَقَالَ: «لَا أُعْطِيكِ خَادِمًا، وَأَدَعُ أَهْلَ الصُّفَّةِ تُطْوَى بُطُونُهُمْ مِنَ الْجُوعِ، أَلَا أُخْبِرُكِ بِمَا هُوَ خَيْرٌ لَكِ مِنْهُ» ثُمَّ ذَكَرَ مِثْلَ حَدِيثِ عُبَيْدِ اللَّهِ الْأَوَّلِ إِلَى آخِرِهِ [ص:175]

حضرت علی بن ابوطالب ؓ بیان کرتے ہیں: فاطمہ، نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں خادم مانگنے کے لیے حاضر ہوئیں تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: میں تمہیں خادم نہیں دوں گا۔ کیا میں اہل صفہ کو بھوکا پیٹ چھوڑ دوں؟ کیا میں تمہیں اس چیز کےبارے میں نہ بتاؤں جو تمہارے لیے اس سے زیادہ بہتر ہے؟اس کے بعد راوی نے عبیداللہ کےحوالے سے منقول سابقہ روایت آخرتک نقل کی ہے۔

عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ أَنَّ فَاطِمَةَ أَتَتِ النَّبِيَّ تَسْأَلُهُ خَادِمًا ← أَبِيهِ ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 44

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 45

45 -. حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِىُّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، ثنا حُصَيْنٌ عَمَّنْ حَدَّثَهُ قَالَ: فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُتْبَةَ: وَلَا لَيْلَةَ صِفِّينَ قَالَ: وَلَا لَيْلَةَ صِفِّينَ ذَكَرْتُهَا مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ

یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں:عبداللہ بن عتبہ نے حضرت علی ؓ سے گزارش کی: جنگ صفین کی رات بھی نہیں؟ تو حضرت علی ؓنے فرمایا: میں نےرات کے آخری حصے میں انہیں پڑھا تھا۔

وَلَا لَيْلَةَ صِفِّينَ ذَكَرْتُهَا مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ ← فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُتْبَةَ: وَلَا لَيْلَةَ صِفِّينَ ← حُصَيْنٌ عَمَّنْ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 45

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 46

46 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ أَنَّهُ سَمِعَ الْقَاسِمَ بْنَ مُخَيْمِرَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ شُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنِ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ فَقَالَتِ: ائْتِ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ فَاسْأَلْهُ فَإِنَّهُ كَانَ يَغْزُو مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «يَوْمٌ وَلَيْلَةٌ لِلْمُقِيمِ، وَثَلَاثَةُ أَيَّامٍ وَلَيَالِيهِنَّ لِلْمُسَافِرِ»

شریح بن ہانی بیان کرتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ ؓ سے موزوں پرمسح کرنے کے بارے میں دریافت کیا، تو انہوں نے فرمایا: تم حضرت علی بن ابوطالبؓ کے پاس جا کر ان سے یہ سوال کرو کیونکہ وہ نبی کریمﷺکے ساتھ جنگوں میںشریک ہوتے رہے ہیں۔(راوی کہتے ہیں:)میں نے حضرت علی ؓ سے یہ سوال کیا، تو انہوں نے ارشادفرمایا: نبی اکرم ﷺیہ ارشادفرماتے تھے۔ "مقیم کے لیے اس کی مدت ایک دن اور ایک رات ،جبکہ مسافر کے لیے تین دن اور تین راتیں ہیں"۔

«يَوْمٌ وَلَيْلَةٌ لِلْمُقِيمِ، وَثَلَاثَةُ أَيَّامٍ وَلَيَالِيهِنَّ لِلْمُسَافِرِ» ← ائْتِ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ فَاسْأَلْهُ فَإِنَّهُ كَانَ يَغْزُو مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ← الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ ← سَأَلْتُ عَائِشَةَ ← شُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ، ← الْقَاسِمِ بْنِ مُخَيْمِرَةَ ← يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ أَنَّهُ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 46

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 47

47 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا أَبُو السَّوْدَاءِ عَمْرٌو النَّهْدِيُّ، عَنِ ابْنِ عَبْدِ خَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: رَأَيْتُ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ يَمْسَحُ ظُهُورَ قَدَمَيْهِ، وَيَقُولُ: «لَوْلَا أَنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَسَحَ عَلَى ظُهُورِهِمَا لَظَنَنْتُ أَنَّ بُطُونَهُمَا أَحَقُّ» [ص:176] قَالَ أَبُو بَكْرٍ: إِنْ كَانَ عَلَى الْخُفَّيْنِ فَهُوَ سُنَّةٌ، وَإِنْ كَانَ عَلَى غَيْرِ الْخُفَّيْنِ فَهُوَ مَنْسُوخٌ

ابن عبد خیر اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : میں نے حضرت علی بن ابوطالب ؓ کو پاؤں کے اوپری حصے پرمسح کرتے ہوئے دیکھا وہ یہ فرمارہے تھے:میں نے نبی اکرمﷺ کو ان کے اوپری حصے پرمسح کرتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا تو میرا یہ خیال ہے کہ ان کا نیچے والا حصہ اس بات کا زیادہ حقدار ہے کہ اس پر مسح کیا جائے۔ امام حمیدیؒ بیان کرتے ہیں: اگر تو ی واقعہ موزوں پرمسح کے بارے میں ہے تو یہ سنت ہے اور اگر موزوں کے علاوہ ہے توپھر حکم"منسوخ "ہے۔

رأيت علي بن أبي طالب يمسح ظهور قدميه ← أَبِيهِ ← ابْنِ عَبْدِ خَیْرٍ ← أَبُو السَّوْدَاءِ عَمْرٌو النَّهْدِيُّ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 47

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 48

48 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ حَدَّثَنِي أَبُو إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيُّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ يُثَيْعٍ قَالَ: سَأَلْنَا عَلِيًّا «بِأَيِّ شَيْءٍ بُعِثْتَ فِي الْحِجَّةِ» قَالَ: «بُعِثْتُ بِأَرْبَعٍ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا نَفْسٌ مُؤْمِنَةٌ، وَلَا يَطُوفُ بِالْبَيْتِ عُرْيَانٌ، وَلَا يَجْتَمِعُ مُسْلِمٌ وَمُشْرِكٌ فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ بَعْدَ عَامِهِمْ هَذَا، وَمَنْ كَانَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَهْدٌ فَعَهْدُهُ إِلَى مُدَّتِهِ، وَمَنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ عَهْدٌ فَأَجَلُهُ أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ»

زید بن یثیع بیان کرتے ہیں: ہم نے حضرت علیؓ سے سوال کیاحج کے موقع پر آپ کوکون سی چیز کے ہمراہ بھیجا گیاتھا؟تو انہوں نے بتایا :مجھے چار چیزوں کے ہمراہ بھیجاگیا تھا (یعنی یہ چار اعلان کرنے ہیں)"جنت میں صرف مومن داخل ہوگا، کوئی شخص برہنہ ہو کربیت اللہ کا طواف نہیں کرئےگا ، مسلمان اور مشرکین اس سال کے بعد مسجد حرام میں اکٹھے نہیں ہو سکیں گے۔ اور جس شخص کا نبی اکرم ﷺ کے ساتھ کوئی معاہدہ ہو، تو وہ معا ہدہ اپنی متعین مدت تک ہوگا۔اور جس شخص کے ساتھ کوئی معاہدہ نہیں ہے ،تو اس کی مہلت چار ماہ ہے"

سَأَلْنَا عَلِيًّا بِأَيِّ شَيْءٍ بُعِثْتَ فِي الْحَجَّةِ، ← زيد بن يثيع ← أَبُو إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيُّ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 48

chevron_left Previous
12
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter
137. Chapter
138. Chapter
139. Chapter
140. Chapter
141. Chapter
142. Chapter
143. Chapter
144. Chapter
145. Chapter
146. Chapter
147. Chapter
148. Chapter
149. Chapter
150. Chapter
151. Chapter
152. Chapter
153. Chapter
154. Chapter
155. Chapter
156. Chapter
157. Chapter
158. Chapter
159. Chapter
160. Chapter
161. Chapter
162. Chapter
163. Chapter
164. Chapter
165. Chapter
166. Chapter
167. Chapter
168. Chapter
169. Chapter
170. Chapter
171. Chapter
172. Chapter
173. Chapter
174. Chapter
175. Chapter
176. Chapter
177. Chapter
178. Chapter
179. Chapter
180. Chapter
181. Chapter
182. Chapter
183. Chapter
184. Chapter
185. Chapter
186. Chapter
187. Chapter
188. Chapter
189. Chapter
190. Chapter
191. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter