Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
مسند الحميدي

Masnad Humaidi

by أبو بكر عبد الله بن الزبير بن عيسى بن عبيد الله القرشي الأسدي الحميدي المكي

1,339 Hadith193 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 66

66 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا الزُّهْرِيُّ، أَخْبَرَنِي عَامِرُ بْنُ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: مَرِضْتُ بِمَكَّةَ عَامَ الْفَتْحِ مَرَضًا أُشْفِيتُ مِنْهُ عَلَى الْمَوْتِ فَأَتَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُنِي فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ لِي مَالًا كَثِيرًا، وَلَيْسَ يَرِثُنِي إِلَّا ابْنَتِي أَفَأَتَصَدَّقُ بِثُلُثَيْ مَالِي؟ قَالَ «لَا» قُلْتُ: فَالشَّطْرُ قَالَ: «لَا» قُلْتُ: فَالثُّلُثُ قَالَ: «الثُّلُثُّ وَالثُّلُثُ كَثِيرٌ إِنَّكَ إِنْ تَتْرُكْ وَرَثَتَكَ أَغْنِيَاءَ خَيْرٌ مِنْ أَنْ تَتْرُكَهُمْ عَالَةً يَتَكَفَّفُونَ النَّاسَ، وَإِنَّكَ لَنْ تُنْفِقَ نَفَقَةً إِلَّا أُجِرْتَ عَلَيْهَا حَتَّى اللُّقْمَةُ تَرْفَعُهَا إِلَى فِي امْرَأَتِكَ» فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أُخَلَّفُ عَلَى هِجَرَتِي فَقَالَ «إِنَّكَ لَنْ تُخَلَّفَ بَعْدِي فَتَعْمَلَ عَمَلًا تُرِيدُ بِهِ وَجْهَ اللَّهِ إِلَّا ازْدَدْتَ بِهِ رِفْعَةً وَدَرَجَةً وَلَعَلَّكَ إِنْ تُخَلَّفْ بَعْدِي حَتَّى يَنْتَفِعَ بِكَ أَقْوَامٌ وَيُضَرُّ بِكَ آخَرُونَ، اللَّهُمَّ أَمْضِ لِأَصْحَابِي هِجْرَتَهُمْ وَلَاتَرُدَّهُمْ عَلَى أَعْقَابِهِمْ» وَلَكِنَّ الْبَائِسَ سَعْدُ ابْنُ خَوْلَةَ يَرْثِي لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ مَاتَ بِمَكَّةَ قَالَ سُفْيَانُ وَسَعْدُ ابْنُ خَوْلَةَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي عَامِرِ بْنِ لُؤَيٍّ

عامر بن سعد اپنے والد حضرت سعد بن ابی وقاص ؓکا یہ قول نقل کرتے ہیں ۔ فتح مکہ کے موقع پر میں بیمار ہو گیا ایسا بیمار ہوا کہ موت کے کنارے پہنچ گیا۔ نبی اکرم ﷺمیری عیادت کرنے کے لیے میرے پاس تشریف لائے میں نے عرض کی یارسول اللہ (ﷺ)! میرے پاس بہت سا مال ہے اور میری وارث صرف میری ایک بیٹی ہے ،تو کیا میں اپنا دو تہائی مال صدقہ کردوں تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جی نہیں میں نے عرض کی: نصف کر دوں؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: نہیں میں نے عرض کی :ایک تہائی کر دوں؟ نبی اکرمﷺنے فرمایا: ایک تہائی کر دو ! ویسے ایک تہائی بھی زیادہ ہے۔ اگر تم اپنے ورثا کوخوشال چھوڑ کر جاتے ہو تو یہ اسں سے زیادہ بہتر ہے کہ تم انہیں مفلوک الحال چھوڑ کے جاؤ کہ وہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے رہیں۔تم جو کچھ بھی خرچ کر وگے اس کا اجر ملے گا، یہاں تک کہ تم اپنی بیوی کے منہ میں جولقمہ ڈالو گے (اس کا بھی تمہیں اجرملے گا ْ)میں نے عرض کی یارسول الله (ﷺ)! کیا میں اپنی ہجرت سے پیچھے کر دیا جاؤں گا؟ نبی اکرم ﷺنے فرمایا تمہیں مجھ سے پیچھے نہیں کیا جائے گا تم جو بھی عمل کروگے جس کے ذریعے تم نے الله کی رضا چاہی ہوگی، تو اس کے نتیجے میں تمہاری رفعت اور مرتبے میں اضافہ ہوگ،ا ہوسکتا ہے کہ تم میرے بعد بھی زندہ ر ہوتا کہ بہت سے لوگ تم سے نفع حاصل کریں اور دوسرے بہت سے لوگوں کو تم سےنقصان ہو۔(پھر نبی اکرم ﷺنے دعا کی)"اے اللہ میرے اصحاب کی ہجرت کو باقی رکھنا اور انہیں ایڑیوں کے بل واپس نہ لوٹا ، لیکن سعد بن خولہ پر افسوس ہے"- (حضرت سعد ؓکہتے ہیں) نبی اکرم ﷺنے ان پرافسوس کا اظہار اس لیے کیا، کیونکہ ان کا انتقال مکہ میں ہوگیا تھا۔

أَبِيهِ ← عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 66

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 67

67 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا الزُّهْرِيُّ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَعْظَمُ الْمُسْلِمِينَ فِي الْمُسْلِمِينَ جُرْمًا مَنْ سَأَلَ عَنْ أَمْرٍ لَمْ يُحَرَّمْ فَحُرِّمَ عَلَى النَّاسِ مِنْ أَجْلِ مَسْأَلَتِهِ»

عامر بن سعد اپنے والدحضرت سعد بن ابی وقاصؓ کے حوالے سے نبی اکرم ﷺکا یہ فرمان نقل کرتے ہیں :مسلمانوں میں سے سب سے بڑا مجرم وہ ہوتا ہے جو کسی ایسے معاملے کے بارے میں سوال کرے جسے حرام قرارنہیں دیا گیا تھا، اور پھر اس کے سوال کرنے کی وجہ سے وہ لوگوں کے لیے حرام قرار دے دیا جائے۔

أَبِيهِ ← عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 67

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 68

68 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: «قَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَسْمًا» فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَعْطِ فُلَانًا فَإِنَّهُ مُؤْمِنٌ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَو مُسْلِمٌ؟» فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَعْطِ فُلَانًا فَإِنَّهُ مُؤْمِنٌ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَو مُسْلِمٌ؟» ثُمَّ قَالَ «لَأُعْطِي الرَّجُلَ وَغَيْرَهُ أَحَبُّ إِلَيَّ مَخَافَةَ أَنْ يَكُبَّهُ اللَّهُ فِي النَّارِ»

عامر بن سعد اپنے والد (حضرت سعد بن ابی وقاصؓ )کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺنے کچھ تقسیم کیا ،تو میں نے عرض کی :یا رسول اللہ (ﷺ)!فلاں صاحب کو بھی کچھ دے دیجئے وہ مومن ہے۔ نبی اکرم ﷺنے دریافت کیا:(و ه مومن ہے) یا مسلمان ہے؟ میں نے عرض کی یا رسول اللہ (ﷺ )! آپ فلاں کو بھی کچھ عطا کیجئے کیونکہ وہ مومن ہے۔ نبی اکرم ﷺنے دریافت کیا:(وہ مومن ہے) یا مسلمان ہے؟ پھر نبی اکرم ﷺ نے ارشادفرمایا بعض اوقات میں کسی شخص کو کچھ دیتا ہوں حالانکہ دوسرا شخص میرے نزدیک اس سے زیاد محبوب ہوتا ہے، لیکن میں اس اندیشے کے تحت دے دیتا ہوں تا کہ الله تعالی اسے منہ کے بل جہنم میں داخل نہ کردے۔

قَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ قَسْمًا فَقُلْتُ ← أَبِيهِ ← عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 68

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 69

69 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِ هَذَا الْحَدِيثِ وَزَادَ فِيهِ قَالَ الزُّهْرِيُّ فَنَرَى أَنَّ الْإِسْلَامَ الْكَلِمَةُ، وَأَنَّ الْإِيمَانَ الْعَمَلُ

یہی روایت ایک اور سند کے ہمرا ہ بھی منقو ل ہے، تاہم اس میں یہ الفاظ زائد ہیں ۔زہری کہتے ہیں۔(اس روایت سے ہم )یہ بات جان گئے ہیں کے اسلام سے مراد زبانی اقرار ہے اور ایمان سے مراد عمل ہے۔

الزُّهْرِيُّ فَنَرَى أَنَّ الْإِسْلَامَ الْكَلِمَةُ، وَأَنَّ الْإِيمَانَ الْعَمَلُ ← النَّبِيِّ بِنَحْوِ هَذَا الْحَدِيثِ وَزَادَ فِيهِ ← أَبِيهِ ← عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 69

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 70

70 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ، وَأَبُو ضَمْرَةَ قََالَا: ثنا هَاشِمُ بْنُ هَاشِمِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ تَصَبَّحَ بِسَبْعِ تَمَرَاتٍ عَجْوَةً لَمْ يَضُرَّهُ ذَلِكَ الْيَوْمَ سُمٌّ وَلَا سِحْرٌ»

عامر بن سعد اپنے والد(حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ) کے حوالے سے نبی اکرم ﷺ کا فرمان نقل کرتے ہیں: "جوشخص صبح کے وقت سات عجوہ کھجور میں کھالے اس دن میں اس پرز ہر یا جادو اثر نہیں کرے گا"۔

أَبِيهِ ← عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ ← هَاشِمِ بْنِ هَاشِمِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، ← مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ، وَأَبُو ضَمْرَةَ ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 70

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 71

71 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ قَالَ سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ يَقُولُ: بَلَغَنِي عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ الْحَدِيثُ ثُمَّ لَقِيتُ سَعْدًا فَحَدَّثَنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِعَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ «أَمَا تَرْضَى أَنْ تَكُونَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى»

سعید بن مسیب بیان کرتے ہیں: مجھ تک حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ کے حوالے سے منقول ایک روایت پہنچی تومیں حضرت سعد ؓسے ملا انہوں نے مجھے یہ حدیث سنائی نبی اکرم ﷺنے حضرت علی بن ابو طالب ؓ سے یہ فرمایا تھا۔" کیا تم اس بات سے راضی نہیں ہو کہ تمہاری مجھ سے وہی نسبت ہو جوحضرت ہارونؑ کی حضرت موسٰیؑ سے تھی"۔

سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ الْحَدِيثُ ثُمَّ لَقِيتُ سَعْدًا فَحَدَّثَنِي ← بلغني ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← عَلِيِّ بْنِ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 71

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 72

72 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ السُّوَائِيَّ يَقُولُ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ يَقُولُ لِسَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ: وَاللَّهِ لَقَدْ شَكَاكَ أَهْلُ الْكُوفَةِ فِي كُلِّ شَيْءٍ حَتَّى زَعَمُوا أَنَّكَ لَا تُحْسِنُ تُصَلِّي بِهِمْ فَقَالَ سَعْدٌ: «أَمَا وَاللَّهِ مَا كُنْتُ آلُو بِهِمْ صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ أَرْكُدُ فِي الْأُولَيَيْنِ وَأَحْذِفُ فِي الْأُخْرَيَيْنِ» قَالَ: فَسَمِعْتُ عُمَرَ يَقُولُ: ذَلِكَ الظَّنُّ بِكَ، ذَلِكَ الظَّنُ بِكَ

جابر بن سمرہ سوائی بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت عمر بن خطابؓ کو حضرت سعد بن ابی وقاصؓ سے یہ کہتے ہوئے سنا: الله کی قسم ! اہل کوفہ نے تمہاری ہر معاملے میں شکایت کی ہے، یہاں تک کہ انہوں نے بھی یہ بیان کیا ہے کہ تم انہیں صحیح طریقے سے نماز نہیں پڑھاتے ہو، تو حضرت سعدؓ نے کہا: اللہ کی قسم ! ظہر اور عصر کی نماز میں نبی اکرم ﷺکے طریقہ نماز کے مطابق، نماز پڑھانے کے حوالے سے، میں ان کے ساتھ کوئی کوتاہی نہیں کرتا۔ میں پہلی دو رکعات طویل ادا کرتا ہوں اور آخری دو رکعات کچھ مختصر کر دیتا ہوں۔راوی کہتے ہیں تو میں نے حضرت عمر ؓ کو یہ کہتے ہوئے سنا:تمہارے بارے میں یہی گمان تھا۔ تمہارے بارے میں یہی گمان تھا۔

عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، ← جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ السُّوَائِيِّ ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 72

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 73

73 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ مِثْلَهُ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ ذَلِكَ الظَّنُّ بِكَ يَا أَبَا إِسْحَاقَ زَادَ فِيهِ سُفْيَانُ فَأَمَرَ بِهِ عُمَرُ أَنْ يُوقَفَ لِلنَّاسِ، فَجَعَلَ لَا يَمُرُّ عَلَى قَبِيلَةٍ إِلَّا أَثْنَوْا خَيْرًا حَتَّى مَرَّ بِمَجْلِسٍ لِبَنِي عَبْسٍ فَانْبَرَا شَقِيٌّ مِنْهُمْ يُكْنَى أَبَا سَعْدَةَ فَقَالَ: أَنَا أَعْلَمُهُ لَا يَعْدِلُ فِي [ص:190] الرَّعِيَّةِ، وَلَا يَخْرُجُ فِي السَّرِيَّةِ، وَلَا يَقْسِمُ بِالسَّوِيَّةِ، فَقَالَ سَعْدٌ: أَمَّا اللَّهُمَّ إِنْ كَانَ كَذَّابًا فَأَطِلْ عُمْرَهُ، وَأَكْثِرْ وَلَدَهُ، وَابْتَلِهِ بِالْفَقْرِ وَافْتِنْهُ، قَالَ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ شَيْخًا كَبِيرًا يَغْمِزُ الْجَوَارِيَ فِي الطُّرُقِ، فَيُقَالَ لَهُ فِي ذَلِكَ فَيَقُولُ: شَيْخٌ كَبِيرٌ فَقِيرٌ مَفْتُونٌ أَصَابَتْهُ دَعْوَةُ الرَّجُلِ الصَّالِحِ سَعْدٍ لَا تَكُونُ فِتْنَةٌ إِلَّا وَثَبَ فِيهَا

یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ جابر بن سمرہ سے منقول ہے، تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں:حضرت عمر ؓ نے کہا: اے ابواسحاق! تمہارے بارے میں یہی گمان تھا۔سفیان نامی راوی نے اس میں یہ الفاظ بھی نقل کیے ہیں:حضرت عمر ؓ نے انہیں یہ ہدایت کی کہ وہ خود کولوگوں کے سامنے پیش کریں تو حضرت سعد بن ابی وقاص ؓجس بھی قبیلے کے پاس سے گزرے ان لوگوں نے ان کی تعریف کی یہاں تک کہ جب وہ " بنوعبس" کی محفل کے پاس سے گزرے تو ایک بد بخت شخض ان کے سامنے آیا اس شخص کی کنیت ابو سعدہ تھی وہ بولا :مجھے یہ پتہ ہے کہ یہ صاحب اپنی رعایا میں انصاف سےکام نہیں لیتے ہیں۔کسی جنگی مہم کے لیے نہیں نکلے ہیں اور( مال غنیمت)صحیح طور تقسیم نہیں کرتے۔تو حضرت سعد ؓ نے کہا: اے اللہ! اگر یہ جھوٹ بول رہا ہے تو اس کی عمرکو لمبا کر دے اس کی اولا د کوز یا دہ کر دے ،اسےغربت میں مبتلا کردے اور اسے آزمائش کا شکار کر دینا۔عبدالملک بن عمیر نامی راوی کہتے ہیں: میں نے اسے دیکھا کہ وہ بڑی عمر کا بوڑھا تھا جو راستے میں نوجوان لڑکیوں کو چھیڑا کرتاتھا۔اس سے اس بارے میں بات کی جاتی تو وہ کہا کرتا تھا: ایک عمر رسیدہ بوڑھا جو غریب بھی ہے آزمائش کا شکار بھی ہے اسےایک نیک آدی حضرت سعدؓ کی بددعا لگ گئی ہے۔ کوئی ایسی آزمائش نہیں ہے جس کاو ہ شکار نہ ہوا ہو۔

جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ مِثْلَهُ، إِلَّا ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 73

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 74

74 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا الْعَلَاءُ بْنُ أَبِي الْعَبَّاسِ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا الطُّفَيْلِ يُحَدِّثُ عَنْ بَكْرِ بْنِ قَرْوَاشٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ: ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَا الثُّدَيَّةِ فَقَالَ: «شَيْطَانُ الرَّدْهَةِ رَاعِي الْجَبَلِ أَوْ رَاعٍ لِلْجَبَلِ يَحْتَدِرُهُ رَجُلٌ مِنْ بَجِيلَةَ يُقَالَ لَهُ الْأَشْهَبُ أَوِ ابْنُ الْأَشْهَبِ [ص:192] عَلَامَةٌ فِي قَوْمٍ ظَلَمَةٍ» قَالَ سُفْيَانُ فَأَخْبَرَنِي عَمَّارٌ الدُّهْنِيُّ أَنَّهُ جَاءَ بِهِ رَجُلٌ مِنْهُمْ يُقَالُ لَهُ الْأَشْهَبُ أَوِ ابْنُ الْأَشْهَبِ

حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺنے ذوثدیہ کا تذکرہ کرتے ہوئے ارشادفرمایا: وہ ردہہ کا شیطان ہے ،جو گھوڑوں کا چرواہا ہوگا (رادی کوشک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) پہاڑوں پر جانور چراتا ہوگا۔ بجیلہ قبیلے کا ایک فردا سے اوپر سے کھینچ کر نیچےکی طرف لائے گا اس کا نام اشہب ہوگا۔(راوی کوشک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) ابن اشہب ہوگا وہ تاریک قوم میں علامت ہوگا۔ سفیان کہتے ہیں: عمار دہنی نے مجھے یہ بات بتائی ہے، وہ اپنے ساتھ اپنے قبیلے کا ایک فردلے کے آیا جس کا نام اشہب تھا۔(راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) ابن اشہب تھا۔

الْعَلاَءِ بْنِ أَبِي الْعَبَّاسِ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 74

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 75

75 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي عَيَّاشٍ قَالَ: تَبَايَعَ رَجُلَانِ عَلَى عَهْدِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ بِسُلْتٍ وَشَعِيرٍ فَقَالَ سَعْدٌ تَبَايَعَ رَجُلَانِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتَمْرٍ وَرُطَبٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَنقُصُ الرُّطَبُ إِذَا يَبِسَ؟» قَالُوا نَعَمْ قَالَ «فَلَا إِذَا»

ابن عیاش نامی راوی کہتے ہیں: حضرت سعد بن ابی وقاص ؓکے عہد حکومت میں دو آدمیوں نے جو اور چھلکے کے بغیر جو، کا لین دین کیا، تو حضرت سعد ؓنے بتایا: نبی اکرمﷺکے زمانہ اقدس میں دو آدمیوں نے تازہ اور خشک کھجوروں کا لین دین کیا ،تو نبی اکرم اﷺنے دریافت کیا: تازہ کھجور جب خشک ہوجائے تو کیا کم ہو جاتی ہے؟ لوگوں نے جواب دیا: جی ہاں۔ نبی اکرم اﷺنے فرمایا :یہ ٹھیک نہیں ہے۔

«فَلَا إِذَا» ← نَعَمْ ← رَسُولُ اللَّهِ «يَنقُصُ الرُّطَبُ إِذَا يَبِسَ؟» ← سَعْدٌ: تَبَايَعَ رَجُلَانِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ بِتَمْرٍ وَرُطَبٍ، ← تَبَايَعَ رَجُلَانِ عَلَى عَهْدِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ بِسُلْتٍ وَشَعِيرٍ ← أَبِي عَيَّاشٍ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 75

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 76

76 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَهِيكٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَيْسَ مِنَّا مَنْ لَمْ يَتَغَنَّ بِالْقُرْآنِ» [ص:193] قَالَ سُفْيَانُ يَعْنِي يَسْتَغْنِي بِهِ

حضرت سعد بن ابی وقاصؓ بیان کرتے ہیں نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: "جوشخص قرآن کوخوش الحانی کے ساتھ ہیں پڑھتا وہ ہم میں سے نہیں ہے"۔سفیان کہتے ہیں : اس سے مرادا چھی آواز میں پڑھنا ہے۔

سَعْدَ بْنَ اَبِیْ وَقَّاصِ ← عُبَیْدِ اللہِ بْنِ اَبِیْ نَھِیکٍ ← ابْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 76

مسند الحميدي · کتاب ‹ أَحَادِيثُ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 77

77 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَهِيكٍ قَالَ: لَقِيَنِي سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ فِي السُّوقِ فَقَالَ: اتِّجَارُ كَسْبَةٍ اتِّجَارُ كَسْبَةٍ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَيْسَ مِنَّا مَنْ لَمْ يَتَغَنَّ بِالْقُرْآنِ»

عبداللہ بن ابونہیک بیان کرتے ہیں : حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ کی بازار میں مجھ سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے فرمایا: کیا تاجر لوگ کمائی کرنے والے ہیں؟ کیا تاجر لوگ کمائی کرنے والے ہیں؟ میں نے نبی اکرم ﷺکو یہ ارشاد فرماتےہوئے سنا ہے جوشخص قرآن خوش الحانی سے نہیں پڑھتاوہ ہم میں سے نہیں ہے۔

لَیْسَ مِنَّا مَنْ لَمْ یَتَغَنَّ بِالْقُرْآن۔ ← رَسُولِ اللَّهِ ← لَقِيَنِي سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ فِي السُّوقِ فَقَالَ: اتِّجَارُ كَسْبَةٍ اتِّجَارُ كَسْبَةٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي نَهِيكٍ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْکَةَ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ،

Masnad Humaidi · Book › Chapter · Hadith 77

chevron_left Previous
12
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    99. Chapter100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter136. Chapter
137. Chapter
138. Chapter
139. Chapter
140. Chapter
141. Chapter
142. Chapter
143. Chapter
144. Chapter
145. Chapter
146. Chapter
147. Chapter
148. Chapter
149. Chapter
150. Chapter
151. Chapter
152. Chapter
153. Chapter
154. Chapter
155. Chapter
156. Chapter
157. Chapter
158. Chapter
159. Chapter
160. Chapter
161. Chapter
162. Chapter
163. Chapter
164. Chapter
165. Chapter
166. Chapter
167. Chapter
168. Chapter
169. Chapter
170. Chapter
171. Chapter
172. Chapter
173. Chapter
174. Chapter
175. Chapter
176. Chapter
177. Chapter
178. Chapter
179. Chapter
180. Chapter
181. Chapter
182. Chapter
183. Chapter
184. Chapter
185. Chapter
186. Chapter
187. Chapter
188. Chapter
189. Chapter
190. Chapter
191. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter39. Chapter40. Chapter41. Chapter42. Chapter43. Chapter44. Chapter45. Chapter46. Chapter47. Chapter48. Chapter49. Chapter50. Chapter51. Chapter52. Chapter53. Chapter54. Chapter55. Chapter56. Chapter57. Chapter58. Chapter59. Chapter60. Chapter61. Chapter62. Chapter63. Chapter64. Chapter65. Chapter66. Chapter67. Chapter68. Chapter69. Chapter70. Chapter71. Chapter72. Chapter73. Chapter74. Chapter75. Chapter76. Chapter77. Chapter78. Chapter79. Chapter80. Chapter81. Chapter82. Chapter83. Chapter84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter